<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 24 May 2026 10:54:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 24 May 2026 10:54:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگ بندی کے امکانات روشن ہونے پر امریکی اخبار کا نیتن یاہو پر سخت طنز</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505752/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے امکانات روشن ہونے کے بعد امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز نے اسرائیلی وزیراعظم بیجمن نیتن یاہو پر سخت طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال میں نیتن یاہو کا کردار اب ثانوی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nytimes.com/2026/05/23/world/middleeast/israel-trump-iran.html"&gt;نیویارک ٹائمز&lt;/a&gt; نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ ایک وقت تھا جب نیتن یاہو ایران کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کوپائلٹ سمجھے جاتے تھے، تاہم اب صورتحال یکسر تبدیل ہوچکی ہے اور اسرائیلی وزیراعظم اس جہاز کے محض ایک مسافر بن کر رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار نے طنزیہ انداز میں دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن یا جنگ بندی معاہدے میں اسرائیل کو خاطر میں نہیں لایا گیا اور واشنگٹن نے معاہدے کی سفارتی کوششوں میں تل ابیب کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیے میں کہا گیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود امریکا براہِ راست سفارتی پیش رفت کو ترجیح دے رہا ہے جبکہ اسرائیل کی سخت گیر پالیسی اور نیتن یاہو کا مؤقف عالمی سفارتی کوششوں میں پہلے جیسا اثر و رسوخ برقرار نہیں رکھ سکا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505707/slogans-against-trump-at-new-york-rally'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اسرائیلی دفاعی حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ مذاکراتی عمل سے باہر کیے جانے کے بعد اسرائیلی رہنماؤں کو ایران سے متعلق بات چیت کی تفصیلات جاننے کے لیے ایرانی حکومت کی آزادانہ نگرانی، علاقائی رہنماؤں سے روابط اور مختلف سفارت کاروں کے ذریعے معلومات اکٹھی کرنا پڑ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبار نے لکھا کہ 28 فروری کے حملوں سے چند روز قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو امریکی صدر ٹرمپ کے ہمراہ سیچویشن روم میں موجود تھے، جہاں دونوں رہنما مشترکہ حملے کے امکانات پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو اس موقع پر یہ پیش گوئی بھی کر رہے تھے کہ مشترکہ کارروائی اسلامی جمہوریہ ایران کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم چند ہی ہفتوں میں صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آگئی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران سے متعلق سفارتی اور عسکری معاملات میں اسرائیل کا کردار نمایاں حد تک محدود ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے امکانات روشن ہونے کے بعد امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز نے اسرائیلی وزیراعظم بیجمن نیتن یاہو پر سخت طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال میں نیتن یاہو کا کردار اب ثانوی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nytimes.com/2026/05/23/world/middleeast/israel-trump-iran.html">نیویارک ٹائمز</a> نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ ایک وقت تھا جب نیتن یاہو ایران کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کوپائلٹ سمجھے جاتے تھے، تاہم اب صورتحال یکسر تبدیل ہوچکی ہے اور اسرائیلی وزیراعظم اس جہاز کے محض ایک مسافر بن کر رہ گئے ہیں۔</p>
<p>امریکی اخبار نے طنزیہ انداز میں دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن یا جنگ بندی معاہدے میں اسرائیل کو خاطر میں نہیں لایا گیا اور واشنگٹن نے معاہدے کی سفارتی کوششوں میں تل ابیب کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔</p>
<p>تجزیے میں کہا گیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود امریکا براہِ راست سفارتی پیش رفت کو ترجیح دے رہا ہے جبکہ اسرائیل کی سخت گیر پالیسی اور نیتن یاہو کا مؤقف عالمی سفارتی کوششوں میں پہلے جیسا اثر و رسوخ برقرار نہیں رکھ سکا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505707/slogans-against-trump-at-new-york-rally'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق اسرائیلی دفاعی حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ مذاکراتی عمل سے باہر کیے جانے کے بعد اسرائیلی رہنماؤں کو ایران سے متعلق بات چیت کی تفصیلات جاننے کے لیے ایرانی حکومت کی آزادانہ نگرانی، علاقائی رہنماؤں سے روابط اور مختلف سفارت کاروں کے ذریعے معلومات اکٹھی کرنا پڑ رہی ہیں۔</p>
<p>اخبار نے لکھا کہ 28 فروری کے حملوں سے چند روز قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو امریکی صدر ٹرمپ کے ہمراہ سیچویشن روم میں موجود تھے، جہاں دونوں رہنما مشترکہ حملے کے امکانات پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔</p>
<p>نیتن یاہو اس موقع پر یہ پیش گوئی بھی کر رہے تھے کہ مشترکہ کارروائی اسلامی جمہوریہ ایران کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔</p>
<p>تاہم چند ہی ہفتوں میں صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آگئی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران سے متعلق سفارتی اور عسکری معاملات میں اسرائیل کا کردار نمایاں حد تک محدود ہوگیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505752</guid>
      <pubDate>Sun, 24 May 2026 08:53:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/24085253355455f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/24085253355455f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
