<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 17 May 2026 20:02:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 17 May 2026 20:02:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ابوظہبی میں ایٹمی بجلی گھر پر ڈرون حملہ، جنریٹر میں آگ بھڑک اٹھی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505469/fire-brokes-out-in-abu-dhabi-industrial-area</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ریجن میں واقع براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملہ ہوا ہے۔ حکام اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے جاری بیانات کے مطابق  حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، پلانٹ کے اندر موجود جوہری نظام مکمل طور پر محفوظ ہے اور تابکاری کی سطح بھی معمول کے مطابق ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے بیرونی حصے میں نصب الیکٹریکل جنریٹر کے ڈرون حملے کی زد میں آنے کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔ واقعے کے فوری بعد امدادی اور سیکیورٹی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پالیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/abu-dhabi-says-drone-strike-caused-fire-barakah-nuclear-power-plant-no-injuries-2026-05-17/"&gt;رائٹرز &lt;/a&gt;کے مطابق فیڈرل اتھارٹی فار نیوکلیئر ریگولیشن نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے سے پلانٹ کے بنیادی اور اہم سسٹمز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، تمام یونٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور تابکاری کے پھیلاؤ کا کوئی خطرہ یا اثر رپورٹ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ADMediaOffice/status/2055953520302682178'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ADMediaOffice/status/2055953520302682178"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے اس واقعے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی ناقابلِ قبول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی کے ڈائریکٹر رافیل گروسی نے صورت حال سے متعلق بتایا ہے کہ واقعے کے بعد فی الحال پلانٹ کے ’یونٹ 3‘ کو ایمرجنسی ڈیزل جنریٹرز کے ذریعے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/iaeaorg/status/2055974241313361927'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/iaeaorg/status/2055974241313361927"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جوہری حادثے کے خطرے سے بچنے کے لیے نیوکلیئر پاور پلانٹس کے قریب انتہائی عسکری تحمل کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔ آئی اے ای اے اماراتی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ضرورت پڑنے پر ہر ممکنہ تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یو اے ای کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان میں اس ڈرون حملے کی ذمہ داری کسی پر عائد نہیں کی گئی ہے اور عوام کو افواہوں یا غیر تصدیق شدہ معلومات کو پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ریجن میں واقع براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملہ ہوا ہے۔ حکام اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے جاری بیانات کے مطابق  حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، پلانٹ کے اندر موجود جوہری نظام مکمل طور پر محفوظ ہے اور تابکاری کی سطح بھی معمول کے مطابق ہے۔</strong></p>
<p>ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے بیرونی حصے میں نصب الیکٹریکل جنریٹر کے ڈرون حملے کی زد میں آنے کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔ واقعے کے فوری بعد امدادی اور سیکیورٹی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پالیا گیا۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/abu-dhabi-says-drone-strike-caused-fire-barakah-nuclear-power-plant-no-injuries-2026-05-17/">رائٹرز </a>کے مطابق فیڈرل اتھارٹی فار نیوکلیئر ریگولیشن نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے سے پلانٹ کے بنیادی اور اہم سسٹمز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، تمام یونٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور تابکاری کے پھیلاؤ کا کوئی خطرہ یا اثر رپورٹ نہیں ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ADMediaOffice/status/2055953520302682178'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ADMediaOffice/status/2055953520302682178"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے اس واقعے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی ناقابلِ قبول ہے۔</p>
<p>ایجنسی کے ڈائریکٹر رافیل گروسی نے صورت حال سے متعلق بتایا ہے کہ واقعے کے بعد فی الحال پلانٹ کے ’یونٹ 3‘ کو ایمرجنسی ڈیزل جنریٹرز کے ذریعے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/iaeaorg/status/2055974241313361927'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/iaeaorg/status/2055974241313361927"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جوہری حادثے کے خطرے سے بچنے کے لیے نیوکلیئر پاور پلانٹس کے قریب انتہائی عسکری تحمل کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔ آئی اے ای اے اماراتی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ضرورت پڑنے پر ہر ممکنہ تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ یو اے ای کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان میں اس ڈرون حملے کی ذمہ داری کسی پر عائد نہیں کی گئی ہے اور عوام کو افواہوں یا غیر تصدیق شدہ معلومات کو پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505469</guid>
      <pubDate>Sun, 17 May 2026 18:03:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1715421096bc19a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1715421096bc19a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
