<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 19 May 2026 18:51:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 19 May 2026 18:51:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تکنیکی غلطی پڑ گئی بھاری: ایلون مسک کو اوپن اے آئی مقدمے میں بڑی شکست</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505539/elon-musk-openai-sam-altman-microsoft-artificial-intelligence-tech-news-lawsuit</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ارب پتی اور ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کو اوپن اے آئی کے خلاف جاری قانونی جنگ میں بڑا دھچکا لگا ہے۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں وفاقی جیوری نے اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سیم آلٹمین کے خلاف مسک کے تین اہم دعوے مسترد کر دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قانونی تنازع ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا کیونکہ مقدمے کے کئی دوسرے حصے اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو ہفتوں تک جاری رہنے والے مقدمے میں ایلون مسک نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اوپن اے آئی نے اپنے ابتدائی فلاحی مقصد کو چھوڑ کر خود کو منافع کمانے والی کمپنی میں تبدیل کر لیا۔ مسک کے مطابق اوپن اے آئی کی قیادت، جس میں سیم آلٹمین اور گریگ بروک مین شامل ہیں، نے تنظیم کی نئی ساخت سے ذاتی فائدہ حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیوری نے جن تین دعوؤں کو مسترد کیا ان میں فلاحی مقصد سے ہٹنا، ناجائز مالی فائدہ حاصل کرنا، اور مائیکروسوفٹ پر اوپن اے آئی کی مبینہ خلاف ورزی میں مدد دینے کا الزام شامل تھا۔ مائیکروسافٹ کے خلاف دعویٰ بھی اسی بنیاد پر ختم ہو گیا کیونکہ وہ مرکزی الزام سے جڑا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے بعد سب سے زیادہ بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ اوپن اے آئی کی قیادت بے قصور ہے یا قصوروار۔ جیوری نے صرف یہ قرار دیا کہ ایلون مسک نے یہ دعوے مقررہ قانونی مدت گزرنے کے بعد دائر کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی قانون میں اس مدت کو ”اسٹیچوٹ آف لمیٹیشنز“ کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے مقدمے کے یہ حصے تکنیکی بنیاد پر خارج کر دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے بعد ایلون مسک نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اصل الزامات پر کوئی فیصلہ نہیں دیا بلکہ صرف ”کیلنڈر کی تکنیکی بات“ کی بنیاد پر مقدمہ مسترد کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504122/elon-musk-says-openai-was-his-idea-before-executives-looted-it'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اوپن اے آئی کو انسانیت کے فائدے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے منافع بخش ادارے میں بدل دیا گیا۔ مسک نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں مالی اعتبار سے بھی بہت بڑے مطالبات کیے گئے تھے۔ ایلون مسک نے تقریباً 134 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سیم آلٹمین اور گریگ بروک مین کو اوپن اے آئی سے ہٹانے اور کمپنی کی 2025 کی منافع بخش تنظیم نو کو واپس لینے کی درخواست بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسک کی قانونی ٹیم کا کہنا تھا کہ اوپن اے آئی نے ابتدا میں خود کو انسانیت کی خدمت کے لیے کام کرنے والی غیر منافع بخش مصنوعی ذہانت کی لیبارٹری کے طور پر پیش کیا، لیکن بعد میں یہ ایک بڑی تجارتی کمپنی بن گئی جس کے مائیکروسافٹ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ مسک کے وکیل مارک ٹوبیروف نے فیصلے کے بعد کہا کہ ”یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440459'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440459"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عدالت نے بھی واضح کیا ہے کہ مقدمے کے تمام معاملات ختم نہیں ہوئے۔ جج ایوون گونزالیز راجرز نے وکلا سے کہا کہ کیس میں اب بھی کئی دعوے باقی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکے ساتھ ہی مقدمے کے دیگر معاہداتی اور وفاقی نوعیت کے الزامات ابھی زیر سماعت ہیں اور آنے والے مہینوں میں ان پر مزید کارروائی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی ماہرین کے مطابق ایلون مسک کی اپیل اور باقی دعوؤں کی وجہ سے اوپن اے آئی اور مسک کے درمیان یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ارب پتی اور ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کو اوپن اے آئی کے خلاف جاری قانونی جنگ میں بڑا دھچکا لگا ہے۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں وفاقی جیوری نے اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سیم آلٹمین کے خلاف مسک کے تین اہم دعوے مسترد کر دیے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ قانونی تنازع ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا کیونکہ مقدمے کے کئی دوسرے حصے اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔</p>
<p>دو ہفتوں تک جاری رہنے والے مقدمے میں ایلون مسک نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اوپن اے آئی نے اپنے ابتدائی فلاحی مقصد کو چھوڑ کر خود کو منافع کمانے والی کمپنی میں تبدیل کر لیا۔ مسک کے مطابق اوپن اے آئی کی قیادت، جس میں سیم آلٹمین اور گریگ بروک مین شامل ہیں، نے تنظیم کی نئی ساخت سے ذاتی فائدہ حاصل کیا۔</p>
<p>جیوری نے جن تین دعوؤں کو مسترد کیا ان میں فلاحی مقصد سے ہٹنا، ناجائز مالی فائدہ حاصل کرنا، اور مائیکروسوفٹ پر اوپن اے آئی کی مبینہ خلاف ورزی میں مدد دینے کا الزام شامل تھا۔ مائیکروسافٹ کے خلاف دعویٰ بھی اسی بنیاد پر ختم ہو گیا کیونکہ وہ مرکزی الزام سے جڑا ہوا تھا۔</p>
<p>اس فیصلے کے بعد سب سے زیادہ بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ اوپن اے آئی کی قیادت بے قصور ہے یا قصوروار۔ جیوری نے صرف یہ قرار دیا کہ ایلون مسک نے یہ دعوے مقررہ قانونی مدت گزرنے کے بعد دائر کیے۔</p>
<p>امریکی قانون میں اس مدت کو ”اسٹیچوٹ آف لمیٹیشنز“ کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے مقدمے کے یہ حصے تکنیکی بنیاد پر خارج کر دیے گئے۔</p>
<p>فیصلے کے بعد ایلون مسک نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اصل الزامات پر کوئی فیصلہ نہیں دیا بلکہ صرف ”کیلنڈر کی تکنیکی بات“ کی بنیاد پر مقدمہ مسترد کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504122/elon-musk-says-openai-was-his-idea-before-executives-looted-it'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اوپن اے آئی کو انسانیت کے فائدے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے منافع بخش ادارے میں بدل دیا گیا۔ مسک نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔</p>
<p>مقدمے میں مالی اعتبار سے بھی بہت بڑے مطالبات کیے گئے تھے۔ ایلون مسک نے تقریباً 134 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سیم آلٹمین اور گریگ بروک مین کو اوپن اے آئی سے ہٹانے اور کمپنی کی 2025 کی منافع بخش تنظیم نو کو واپس لینے کی درخواست بھی کی تھی۔</p>
<p>مسک کی قانونی ٹیم کا کہنا تھا کہ اوپن اے آئی نے ابتدا میں خود کو انسانیت کی خدمت کے لیے کام کرنے والی غیر منافع بخش مصنوعی ذہانت کی لیبارٹری کے طور پر پیش کیا، لیکن بعد میں یہ ایک بڑی تجارتی کمپنی بن گئی جس کے مائیکروسافٹ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ مسک کے وکیل مارک ٹوبیروف نے فیصلے کے بعد کہا کہ ”یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی“۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440459'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440459"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب عدالت نے بھی واضح کیا ہے کہ مقدمے کے تمام معاملات ختم نہیں ہوئے۔ جج ایوون گونزالیز راجرز نے وکلا سے کہا کہ کیس میں اب بھی کئی دعوے باقی ہیں۔</p>
<p>اسکے ساتھ ہی مقدمے کے دیگر معاہداتی اور وفاقی نوعیت کے الزامات ابھی زیر سماعت ہیں اور آنے والے مہینوں میں ان پر مزید کارروائی متوقع ہے۔</p>
<p>قانونی ماہرین کے مطابق ایلون مسک کی اپیل اور باقی دعوؤں کی وجہ سے اوپن اے آئی اور مسک کے درمیان یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505539</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 11:03:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/191059235ba7935.webp" type="image/webp" medium="image" height="971" width="1619">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/191059235ba7935.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
