<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 21 May 2026 10:42:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 21 May 2026 10:42:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505627/us-files-murder-case-against-former-cuban-president-raul-castro</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے 1996 میں دو سویلین طیارے مار گرائے جانے کے مقدمے میں کیوبا کے سابق صدر پر فردِ جرم عائد کر دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ 94 سالہ راول کاسترو پر امریکی شہریوں کے قتل کی سازش، طیاروں کی تباہی اور چار افراد کے قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اگر یہ الزامات ثابت ہوگئے تو راول کاسترو کو امریکا میں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ 24 فروری 1996 کے اُس واقعے سے متعلق ہے جب کیوبا کی فضائیہ نے جلا وطن کیوبن کارکنوں کی تنظیم “برادرز ٹو دی ریسکیو” کے دو چھوٹے طیارے مار گرائے تھے، جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُس وقت راول کاسترو کیوبا کے وزیر دفاع تھے جبکہ ان کے بھائی اور انقلابی رہنما فیڈرل کاسترو ملک کے صدر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ طیارے مار گرانے کی کارروائی کی منظوری راول کاسترو نے دی تھی کیونکہ وہ فوجی کمان کے اہم ترین فیصلہ سازوں میں شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اس مقدمے میں کیوبا کی فضائیہ کے کئی سابق پائلٹس کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ امریکی حکام نے راول کاسترو کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کرنے کی تصدیق بھی کی ہے، تاہم کیوبا کی جانب سے حوالگی کے امکانات انتہائی کم قرار دیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں کیوبا کی کمیونسٹ حکومت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکا نہ صرف پرانے مقدمات دوبارہ کھول رہا ہے بلکہ کیوبا کو ایندھن فراہم کرنے والے ممالک اور کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی دھمکیاں دے چکا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/71720/%DA%A9%DB%8C%D9%88%D8%A8%D8%A7-%DA%A9%DB%92-%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7-%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A8%D9%82-%D8%B5%D8%AF%D8%B1-%D9%81%DB%8C%DA%88%D9%84-%DA%A9%D8%A7'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/71720"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کیوبن حکومت نے امریکی اقدام کو سیاسی دباؤ اور ’’سرد جنگ کی پالیس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا معاشی اور سفارتی دباؤ کے ذریعے کیوبا کی حکومت کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں صدر ٹرمپ کے دور میں وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کی گئی تھیں، جبکہ ٹرمپ متعدد بار یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وینزویلا اور ایران کے بعد اب کیوبا امریکی پالیسی کا اگلا ہدف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کی جانب سے راول کاسترو پر فردِ جرم عائد کیے جانے سے قبل کئی اعلیٰ امریکی عہدیدار خفیہ اور سفارتی سطح پر کیوبا کے دورے بھی کر چکے ہیں۔ دوسری جانب کیوبا نے امریکی بیانات کو داخلی معاملات میں کھلی مداخلت اور اشتعال انگیزی قرار دے کر شدید احتجاج کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے 1996 میں دو سویلین طیارے مار گرائے جانے کے مقدمے میں کیوبا کے سابق صدر پر فردِ جرم عائد کر دی۔</strong></p>
<p>خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ 94 سالہ راول کاسترو پر امریکی شہریوں کے قتل کی سازش، طیاروں کی تباہی اور چار افراد کے قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اگر یہ الزامات ثابت ہوگئے تو راول کاسترو کو امریکا میں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔</p>
<p>یہ مقدمہ 24 فروری 1996 کے اُس واقعے سے متعلق ہے جب کیوبا کی فضائیہ نے جلا وطن کیوبن کارکنوں کی تنظیم “برادرز ٹو دی ریسکیو” کے دو چھوٹے طیارے مار گرائے تھے، جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p>
<p>اُس وقت راول کاسترو کیوبا کے وزیر دفاع تھے جبکہ ان کے بھائی اور انقلابی رہنما فیڈرل کاسترو ملک کے صدر تھے۔</p>
<p>امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ طیارے مار گرانے کی کارروائی کی منظوری راول کاسترو نے دی تھی کیونکہ وہ فوجی کمان کے اہم ترین فیصلہ سازوں میں شامل تھے۔</p>
<p>امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اس مقدمے میں کیوبا کی فضائیہ کے کئی سابق پائلٹس کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ امریکی حکام نے راول کاسترو کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کرنے کی تصدیق بھی کی ہے، تاہم کیوبا کی جانب سے حوالگی کے امکانات انتہائی کم قرار دیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں کیوبا کی کمیونسٹ حکومت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکا نہ صرف پرانے مقدمات دوبارہ کھول رہا ہے بلکہ کیوبا کو ایندھن فراہم کرنے والے ممالک اور کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی دھمکیاں دے چکا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/71720/%DA%A9%DB%8C%D9%88%D8%A8%D8%A7-%DA%A9%DB%92-%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7-%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A8%D9%82-%D8%B5%D8%AF%D8%B1-%D9%81%DB%8C%DA%88%D9%84-%DA%A9%D8%A7'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/71720"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کیوبن حکومت نے امریکی اقدام کو سیاسی دباؤ اور ’’سرد جنگ کی پالیس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا معاشی اور سفارتی دباؤ کے ذریعے کیوبا کی حکومت کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔</p>
<p>قبل ازیں صدر ٹرمپ کے دور میں وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کی گئی تھیں، جبکہ ٹرمپ متعدد بار یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وینزویلا اور ایران کے بعد اب کیوبا امریکی پالیسی کا اگلا ہدف ہے۔</p>
<p>امریکی حکام کی جانب سے راول کاسترو پر فردِ جرم عائد کیے جانے سے قبل کئی اعلیٰ امریکی عہدیدار خفیہ اور سفارتی سطح پر کیوبا کے دورے بھی کر چکے ہیں۔ دوسری جانب کیوبا نے امریکی بیانات کو داخلی معاملات میں کھلی مداخلت اور اشتعال انگیزی قرار دے کر شدید احتجاج کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505627</guid>
      <pubDate>Thu, 21 May 2026 09:23:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/210919048bbd081.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/210919048bbd081.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
