<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 15 May 2026 22:27:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 15 May 2026 22:27:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیج عمان میں بھارتی جہاز کا ڈوبنا، فجیرہ سے سیکیورٹی شپ کی گمشدگی معمہ بن گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505395/sinking-of-indian-ship-in-gulf-of-oman-and-seize-of-ship-from-fujairah-became-mystery</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ کے اہم بحری تجارتی راستے ’آبنائے ہرمز‘ میں ایران-امریکا کشیدگی کے بعد اب ایک نئی ڈرامائی صورت حال سامنے آئی ہے، جہاں ایک بھارتی جہاز کے مبینہ طور پر حملے کے نتیجے میں ڈوبنے کے بعد ایک اور جہاز کو یرغمال بنا کر ایرانی پانیوں میں لے جانے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/iran-us-israel-war-oil-hormuz-may-14-2026-efb53c39ee6334733e1cb22ca4a6c279"&gt;ایسوسی ایٹڈ پریس&lt;/a&gt; کے مطابق برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) نے بتایا ہے کہ جمعرات کے روز نامعلوم افراد متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب لنگر انداز ایک جہاز پر سوار ہوئے اور اسے قبضے میں لے کر ایران کی سمت روانہ ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز ایرانی پانیوں کی طرف بڑھ رہا ہے، تاہم جہاز کی ملکیت یا قبضہ کرنے والے گروہ سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/UK_MTO/status/2054819091525824985'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/UK_MTO/status/2054819091525824985"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cx219xwxg9no"&gt;بی بی سی&lt;/a&gt; نے برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ کمپنی ’وینگارڈ‘ کے حوالے سے بتایا کہ یہ ’ہونڈوراس‘ کا پرچم بردار جہاز ’ہوئی چوان‘ ہے جسے ایرانی فوجی اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ہوئی چوان‘ نے آخری بار متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے تقریباً 70 کلومیٹر شمال مشرق میں اپنی لوکیشن شیئرکی تھی۔ سیکیورٹی افسر نے اطلاع دی تھی کہ جہاز کو ایرانی اہلکاروں نے اپنے قبضے میں لیا ہے، جس کے بعد جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے سے ایک روز قبل ہی عمان کے ساحل کے قریب ایک بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کے سمندر برد ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد بھارت نے تصدیق کی تھی کہ متاثرہ ’حاجی علی‘ نامی یہ جہاز صومالیہ سے مویشی لے کر متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ جا رہا تھا کہ اس دوران اس میں آگ بھڑک اٹھی اور جہاز سمندر برد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ جہاز رانی کے مطابق اس واقعے میں جہاز پر سوار 14 رکنی بھارتی عملے  کو عمان کے کوسٹ گارڈ نے ریسکیو کیا اور وہ محفوظ ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MEAIndia/status/2054838437652709585'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MEAIndia/status/2054838437652709585"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا اور معصوم شہری عملے کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ قبول ہے اور آزاد  بحری نقل و حرکت کو متاثر کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے، تاہم بیان میں نہ ہی جہاز کے ڈوبنے کی وجہ بتائی گئی اور نہ ہی کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پراسرار واقعات میں کون ملوث ہے؟ اس حوالے سے کسی سرکاری آفیشنل کا کوئی بیان سامنے آیا، نہ ہی کسی گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول کی، جس کے بعد یہ معاملہ ایک معمہ بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بھارت نے بحری جہاز پر حملے کی نوعیت یا ذمہ داروں کی نشاندہی نہیں کی، تاہم برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ کمپنی ’وینگارڈ‘ نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ جہاز ممکنہ طور پر ڈرون یا میزائل حملے کا نشانہ بنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز کو دنیا کے بحری تجارت کے اہم ترین راستوں میں شمار کیا جاتا ہے، ایران جنگ سے قبل اس راستے سے عالمی تیل اور گیس کا تقریباً 20 فیصد یومیہ گزرتا تھا، تاہم خطے میں جاری جنگ اور حملوں کے باعث اس راستے کی بندش سے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل متاثر ہوچکی ہے اور عالمی منڈیوں پر بھی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں بھی آبنائے ہرمز کی صورت حال زیرِ بحث آئی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی آزادانہ ترسیل کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جس وقت خلیج کے پانیوں میں بھارتی جہاز پر حملے اور ہونڈراس کے جہاز کے لاپتہ ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے، اس وقت ایران کے وزیر خارجہ  ’برکس‘ اجلاس کے سلسلے میں بھارت میں ہی موجود تھے۔ اجلاس کے دوران عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے روایتی مؤقف دہرایا کہ یہ بحری راستہ تجارتی جہازوں کے لیے کھلا ہے، بشرطیکہ وہ ایرانی بحریہ سے تعاون کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/sentdefender/status/2054991095239762347'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sentdefender/status/2054991095239762347"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ لاپتہ ہونے والے بحری جہاز سے متعلق برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ کمپنی ’وینگارڈ‘ کا کہنا تھا کہ جہاز بطور ’فلوٹنگ آرمری‘ کام کر رہا تھا یعنی اس پر اسلحے کا ذخیرہ موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایسے جہاز عموماً بحیرہ احمر، خلیج عدن اور خلیج عمان میں موجود رہتے ہیں اور بحری سیکیورٹی اہلکار سمندری قزاقوں سے تحفظ کے لیے ان سے ضرورت کے مطابق اسلحہ حاصل یا واپس کرتے ہیں۔ شپ ٹریکنگ معلومات کے مطابق یہ جہاز گزشتہ ایک ماہ سے عمان اور متحدہ عرب امارات کے شمال مشرقی ساحلوں کے قریب موجود تھا۔ تاہم وسطی امریکی ملک ہونڈوراس نے اس جہاز کی گمشدگی سے متعلق تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ کے اہم بحری تجارتی راستے ’آبنائے ہرمز‘ میں ایران-امریکا کشیدگی کے بعد اب ایک نئی ڈرامائی صورت حال سامنے آئی ہے، جہاں ایک بھارتی جہاز کے مبینہ طور پر حملے کے نتیجے میں ڈوبنے کے بعد ایک اور جہاز کو یرغمال بنا کر ایرانی پانیوں میں لے جانے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/iran-us-israel-war-oil-hormuz-may-14-2026-efb53c39ee6334733e1cb22ca4a6c279">ایسوسی ایٹڈ پریس</a> کے مطابق برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) نے بتایا ہے کہ جمعرات کے روز نامعلوم افراد متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب لنگر انداز ایک جہاز پر سوار ہوئے اور اسے قبضے میں لے کر ایران کی سمت روانہ ہو گئے۔</p>
<p>برطانوی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز ایرانی پانیوں کی طرف بڑھ رہا ہے، تاہم جہاز کی ملکیت یا قبضہ کرنے والے گروہ سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/UK_MTO/status/2054819091525824985'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/UK_MTO/status/2054819091525824985"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cx219xwxg9no">بی بی سی</a> نے برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ کمپنی ’وینگارڈ‘ کے حوالے سے بتایا کہ یہ ’ہونڈوراس‘ کا پرچم بردار جہاز ’ہوئی چوان‘ ہے جسے ایرانی فوجی اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ہوئی چوان‘ نے آخری بار متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے تقریباً 70 کلومیٹر شمال مشرق میں اپنی لوکیشن شیئرکی تھی۔ سیکیورٹی افسر نے اطلاع دی تھی کہ جہاز کو ایرانی اہلکاروں نے اپنے قبضے میں لیا ہے، جس کے بعد جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔</p>
<p>اس واقعے سے ایک روز قبل ہی عمان کے ساحل کے قریب ایک بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کے سمندر برد ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد بھارت نے تصدیق کی تھی کہ متاثرہ ’حاجی علی‘ نامی یہ جہاز صومالیہ سے مویشی لے کر متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ جا رہا تھا کہ اس دوران اس میں آگ بھڑک اٹھی اور جہاز سمندر برد ہو گیا۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ جہاز رانی کے مطابق اس واقعے میں جہاز پر سوار 14 رکنی بھارتی عملے  کو عمان کے کوسٹ گارڈ نے ریسکیو کیا اور وہ محفوظ ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MEAIndia/status/2054838437652709585'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MEAIndia/status/2054838437652709585"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا اور معصوم شہری عملے کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ قبول ہے اور آزاد  بحری نقل و حرکت کو متاثر کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے، تاہم بیان میں نہ ہی جہاز کے ڈوبنے کی وجہ بتائی گئی اور نہ ہی کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔</p>
<p>ان پراسرار واقعات میں کون ملوث ہے؟ اس حوالے سے کسی سرکاری آفیشنل کا کوئی بیان سامنے آیا، نہ ہی کسی گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول کی، جس کے بعد یہ معاملہ ایک معمہ بن گیا ہے۔</p>
<p>اگرچہ بھارت نے بحری جہاز پر حملے کی نوعیت یا ذمہ داروں کی نشاندہی نہیں کی، تاہم برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ کمپنی ’وینگارڈ‘ نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ جہاز ممکنہ طور پر ڈرون یا میزائل حملے کا نشانہ بنا ہے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز کو دنیا کے بحری تجارت کے اہم ترین راستوں میں شمار کیا جاتا ہے، ایران جنگ سے قبل اس راستے سے عالمی تیل اور گیس کا تقریباً 20 فیصد یومیہ گزرتا تھا، تاہم خطے میں جاری جنگ اور حملوں کے باعث اس راستے کی بندش سے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل متاثر ہوچکی ہے اور عالمی منڈیوں پر بھی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں بھی آبنائے ہرمز کی صورت حال زیرِ بحث آئی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی آزادانہ ترسیل کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔</p>
<p>یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جس وقت خلیج کے پانیوں میں بھارتی جہاز پر حملے اور ہونڈراس کے جہاز کے لاپتہ ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے، اس وقت ایران کے وزیر خارجہ  ’برکس‘ اجلاس کے سلسلے میں بھارت میں ہی موجود تھے۔ اجلاس کے دوران عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے روایتی مؤقف دہرایا کہ یہ بحری راستہ تجارتی جہازوں کے لیے کھلا ہے، بشرطیکہ وہ ایرانی بحریہ سے تعاون کریں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/sentdefender/status/2054991095239762347'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sentdefender/status/2054991095239762347"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ لاپتہ ہونے والے بحری جہاز سے متعلق برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ کمپنی ’وینگارڈ‘ کا کہنا تھا کہ جہاز بطور ’فلوٹنگ آرمری‘ کام کر رہا تھا یعنی اس پر اسلحے کا ذخیرہ موجود تھا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایسے جہاز عموماً بحیرہ احمر، خلیج عدن اور خلیج عمان میں موجود رہتے ہیں اور بحری سیکیورٹی اہلکار سمندری قزاقوں سے تحفظ کے لیے ان سے ضرورت کے مطابق اسلحہ حاصل یا واپس کرتے ہیں۔ شپ ٹریکنگ معلومات کے مطابق یہ جہاز گزشتہ ایک ماہ سے عمان اور متحدہ عرب امارات کے شمال مشرقی ساحلوں کے قریب موجود تھا۔ تاہم وسطی امریکی ملک ہونڈوراس نے اس جہاز کی گمشدگی سے متعلق تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505395</guid>
      <pubDate>Fri, 15 May 2026 20:13:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/15200348038eb05.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/15200348038eb05.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
