<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 12:25:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 12:25:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سابق وفاقی وزیر کو 26 سال قبل دی گئی سزا کالعدم قرار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505317/former-federal-ministers-sentence-declared-null-and-void</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کو 2000 میں دی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی نظرثانی درخواست منظور کرلی۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی شخص کو ماضی کے قانون کے تحت زیادہ سزا نہیں دی جاسکتی، جبکہ لاہور ہائیکورٹ کا 2002 میں دیا گیا بریت کا فیصلہ بھی بحال کردیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے انور سیف اللہ خان کی نظرثانی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 12 ماضی کے اثر سے سزا دینے پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ نیب آرڈیننس 1999 میں دی جانے والی سزا، اس وقت موجود سابقہ قوانین کے مقابلے میں زیادہ سخت تھی، اس لیے اس قانون کا اطلاق ماضی کے مقدمات پر نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ انور سیف اللہ خان نے بطور وزیر پیٹرولیم تمام تقرریاں اوپن ریکارڈ اور محکمانہ روایات کے مطابق کیں، جبکہ ان پر غیر قانونی تقرریوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں 20 جنوری 2016 کے اکثریتی فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ نے انور سیف اللہ خان کی سزا کے خلاف دائر نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا 13 جون 2002 کا بریت کا فیصلہ بحال کردیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کو 2000 میں دی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی نظرثانی درخواست منظور کرلی۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی شخص کو ماضی کے قانون کے تحت زیادہ سزا نہیں دی جاسکتی، جبکہ لاہور ہائیکورٹ کا 2002 میں دیا گیا بریت کا فیصلہ بھی بحال کردیا گیا۔</strong></p>
<p>سپریم کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے انور سیف اللہ خان کی نظرثانی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 12 ماضی کے اثر سے سزا دینے پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے۔</p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ نیب آرڈیننس 1999 میں دی جانے والی سزا، اس وقت موجود سابقہ قوانین کے مقابلے میں زیادہ سخت تھی، اس لیے اس قانون کا اطلاق ماضی کے مقدمات پر نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا کہ انور سیف اللہ خان نے بطور وزیر پیٹرولیم تمام تقرریاں اوپن ریکارڈ اور محکمانہ روایات کے مطابق کیں، جبکہ ان پر غیر قانونی تقرریوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں 20 جنوری 2016 کے اکثریتی فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔</p>
<p>عدالت عظمیٰ نے انور سیف اللہ خان کی سزا کے خلاف دائر نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا 13 جون 2002 کا بریت کا فیصلہ بحال کردیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505317</guid>
      <pubDate>Thu, 14 May 2026 10:51:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/14105440b054b81.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/14105440b054b81.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
