<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 16 May 2026 11:16:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 16 May 2026 11:16:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے الیکٹرک شہری کی ہلاکت کی ذمہ دار قرار، 1 کروڑ 35 لاکھ روپے ہرجانہ ادائیگی کا حکم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505409/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کی سٹی کورٹ نے بارش کے دوران بچے کو بچاتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے شہری شیخ سعد احمد کے کیس میں کے الیکٹرک کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ رقم 90 روز کے اندر اہلخانہ کو ادا کی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیئر سول جج وسطی کی عدالت میں بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے شہری کی ہلاکت کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے کے الیکٹرک پر جرمانہ عائد کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شہری شیخ سعد احمد 2019 میں بارش کے دوران ایک بچے کو بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے سے بچانے کی کوشش کررہا تھا کہ خود کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/233906'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/233906"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وکیل کے مطابق علاقہ مکینوں نے پہلے ہی کے الیکٹرک کو کھمبے میں کرنٹ کی شکایت کی تھی، تاہم مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک بجلی کے نظام اور تنصیبات کی مناسب دیکھ بھال میں ناکام رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مزید بتایا کہ متوفی شیخ سعد اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا اور ملازمت کرکے اپنی تعلیم کے ساتھ گھر کے اخراجات بھی پورے کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کے الیکٹرک کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ متعلقہ پول کے الیکٹرک کی ملکیت نہیں تھا، جبکہ اس پر پرائیویٹ جنریٹر، ٹیلی فون اور کیبل کی تاریں بھی لگی ہوئی تھیں۔ وکیل کے مطابق کرنٹ کا اخراج جنریٹر کی تاروں سے ہوا اور کے الیکٹرک کی تنصیبات مکمل طور پر محفوظ تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک کے وکیل نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ متوفی شہری نے خطرناک مقام کے قریب جا کر اپنی جان خطرے میں ڈالی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30404874'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30404874"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بجلی فراہم کرنے والے ادارے پر عوام کے تحفظ کی غیر معمولی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کھمبے پر دیگر اداروں کی تاروں کی موجودگی سے کے الیکٹرک اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ عوامی مقام پر نصب بجلی کے پول میں کرنٹ ہونا بذات خود غفلت کا ثبوت ہے، جبکہ انسانی جان بچانے کی کوشش کو مکمل غفلت قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ قانون انسانی جان بچانے کی کوشش کو نرم نظر سے دیکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے جان لیوا حادثات ایکٹ کے تحت کے الیکٹرک کو ایک کروڑ 35 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ رقم 90 روز میں متوفی کے اہلخانہ کو ادا کی جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کی سٹی کورٹ نے بارش کے دوران بچے کو بچاتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے شہری شیخ سعد احمد کے کیس میں کے الیکٹرک کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ رقم 90 روز کے اندر اہلخانہ کو ادا کی جائے۔</strong></p>
<p>سینیئر سول جج وسطی کی عدالت میں بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے شہری کی ہلاکت کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے کے الیکٹرک پر جرمانہ عائد کردیا۔</p>
<p>درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شہری شیخ سعد احمد 2019 میں بارش کے دوران ایک بچے کو بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے سے بچانے کی کوشش کررہا تھا کہ خود کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/233906'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/233906"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وکیل کے مطابق علاقہ مکینوں نے پہلے ہی کے الیکٹرک کو کھمبے میں کرنٹ کی شکایت کی تھی، تاہم مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک بجلی کے نظام اور تنصیبات کی مناسب دیکھ بھال میں ناکام رہا۔</p>
<p>عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مزید بتایا کہ متوفی شیخ سعد اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا اور ملازمت کرکے اپنی تعلیم کے ساتھ گھر کے اخراجات بھی پورے کرتا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب کے الیکٹرک کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ متعلقہ پول کے الیکٹرک کی ملکیت نہیں تھا، جبکہ اس پر پرائیویٹ جنریٹر، ٹیلی فون اور کیبل کی تاریں بھی لگی ہوئی تھیں۔ وکیل کے مطابق کرنٹ کا اخراج جنریٹر کی تاروں سے ہوا اور کے الیکٹرک کی تنصیبات مکمل طور پر محفوظ تھیں۔</p>
<p>کے الیکٹرک کے وکیل نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ متوفی شہری نے خطرناک مقام کے قریب جا کر اپنی جان خطرے میں ڈالی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30404874'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30404874"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بجلی فراہم کرنے والے ادارے پر عوام کے تحفظ کی غیر معمولی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کھمبے پر دیگر اداروں کی تاروں کی موجودگی سے کے الیکٹرک اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔</p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ عوامی مقام پر نصب بجلی کے پول میں کرنٹ ہونا بذات خود غفلت کا ثبوت ہے، جبکہ انسانی جان بچانے کی کوشش کو مکمل غفلت قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ قانون انسانی جان بچانے کی کوشش کو نرم نظر سے دیکھتا ہے۔</p>
<p>عدالت نے جان لیوا حادثات ایکٹ کے تحت کے الیکٹرک کو ایک کروڑ 35 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ رقم 90 روز میں متوفی کے اہلخانہ کو ادا کی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505409</guid>
      <pubDate>Sat, 16 May 2026 09:54:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شمیل احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1609430644cc0db.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1609430644cc0db.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
