<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 21:37:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 21:37:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے چینی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505349/iran-allows-chinese-ships-to-pass-through-the-strait-of-hormuz</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے آبنائے ہرمز میں ایرانی ضوابط کے تحت بعض چینی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی ہے، یہ پیش رفت ایران اور چین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری اور سفارتی رابطوں کے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/china/iran-allowing-transit-chinese-vessels-strait-hormuz-fars-news-reports-2026-05-14/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق ایرانی خبر ایجنسی فارس نیوز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں چینی جہازوں کی محدود آمدورفت کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ چینی وزیر خارجہ اور ایران میں چینی سفیر کی درخواستوں کے بعد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق تہران نے دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کے تناظر میں متعدد چینی بحری جہازوں کی گزرگاہ کو آسان بنانے پر آمادگی ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504077/china-israel-iran-war-2026-export-oil-train-us-naval-blockade'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504077"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں آبنائے ہرمز کو توانائی کی آزادانہ ترسیل کے لیے کھلا رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے آغاز کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ بعد ازاں اپریل کے آغاز میں جنگ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے باعث صورت حال مزید پیچیدہ ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً ایک پانچواں توانائی کا بہاؤ گزرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503645/china-iran-uranium-custody-us-claim'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503645"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران ایران نے عندیہ دیا تھا کہ غیرجانبدار بحری جہاز، خصوصاً چین سے وابستہ جہاز، ایرانی افواج سے رابطے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق عراقی خام تیل کے 20 لاکھ بیرل لے جانے والا ایک چینی سپر ٹینکر بدھ کے روز آبنائے ہرمز سے گزر گیا، جو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث دو ماہ سے زائد عرصے تک خلیجی پانیوں میں پھنسا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے آبنائے ہرمز میں ایرانی ضوابط کے تحت بعض چینی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی ہے، یہ پیش رفت ایران اور چین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری اور سفارتی رابطوں کے بعد سامنے آئی ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/china/iran-allowing-transit-chinese-vessels-strait-hormuz-fars-news-reports-2026-05-14/">رائٹرز</a> کے مطابق ایرانی خبر ایجنسی فارس نیوز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں چینی جہازوں کی محدود آمدورفت کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ چینی وزیر خارجہ اور ایران میں چینی سفیر کی درخواستوں کے بعد کیا گیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق تہران نے دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کے تناظر میں متعدد چینی بحری جہازوں کی گزرگاہ کو آسان بنانے پر آمادگی ظاہر کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504077/china-israel-iran-war-2026-export-oil-train-us-naval-blockade'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504077"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں آبنائے ہرمز کو توانائی کی آزادانہ ترسیل کے لیے کھلا رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے آغاز کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ بعد ازاں اپریل کے آغاز میں جنگ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے باعث صورت حال مزید پیچیدہ ہوگئی۔</p>
<p>آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً ایک پانچواں توانائی کا بہاؤ گزرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503645/china-iran-uranium-custody-us-claim'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503645"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران ایران نے عندیہ دیا تھا کہ غیرجانبدار بحری جہاز، خصوصاً چین سے وابستہ جہاز، ایرانی افواج سے رابطے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق عراقی خام تیل کے 20 لاکھ بیرل لے جانے والا ایک چینی سپر ٹینکر بدھ کے روز آبنائے ہرمز سے گزر گیا، جو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث دو ماہ سے زائد عرصے تک خلیجی پانیوں میں پھنسا رہا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505349</guid>
      <pubDate>Thu, 14 May 2026 19:54:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/14194934e474f27.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/14194934e474f27.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
