<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 17:58:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 17:58:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدر ٹرمپ چین میں شاندار مہمان نوازی پر خوش، شی جن پنگ کو دورۂ امریکا کی دعوت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505342/trump-inovites-xijinping-to-visit-us-on-24sep</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کے بعد اب صدر ٹرمپ کے اعزاز میں سرکاری تقریب شروع ہوچکی ہے۔ تقریب سے قبل گفتگو کرتے ہوئے شی جن پنگ اور صدر ٹرمپ دونوں ملکوں کے تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے انہیں مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے بعد بیجنگ کے ’گریٹ ہال آف پیپل‘ میں ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب شروع ہوچکی ہے۔ یہ وہی تاریخی عمارت ہے جہاں چین کی قومی اسمبلی کے سالانہ اجلاس اور کمیونسٹ پارٹی کی اہم ترین ملاقاتیں منعقد ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گریٹ پیپل ہال کی عمارت 1959 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی دسویں سالگرہ کے موقع پر صرف ایک سال میں تعمیر کی گئی تھی اور یہ تیان آن مین اسکوائر کے مغربی حصے میں واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل اسی عمارت کے ایسٹ ہال میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ ملاقات ہوئی، جو انتہائی خوبصورت اور دلفریب فن تعمیر، فانوس اور پینٹنگز موجود ہیں۔ یہ جگہ اعلیٰ سطح کی سفارتی ملاقاتوں کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب کے آغاز پر چینی صدر شی جن پنگ نے ٹرمپ کے دورۂ چین کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدرٹرمپ کےساتھ تمام معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی، چین اور امریکا مل کر ترقی کے منازل طے کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2054872772828930438'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2054872772828930438"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کی ’ری جوینیشن آف چائنہ‘ اور ’میگ امریکا گریٹ اگین‘ پالیسی ایک ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے تعلقات دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی کامیابی کےلیے مدد کرنی چاہیئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی صدر نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے اور ان تعلقات کو خراب ہونے سے بچانا عالمی مفاد میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ کو اپنا دوست قرار دیا اور کہا کہ دونوں کے درمیان انتہائی مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2054874145549083086'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2054874145549083086"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ کو 24 ستمبر کو امریکا آنے کی دعوت بھی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق اس موقع پر گفتگو کے دوران ٹرمپ کا رویہ بالکل الگ تھا۔ ان کی تقریر نسبتاً روایتی، محتاط اور اسکرپٹڈ انداز میں تھی، جو ان کے عمومی غیر رسمی اور براہِ راست طرزِ خطاب کے برعکس تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کے بعد اب صدر ٹرمپ کے اعزاز میں سرکاری تقریب شروع ہوچکی ہے۔ تقریب سے قبل گفتگو کرتے ہوئے شی جن پنگ اور صدر ٹرمپ دونوں ملکوں کے تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے انہیں مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے بعد بیجنگ کے ’گریٹ ہال آف پیپل‘ میں ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب شروع ہوچکی ہے۔ یہ وہی تاریخی عمارت ہے جہاں چین کی قومی اسمبلی کے سالانہ اجلاس اور کمیونسٹ پارٹی کی اہم ترین ملاقاتیں منعقد ہوتی ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ گریٹ پیپل ہال کی عمارت 1959 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی دسویں سالگرہ کے موقع پر صرف ایک سال میں تعمیر کی گئی تھی اور یہ تیان آن مین اسکوائر کے مغربی حصے میں واقع ہے۔</p>
<p>اس سے قبل اسی عمارت کے ایسٹ ہال میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ ملاقات ہوئی، جو انتہائی خوبصورت اور دلفریب فن تعمیر، فانوس اور پینٹنگز موجود ہیں۔ یہ جگہ اعلیٰ سطح کی سفارتی ملاقاتوں کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔</p>
<p>تقریب کے آغاز پر چینی صدر شی جن پنگ نے ٹرمپ کے دورۂ چین کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدرٹرمپ کےساتھ تمام معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی، چین اور امریکا مل کر ترقی کے منازل طے کرسکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2054872772828930438'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2054872772828930438"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کی ’ری جوینیشن آف چائنہ‘ اور ’میگ امریکا گریٹ اگین‘ پالیسی ایک ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے تعلقات دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی کامیابی کےلیے مدد کرنی چاہیئے۔</p>
<p>چینی صدر نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے اور ان تعلقات کو خراب ہونے سے بچانا عالمی مفاد میں ہے۔</p>
<p>بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ کو اپنا دوست قرار دیا اور کہا کہ دونوں کے درمیان انتہائی مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2054874145549083086'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2054874145549083086"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ٹرمپ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ کو 24 ستمبر کو امریکا آنے کی دعوت بھی دی۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق اس موقع پر گفتگو کے دوران ٹرمپ کا رویہ بالکل الگ تھا۔ ان کی تقریر نسبتاً روایتی، محتاط اور اسکرپٹڈ انداز میں تھی، جو ان کے عمومی غیر رسمی اور براہِ راست طرزِ خطاب کے برعکس تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505342</guid>
      <pubDate>Thu, 14 May 2026 16:14:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/141556584efe04f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/141556584efe04f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
