<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Crime</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 19 May 2026 16:59:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 19 May 2026 16:59:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قاتل کو سزائے موت کا حکم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505560/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد کی سیشن عدالت نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی ہے۔ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے آج محفوظ شدہ فیصلہ سنایا اور ملزم کو سزائے موت سنائی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق عدالت نے کہا ہے کہ ملزم عمر حیات کو 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا، اس کے علاوہ ملزم عمر حیات کو دیگر دفعات میں 10 سال قید کی بھی سزا سنائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی فیصلے کے بعد ٹک ٹاکر ثنا یوسف کی والدہ کا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پولیس اور میڈیا نے ہمارا بہت ساتھ  دیا ہے، آج عدالت سے ہمیں انصاف مل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عدالت کے فیصلے پر بہت خوش ہیں، مجرم کو سرعام پھانسی ہونی چاہیئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ملزم عمر حیات نے 3 جون کو اسلام آباد میں 17 سالہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو اسلام آباد کے سیکٹر جی 13 میں ان کے گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا جبکہ ملزم کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ پولیس نے ملزم کو 3 جون 2025 کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30483173'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30483173"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کیس کی 50 سے زائد سماعتیں ہوئیں اور چالان میں 31 گواہان کی فہرست فراہم کی گئی جبکہ مجموعی طور پر 27 گواہان نے عدالت میں اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتولہ کی والدہ اور پھوپھی نے واقعے کے چشم دید گواہان کے طور پر بیان ریکارڈ کروائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے گزشتہ برس 20 ستمبر کو ملزم عمر حیات پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ 25 ستمبر کو استغاثہ کے پہلے گواہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;17 سالہ ٹک ٹاکر اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے لیے مشہور تھیں، ان کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر تقریباً 8 لاکھ فالوورز اور انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تقریباً 5 لاکھ فالوورز تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد کی سیشن عدالت نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی ہے۔ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے آج محفوظ شدہ فیصلہ سنایا اور ملزم کو سزائے موت سنائی ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق عدالت نے کہا ہے کہ ملزم عمر حیات کو 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا، اس کے علاوہ ملزم عمر حیات کو دیگر دفعات میں 10 سال قید کی بھی سزا سنائی گئی۔</p>
<p>عدالتی فیصلے کے بعد ٹک ٹاکر ثنا یوسف کی والدہ کا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پولیس اور میڈیا نے ہمارا بہت ساتھ  دیا ہے، آج عدالت سے ہمیں انصاف مل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عدالت کے فیصلے پر بہت خوش ہیں، مجرم کو سرعام پھانسی ہونی چاہیئے۔</p>
<p>واضح رہے کہ ملزم عمر حیات نے 3 جون کو اسلام آباد میں 17 سالہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو اسلام آباد کے سیکٹر جی 13 میں ان کے گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا جبکہ ملزم کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ پولیس نے ملزم کو 3 جون 2025 کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30483173'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30483173"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کیس کی 50 سے زائد سماعتیں ہوئیں اور چالان میں 31 گواہان کی فہرست فراہم کی گئی جبکہ مجموعی طور پر 27 گواہان نے عدالت میں اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔</p>
<p>مقتولہ کی والدہ اور پھوپھی نے واقعے کے چشم دید گواہان کے طور پر بیان ریکارڈ کروائے تھے۔</p>
<p>عدالت نے گزشتہ برس 20 ستمبر کو ملزم عمر حیات پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ 25 ستمبر کو استغاثہ کے پہلے گواہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔</p>
<p>17 سالہ ٹک ٹاکر اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے لیے مشہور تھیں، ان کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر تقریباً 8 لاکھ فالوورز اور انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تقریباً 5 لاکھ فالوورز تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505560</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 15:55:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف نوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/191558587dc5288.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/191558587dc5288.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
