<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 18 May 2026 12:25:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 18 May 2026 12:25:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امارات اسرائیل کی سازشوں کا حصہ نہ بنے، ایران کی کھلی وارننگ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505491/iran-warning-uae-should-not-be-part-of-israels-consiracies</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابوظہبی اسرائیل کی سازشوں اور منصوبوں کا حصہ بننے سے گریز کرے۔ ایرانی حکام کے تازہ بیانات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں نئی سفارتی کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی خبر رساں ادارے  اسکائی نیوز رپورٹس اور ایرانی خبر ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے ملٹری سیکریٹری اور سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر محسن رضائی نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر سخت تنبیہ کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن رضائی نے کہا کہ تہران کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے روابط سے مکمل آگاہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اب تک امارات کے ساتھ دوستی کا دروازہ بند نہیں کیا، تاہم ’’ایران کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کی پالیسیوں، سازشوں اور منصوبوں میں الجھنے سے بچنا چاہیے کیونکہ اس سے پورے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505474/us-outlined-five-main-conditions-response-to-iran-proposals'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505474"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران متحدہ عرب امارات بھی ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آیا تھا۔ بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا کہ یو اے ای نے ممکنہ طور پر ایران مخالف کارروائیوں میں معاون کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی متحدہ عرب امارات پر تنقید کرچکے ہیں۔ برکس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایران پر حملوں کے دوران یو اے ای نے نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ ایران مخالف پالیسیوں پر بھی نظرثانی نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’’یکجہتی کے احترام میں ہم نے متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا، لیکن ایران کو توقع تھی کہ پڑوسی ممالک کم از کم حملوں کی مذمت ضرور کریں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505480/iran-must-act-immediately-or-there-will-be-nothing-left-for-them-president-trump-threatens'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505480"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیلی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ ایرانی جنگ کے دوران بنیامین نیتن یاہو نے خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور اماراتی قیادت سے ملاقاتیں کیں، تاہم یو اے ای حکام نے ان خبروں کی تردید کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات کے براقہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں۔ یو اے ای حکام کے مطابق ڈرون مغربی سرحد کی جانب سے آیا تھا، تاہم کسی ملک یا گروہ کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی ماہرین کے مطابق ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی لفظی جنگ خلیجی خطے میں سفارتی تناؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان شدید کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابوظہبی اسرائیل کی سازشوں اور منصوبوں کا حصہ بننے سے گریز کرے۔ ایرانی حکام کے تازہ بیانات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں نئی سفارتی کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی خبر رساں ادارے  اسکائی نیوز رپورٹس اور ایرانی خبر ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے ملٹری سیکریٹری اور سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر محسن رضائی نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر سخت تنبیہ کی ہے۔</p>
<p>محسن رضائی نے کہا کہ تہران کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے روابط سے مکمل آگاہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اب تک امارات کے ساتھ دوستی کا دروازہ بند نہیں کیا، تاہم ’’ایران کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کی پالیسیوں، سازشوں اور منصوبوں میں الجھنے سے بچنا چاہیے کیونکہ اس سے پورے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505474/us-outlined-five-main-conditions-response-to-iran-proposals'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505474"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران متحدہ عرب امارات بھی ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آیا تھا۔ بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا کہ یو اے ای نے ممکنہ طور پر ایران مخالف کارروائیوں میں معاون کردار ادا کیا۔</p>
<p>اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی متحدہ عرب امارات پر تنقید کرچکے ہیں۔ برکس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایران پر حملوں کے دوران یو اے ای نے نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ ایران مخالف پالیسیوں پر بھی نظرثانی نہیں کی۔</p>
<p>عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’’یکجہتی کے احترام میں ہم نے متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا، لیکن ایران کو توقع تھی کہ پڑوسی ممالک کم از کم حملوں کی مذمت ضرور کریں گے۔‘‘</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505480/iran-must-act-immediately-or-there-will-be-nothing-left-for-them-president-trump-threatens'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505480"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب اسرائیلی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ ایرانی جنگ کے دوران بنیامین نیتن یاہو نے خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور اماراتی قیادت سے ملاقاتیں کیں، تاہم یو اے ای حکام نے ان خبروں کی تردید کردی تھی۔</p>
<p>حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات کے براقہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں۔ یو اے ای حکام کے مطابق ڈرون مغربی سرحد کی جانب سے آیا تھا، تاہم کسی ملک یا گروہ کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔</p>
<p>علاقائی ماہرین کے مطابق ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی لفظی جنگ خلیجی خطے میں سفارتی تناؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان شدید کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505491</guid>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 10:59:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/18105013d1eea5c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/18105013d1eea5c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
