<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 18 May 2026 10:50:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 18 May 2026 10:50:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صیہونی رہنماؤں کی اسٹرٹیجک ناکامی، بین گوریون کا فلسطینیوں سے متعلق اندازہ غلط کیسے ہوا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505486/david-ben-gurion-zionists-gaza-israeli-attrocities-nakba-palestine-history-of-palestine-israel</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب یورپی یہودی آباد کاروں نے سال 1948 میں اسرائیل کے قیام کے لیے فلسطینیوں کی منظم اور پرتشدد نسلی کشی کا آغاز کیا، تو ان کا خیال تھا کہ فلسطینی آبادی ان کے لیے کوئی بڑا مسئلہ ثابت نہیں ہوگی۔ درحقیقت، ڈیوڈ بین گوریون جیسے صہیونی رہنماؤں کا یہ پختہ یقین تھا کہ مہاجرین کا یہ مسئلہ وقت کے ساتھ خود بخود حل ہو جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صیہونیوں کے ذہنوں میں یہ بات گہری بیٹھی ہوئی تھی کہ فلسطینیوں کی کوئی اپنی قومی شناخت نہیں ہے، اس لیے وہ مارے باندھے پڑوسی عرب ممالک میں فرار ہو جائیں گے اور وہیں کی آبادیوں میں ضم ہو جائیں گے، اور اپنی چوری شدہ زمین پر دعویٰ کرنے کبھی واپس نہیں لوٹیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ جو کچھ ہوا، وہ اس سوچ کے بالکل برعکس تھا۔ دہائی در دہائی گزرنے کے ساتھ فلسطینیوں کی قومی تحریک کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوتی چلی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505229'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505229"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آج 1948 کے سانحہ نکبہ کے چشم دید گواہ بہت کم رہ گئے ہیں، لیکن فلسطینی حقوق اور تاریخی انصاف کے لیے ان کی نئی نسلوں کا قومی عزم اتنا ہی مضبوط ہے جتنا پہلے دن تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کی پرانی نسلوں نے اپنے بچوں کو اس صدمے کو بھول کر آگے بڑھنا نہیں سکھایا، بلکہ انہوں نے نئی نسل کو یاد رکھنا سکھایا اور اپنے آبائی گھروں کی چابیاں ان کے ذہنوں میں محفوظ کر دیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/18090551670a89e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/18090551670a89e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مہاجرین کا یہ مسئلہ صیہونی رہنماؤں کی سوچ کے مطابق اس لیے بھی حل نہ ہو سکا کیونکہ اسرائیل کی تشدد، زمین پر قبضے اور بے دخلی کی پالیسیوں کا الٹا اثر ہوا۔ اسرائیل جوں جوں فلسطینیوں کی زمینوں اور وسائل پر قابض ہوتا گیا، وہ فلسطینیوں کے شعور اور ان کی یادداشت پر قابض ہونے میں بری طرح ناکام رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ فلسطینی مہاجرین جنہیں ان کے گھروں سے نکالا گیا، وہی آگے چل کر مزاحمت کے سب سے بڑے علمبردار بنے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/180909031c74e65.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/180909031c74e65.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے پناہ گزین کیمپ پرامن اور مسلح جدوجہد کے مراکز بن گئے جہاں سے ایسے مفکرین، ڈاکٹرز، ماہرینِ تعلیم اور رہنما پیدا ہوئے جنہوں نے دنیا کو صرف ایک ہی پیغام دیا کہ اسرائیلی قبضہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی مہاجرین 1987 کی پہلی انتفاضہ اور سال 2000 کی دوسری انتفاضہ تحریک کے روحِ رواں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب اسرائیل نے دیکھا کہ وہ انہیں دبا نہیں پا رہا، تو اس نے اپنے ظلم میں مزید اضافہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بار بار کے قتلِ عام اور اجتماعی قید و بند کی صعوبتیں بھی فلسطینیوں کو اپنا غلام نہ بنا سکیں، اور غزہ کی پٹی اس کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں 80 فیصد آبادی مہاجرین پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/18091127917a9e2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/18091127917a9e2.webp'  alt=' 1948: نکبہ کا ایک منظر ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;1948: نکبہ کا ایک منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر 2023 میں غزہ پر شروع کیے جانے والے حملوں کے بعد اسرائیلی حکومت نے اس جنگ کو اپنے وجود کی جنگ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اسرائیل آج خود یہ تسلیم کرتا ہے کہ نکبہ کا سامنا کرنے والوں کی چوتھی نسل اس کے وجود کے لیے خطرہ ہے، تو یہ دراصل ڈیوڈ بین گوریون کی پیش گوئی کے زمین بوس ہونے اور اسرائیلی منصوبے کی اسٹریٹجک ناکامی کا کھلا اعتراف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل اب طاقت کے استعمال کے ایک ایسے جال میں پھنس چکا ہے جہاں وہ جتنا زیادہ ظلم اور قتلِ عام کرتا ہے، فلسطینی عوام میں مزاحمت کا جذبہ اتنا ہی گہرا ہوتا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی حالیہ صورتحال اس تضاد کی واضح مثال ہے جہاں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید، ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد زخمی اور 19 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/18090948575dfe4.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/18090948575dfe4.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آج خیمے میں پیدا ہونے والے ایک فلسطینی بچے کو، جو اپنے خاندان، اسکول، اسپتال اور گھر سے محروم ہے، یہ سمجھنے کے لیے کسی طویل تاریخی کتاب کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کی اس حالت کا ذمہ دار کون ہے اور انصاف کیسے حاصل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی بربریت کا یہ نقصان صرف فلسطین تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30443995'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30443995"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی کاز اب مغرب سمیت دنیا بھر میں ایک اہم اخلاقی سوال بن چکا ہے، جہاں عام شہری اور سماجی کارکن تمام تر ریاستی دباؤ اور گرفتاریوں کے باوجود فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک کے مقامی انتخابات میں اب یہ ایک بڑا عامل بن چکا ہے جہاں اسرائیل کی حمایت کرنے والے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ڈیوڈ بین گوریون آج زندہ ہوتا، تو وہ یہ دیکھ کر مایوس ہو جاتا کہ صیہونیت نے اپنی شکست کی بنیاد اسی دن رکھ دی تھی جب اس نے فلسطینیوں پر ظلم کے بازار کا آغاز کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب یورپی یہودی آباد کاروں نے سال 1948 میں اسرائیل کے قیام کے لیے فلسطینیوں کی منظم اور پرتشدد نسلی کشی کا آغاز کیا، تو ان کا خیال تھا کہ فلسطینی آبادی ان کے لیے کوئی بڑا مسئلہ ثابت نہیں ہوگی۔ درحقیقت، ڈیوڈ بین گوریون جیسے صہیونی رہنماؤں کا یہ پختہ یقین تھا کہ مہاجرین کا یہ مسئلہ وقت کے ساتھ خود بخود حل ہو جائے گا۔</strong></p>
<p>صیہونیوں کے ذہنوں میں یہ بات گہری بیٹھی ہوئی تھی کہ فلسطینیوں کی کوئی اپنی قومی شناخت نہیں ہے، اس لیے وہ مارے باندھے پڑوسی عرب ممالک میں فرار ہو جائیں گے اور وہیں کی آبادیوں میں ضم ہو جائیں گے، اور اپنی چوری شدہ زمین پر دعویٰ کرنے کبھی واپس نہیں لوٹیں گے۔</p>
<p>لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ جو کچھ ہوا، وہ اس سوچ کے بالکل برعکس تھا۔ دہائی در دہائی گزرنے کے ساتھ فلسطینیوں کی قومی تحریک کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوتی چلی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505229'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505229"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آج 1948 کے سانحہ نکبہ کے چشم دید گواہ بہت کم رہ گئے ہیں، لیکن فلسطینی حقوق اور تاریخی انصاف کے لیے ان کی نئی نسلوں کا قومی عزم اتنا ہی مضبوط ہے جتنا پہلے دن تھا۔</p>
<p>اس کی وجہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کی پرانی نسلوں نے اپنے بچوں کو اس صدمے کو بھول کر آگے بڑھنا نہیں سکھایا، بلکہ انہوں نے نئی نسل کو یاد رکھنا سکھایا اور اپنے آبائی گھروں کی چابیاں ان کے ذہنوں میں محفوظ کر دیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/18090551670a89e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/18090551670a89e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مہاجرین کا یہ مسئلہ صیہونی رہنماؤں کی سوچ کے مطابق اس لیے بھی حل نہ ہو سکا کیونکہ اسرائیل کی تشدد، زمین پر قبضے اور بے دخلی کی پالیسیوں کا الٹا اثر ہوا۔ اسرائیل جوں جوں فلسطینیوں کی زمینوں اور وسائل پر قابض ہوتا گیا، وہ فلسطینیوں کے شعور اور ان کی یادداشت پر قابض ہونے میں بری طرح ناکام رہا۔</p>
<p>وہ فلسطینی مہاجرین جنہیں ان کے گھروں سے نکالا گیا، وہی آگے چل کر مزاحمت کے سب سے بڑے علمبردار بنے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/180909031c74e65.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/180909031c74e65.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ان کے پناہ گزین کیمپ پرامن اور مسلح جدوجہد کے مراکز بن گئے جہاں سے ایسے مفکرین، ڈاکٹرز، ماہرینِ تعلیم اور رہنما پیدا ہوئے جنہوں نے دنیا کو صرف ایک ہی پیغام دیا کہ اسرائیلی قبضہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>یہی مہاجرین 1987 کی پہلی انتفاضہ اور سال 2000 کی دوسری انتفاضہ تحریک کے روحِ رواں تھے۔</p>
<p>جب اسرائیل نے دیکھا کہ وہ انہیں دبا نہیں پا رہا، تو اس نے اپنے ظلم میں مزید اضافہ کر دیا۔</p>
<p>بار بار کے قتلِ عام اور اجتماعی قید و بند کی صعوبتیں بھی فلسطینیوں کو اپنا غلام نہ بنا سکیں، اور غزہ کی پٹی اس کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں 80 فیصد آبادی مہاجرین پر مشتمل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/18091127917a9e2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/18091127917a9e2.webp'  alt=' 1948: نکبہ کا ایک منظر ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>1948: نکبہ کا ایک منظر</figcaption>
    </figure>
<p>اکتوبر 2023 میں غزہ پر شروع کیے جانے والے حملوں کے بعد اسرائیلی حکومت نے اس جنگ کو اپنے وجود کی جنگ قرار دیا۔</p>
<p>اگر اسرائیل آج خود یہ تسلیم کرتا ہے کہ نکبہ کا سامنا کرنے والوں کی چوتھی نسل اس کے وجود کے لیے خطرہ ہے، تو یہ دراصل ڈیوڈ بین گوریون کی پیش گوئی کے زمین بوس ہونے اور اسرائیلی منصوبے کی اسٹریٹجک ناکامی کا کھلا اعتراف ہے۔</p>
<p>اسرائیل اب طاقت کے استعمال کے ایک ایسے جال میں پھنس چکا ہے جہاں وہ جتنا زیادہ ظلم اور قتلِ عام کرتا ہے، فلسطینی عوام میں مزاحمت کا جذبہ اتنا ہی گہرا ہوتا جاتا ہے۔</p>
<p>غزہ کی حالیہ صورتحال اس تضاد کی واضح مثال ہے جہاں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید، ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد زخمی اور 19 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/18090948575dfe4.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/18090948575dfe4.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>آج خیمے میں پیدا ہونے والے ایک فلسطینی بچے کو، جو اپنے خاندان، اسکول، اسپتال اور گھر سے محروم ہے، یہ سمجھنے کے لیے کسی طویل تاریخی کتاب کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کی اس حالت کا ذمہ دار کون ہے اور انصاف کیسے حاصل کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اسرائیلی بربریت کا یہ نقصان صرف فلسطین تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف جا چکا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30443995'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30443995"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فلسطینی کاز اب مغرب سمیت دنیا بھر میں ایک اہم اخلاقی سوال بن چکا ہے، جہاں عام شہری اور سماجی کارکن تمام تر ریاستی دباؤ اور گرفتاریوں کے باوجود فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔</p>
<p>یہاں تک کہ امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک کے مقامی انتخابات میں اب یہ ایک بڑا عامل بن چکا ہے جہاں اسرائیل کی حمایت کرنے والے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>اگر ڈیوڈ بین گوریون آج زندہ ہوتا، تو وہ یہ دیکھ کر مایوس ہو جاتا کہ صیہونیت نے اپنی شکست کی بنیاد اسی دن رکھ دی تھی جب اس نے فلسطینیوں پر ظلم کے بازار کا آغاز کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505486</guid>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 09:13:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/180904090e20914.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/180904090e20914.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
