<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 17 May 2026 23:49:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 17 May 2026 23:49:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کے خلاف پاکستان کے حق میں بڑا فیصلہ دے دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505478/international-court-of-arbitration-gives-major-verdict-in-favor-of-pakistan-against-india</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی سطح پر سندھ طاس معاہدے سے متعلق تنازع میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے مؤقف کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پرپاکستانی مؤقف انصاف پر مبنی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ثالثی عدالت نے پاکستانی مؤقف کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور بھارت سندھ طاس معاہدے پر سفارتی، قانونی اور اخلاقی محاذ پر بھارت مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی عدالت نے کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ضمانت کے تحت قائم بین الاقوامی معاہدہ ہے، بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا اور پاکستان کا موقف انڈس واٹر ٹریٹی کی درست قانونی تشریح اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505434/india-reaction-court-of-arbitration-indus-waters'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505434"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے بتایا کہ بھارت مغربی دریاؤں پر کسی بھی ہائیڈرو پاور منصوبے میں اپنی مرضی سے پانی ذخیرہ نہیں کر سکتا، بھارت کو آبی وسائل کا آپریشنل ڈیٹا پاکستان کو فراہم کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں بھارت کو ہدایت کی گئی ہے کہ بھارت کشن گنگا اور ریتلے منصوبوں سے متعلق تمام متعلقہ تکنیکی اور ہائیڈرولوجیکل معلومات پاکستان کے ساتھ شیئر کرے، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل یا غیر مؤثر قرار دینے کا بیانیہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ثالثی عدالت نے ماحولیاتی بہاؤ سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو بھی تسلیم کرتے ہوئے بھارت پر ذمہ داریاں عائد کر دیں جب کہ بھارت کی خطے میں پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کو عالمی ثالثی عدالت نے مسترد کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی ماہرین نے بتایا کہ بھارت اپنی کمزور قانونی پوزیشن کے باعث عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو مسلسل مسترد کر رہا ہے، بھارتی بائیکاٹ کے باوجود عدالت نے کارروائی جاری رکھتے ہوئے اہم قانونی نکات پر فیصلہ دے دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30456462/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30456462"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون، غیرجانب دار انصاف اور معاہداتی ذمہ داریوں کی فتح قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اپریل 2025 میں پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے پاکستان نے یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے اسٹیٹس کے حوالے سے ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں معاہدے کی تشریح اور اس کے اطلاق کا تفصیلی جائزہ لینے کی استدعا کی گئی تھی۔ یہ معاملہ خاص طور پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں کے مخصوص ڈیزائن اور ان کے سندھ، جہلم، چناب اور ان کے معاون دریاؤں پر اثرات سے متعلق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثالثی عدالت نے 28 اپریل کو اس کیس کی تین روزہ سماعت مکمل کی، جس کے دوران پاکستان کے مؤقف کو ابتدائی طور پر تسلیم کیا گیا۔ عدالت نے دو اہم نکات پر غور و خوض شروع کیا ہے، جن میں بھارت کے منصوبوں کو روکنے کی پاکستانی درخواست اور سندھ طاس معاہدے کی موجودہ قانونی حیثیت کا جائزہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبصرین کے مطابق ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد بھارت کا سخت اور مسلسل ردعمل اس کی بوکھلاہٹ اور ہٹ دھرمی کو ظاہر کرتا ہے، جسے سفارتی دباؤ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جب کہ پاکستان مسلسل سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد اور عالمی ثالثی نظام کی حمایت کرتا آیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498599/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498599"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے مابین عالمی بینک کی ثالثی سے 1960 میں معاہدہ طے پایا تھا۔ اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک مستقل حل اور منصفانہ طریقہ کار بنانا تھا، کیونکہ برصغیر کی تقسیم کے بعد دریاؤں کا نظام مشترکہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے تحت بھارت کو 3 مشرقی دریاؤں بیاس ، راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملتا ہے، تینوں مشرقی دریاؤں پر بھارت کا کنٹرول زیادہ ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر سے نکلنے والے مغربی دریاؤں چناب اور جہلم اور سندھ کا زیادہ پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے باوجود بھارت کی جانب سے مسلسل اس کی خلاف ورزیاں جاری رہی ہیں، بھارت نے معاہدے کے باوجود پاکستان کو پانی سے محروم رکھا ہے۔ مزید یہ کہ بھارت کو ان دریاؤں کے پانی سے بجلی بنانے کا حق تو ہے لیکن پانی ذخیرہ کرنے یا بہاؤ کو کم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کی ضرورت 1948 میں اس وقت پیش آئی جب انڈیا کی جانب سے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کردیا گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 19 ستمبر1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی سطح پر سندھ طاس معاہدے سے متعلق تنازع میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے مؤقف کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پرپاکستانی مؤقف انصاف پر مبنی ہے۔</strong></p>
<p>عالمی ثالثی عدالت نے پاکستانی مؤقف کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور بھارت سندھ طاس معاہدے پر سفارتی، قانونی اور اخلاقی محاذ پر بھارت مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے۔</p>
<p>عالمی عدالت نے کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ضمانت کے تحت قائم بین الاقوامی معاہدہ ہے، بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا اور پاکستان کا موقف انڈس واٹر ٹریٹی کی درست قانونی تشریح اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505434/india-reaction-court-of-arbitration-indus-waters'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505434"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عدالت نے بتایا کہ بھارت مغربی دریاؤں پر کسی بھی ہائیڈرو پاور منصوبے میں اپنی مرضی سے پانی ذخیرہ نہیں کر سکتا، بھارت کو آبی وسائل کا آپریشنل ڈیٹا پاکستان کو فراہم کرنا ہوگا۔</p>
<p>فیصلے میں بھارت کو ہدایت کی گئی ہے کہ بھارت کشن گنگا اور ریتلے منصوبوں سے متعلق تمام متعلقہ تکنیکی اور ہائیڈرولوجیکل معلومات پاکستان کے ساتھ شیئر کرے، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل یا غیر مؤثر قرار دینے کا بیانیہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے۔</p>
<p>عالمی ثالثی عدالت نے ماحولیاتی بہاؤ سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو بھی تسلیم کرتے ہوئے بھارت پر ذمہ داریاں عائد کر دیں جب کہ بھارت کی خطے میں پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کو عالمی ثالثی عدالت نے مسترد کر دیا۔</p>
<p>قانونی ماہرین نے بتایا کہ بھارت اپنی کمزور قانونی پوزیشن کے باعث عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو مسلسل مسترد کر رہا ہے، بھارتی بائیکاٹ کے باوجود عدالت نے کارروائی جاری رکھتے ہوئے اہم قانونی نکات پر فیصلہ دے دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30456462/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30456462"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان نے عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون، غیرجانب دار انصاف اور معاہداتی ذمہ داریوں کی فتح قرار دے دیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ اپریل 2025 میں پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے پاکستان نے یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔</p>
<p>پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے اسٹیٹس کے حوالے سے ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں معاہدے کی تشریح اور اس کے اطلاق کا تفصیلی جائزہ لینے کی استدعا کی گئی تھی۔ یہ معاملہ خاص طور پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں کے مخصوص ڈیزائن اور ان کے سندھ، جہلم، چناب اور ان کے معاون دریاؤں پر اثرات سے متعلق تھا۔</p>
<p>ثالثی عدالت نے 28 اپریل کو اس کیس کی تین روزہ سماعت مکمل کی، جس کے دوران پاکستان کے مؤقف کو ابتدائی طور پر تسلیم کیا گیا۔ عدالت نے دو اہم نکات پر غور و خوض شروع کیا ہے، جن میں بھارت کے منصوبوں کو روکنے کی پاکستانی درخواست اور سندھ طاس معاہدے کی موجودہ قانونی حیثیت کا جائزہ شامل ہے۔</p>
<p>مبصرین کے مطابق ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد بھارت کا سخت اور مسلسل ردعمل اس کی بوکھلاہٹ اور ہٹ دھرمی کو ظاہر کرتا ہے، جسے سفارتی دباؤ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جب کہ پاکستان مسلسل سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد اور عالمی ثالثی نظام کی حمایت کرتا آیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498599/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498599"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے مابین عالمی بینک کی ثالثی سے 1960 میں معاہدہ طے پایا تھا۔ اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک مستقل حل اور منصفانہ طریقہ کار بنانا تھا، کیونکہ برصغیر کی تقسیم کے بعد دریاؤں کا نظام مشترکہ تھا۔</p>
<p>معاہدے کے تحت بھارت کو 3 مشرقی دریاؤں بیاس ، راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملتا ہے، تینوں مشرقی دریاؤں پر بھارت کا کنٹرول زیادہ ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر سے نکلنے والے مغربی دریاؤں چناب اور جہلم اور سندھ کا زیادہ پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔</p>
<p>معاہدے کے باوجود بھارت کی جانب سے مسلسل اس کی خلاف ورزیاں جاری رہی ہیں، بھارت نے معاہدے کے باوجود پاکستان کو پانی سے محروم رکھا ہے۔ مزید یہ کہ بھارت کو ان دریاؤں کے پانی سے بجلی بنانے کا حق تو ہے لیکن پانی ذخیرہ کرنے یا بہاؤ کو کم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔</p>
<p>اس معاہدے کی ضرورت 1948 میں اس وقت پیش آئی جب انڈیا کی جانب سے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کردیا گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 19 ستمبر1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505478</guid>
      <pubDate>Sun, 17 May 2026 20:54:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شوکت پراچہ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/17205002b4a7ec4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/17205002b4a7ec4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
