<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 20 May 2026 11:21:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 20 May 2026 11:21:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنکر، ڈرون بیس: وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے بنائے گئے نئے بال روم میں کیا کچھ ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505585/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تعمیر کیے جانے والے نئے ’بنکر نما‘ بال روم سے متعلق حیران کن تفصیلات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمارت کی چھت پر جدید ڈرون بیس قائم کیا جائے گا جبکہ اس کے نیچے 6 منزلہ زیرِ زمین کمپلیکس بھی تعمیر ہوگا، جس میں فوجی اسپتال اور تحقیقی مراکز شامل ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے منگل کے روز تعمیراتی کام کے دوران صحافیوں کو منصوبے کا دورہ کرایا اور کہا کہ یہ عمارت غیرمعمولی سیکیورٹی خصوصیات کی حامل ہوگی۔ انہوں نے امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا کہ عمارت کی سیکیورٹی کے لیے ایک ارب ڈالر کی منظوری دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اس منصوبے پر امریکی سیاست میں بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن رہنماؤں نے اسے غیرضروری اور شاہانہ منصوبہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی عوام بڑھتی مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ، جو خود بھی ایک ارب پتی رئیل اسٹیٹ کاروباری شخصیت ہیں، نے منصوبے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 90 ہزار مربع فٹ پر مشتمل یہ بال روم موجودہ وائٹ ہاؤس کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ایک ہزار افراد پر مشتمل بڑی تقریبات کے لیے مناسب جگہ موجود نہیں، اسی لیے اس نئے بال روم کی ضرورت پیش آئی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں ان پر مبینہ قاتلانہ حملے کی کوشش کے بعد انہوں نے زیادہ محفوظ مقام کی ضرورت محسوس کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کے مطابق بال روم کی چھت کو اس انداز میں تعمیر کیا جا رہا ہے کہ وہ براہِ راست حملہ بھی برداشت کر سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت کے اطراف نصب ٹائٹینیم باڑ اتنی مضبوط ہے کہ’’بلڈوزر بھی اسے نہیں گرا سکتا‘‘، جبکہ چھت ’’ناقابلِ تسخیر اسٹیل‘‘ سے تیار کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بال روم کے نیچے 6 منزلہ زیرِ زمین کمپلیکس بنایا جا رہا ہے، جس میں سے دو منزلوں پر کام پہلے ہی جاری ہے۔ اس کمپلیکس میں فوجی اسپتال اور تحقیقی سہولیات بھی قائم کی جائیں گی، تاہم تحقیق کی نوعیت سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505586/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505586"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے خاص طور پر عمارت کی چھت پر قائم کیے جانے والے ڈرون بیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسے ’’لامحدود تعداد میں ڈرونز‘‘ کے استعمال کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ’’پوری چھت فوجی مقاصد کے لیے بنائی جا رہی ہے۔ یہ نہ صرف ڈرون حملوں سے محفوظ ہوگی بلکہ اگر کوئی ڈرون اس سے ٹکرائے گا تو واپس اچھل جائے گا اور کوئی نقصان نہیں ہوگا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈرون بیس پورے واشنگٹن کے دفاع میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے مطابق بال روم کی کھڑکیاں چار انچ موٹے خصوصی شیشے سے تیار کی جائیں گی، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’’آپ اس کے آر پار ایسے دیکھ سکیں گے جیسے وہاں کچھ موجود ہی نہ ہو۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تعمیر کیے جانے والے نئے ’بنکر نما‘ بال روم سے متعلق حیران کن تفصیلات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمارت کی چھت پر جدید ڈرون بیس قائم کیا جائے گا جبکہ اس کے نیچے 6 منزلہ زیرِ زمین کمپلیکس بھی تعمیر ہوگا، جس میں فوجی اسپتال اور تحقیقی مراکز شامل ہوں گے۔</strong></p>
<p>صدر ٹرمپ نے منگل کے روز تعمیراتی کام کے دوران صحافیوں کو منصوبے کا دورہ کرایا اور کہا کہ یہ عمارت غیرمعمولی سیکیورٹی خصوصیات کی حامل ہوگی۔ انہوں نے امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا کہ عمارت کی سیکیورٹی کے لیے ایک ارب ڈالر کی منظوری دی جائے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اس منصوبے پر امریکی سیاست میں بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن رہنماؤں نے اسے غیرضروری اور شاہانہ منصوبہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی عوام بڑھتی مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ، جو خود بھی ایک ارب پتی رئیل اسٹیٹ کاروباری شخصیت ہیں، نے منصوبے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 90 ہزار مربع فٹ پر مشتمل یہ بال روم موجودہ وائٹ ہاؤس کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ایک ہزار افراد پر مشتمل بڑی تقریبات کے لیے مناسب جگہ موجود نہیں، اسی لیے اس نئے بال روم کی ضرورت پیش آئی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں ان پر مبینہ قاتلانہ حملے کی کوشش کے بعد انہوں نے زیادہ محفوظ مقام کی ضرورت محسوس کی۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کے مطابق بال روم کی چھت کو اس انداز میں تعمیر کیا جا رہا ہے کہ وہ براہِ راست حملہ بھی برداشت کر سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت کے اطراف نصب ٹائٹینیم باڑ اتنی مضبوط ہے کہ’’بلڈوزر بھی اسے نہیں گرا سکتا‘‘، جبکہ چھت ’’ناقابلِ تسخیر اسٹیل‘‘ سے تیار کی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ بال روم کے نیچے 6 منزلہ زیرِ زمین کمپلیکس بنایا جا رہا ہے، جس میں سے دو منزلوں پر کام پہلے ہی جاری ہے۔ اس کمپلیکس میں فوجی اسپتال اور تحقیقی سہولیات بھی قائم کی جائیں گی، تاہم تحقیق کی نوعیت سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505586/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505586"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>صدر ٹرمپ نے خاص طور پر عمارت کی چھت پر قائم کیے جانے والے ڈرون بیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسے ’’لامحدود تعداد میں ڈرونز‘‘ کے استعمال کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق ’’پوری چھت فوجی مقاصد کے لیے بنائی جا رہی ہے۔ یہ نہ صرف ڈرون حملوں سے محفوظ ہوگی بلکہ اگر کوئی ڈرون اس سے ٹکرائے گا تو واپس اچھل جائے گا اور کوئی نقصان نہیں ہوگا۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈرون بیس پورے واشنگٹن کے دفاع میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>ٹرمپ کے مطابق بال روم کی کھڑکیاں چار انچ موٹے خصوصی شیشے سے تیار کی جائیں گی، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’’آپ اس کے آر پار ایسے دیکھ سکیں گے جیسے وہاں کچھ موجود ہی نہ ہو۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505585</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 09:33:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/20093037c727d6e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/20093037c727d6e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
