<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 24 May 2026 14:07:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 24 May 2026 14:07:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505765/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ آف پاکستان نے گھریلو تنازعات اور خلع سے متعلق ایک تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح، باخبر اور غیر مبہم رضامندی کے بغیر خلع دینا قانونی طور پر درست نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے اس فیصلے میں جسٹس شاہد بلال حسن نے 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریر لکھتے ہوئے قرار دیا کہ اگر بیوی نے ظلم کی بنیاد پر مقدمہ دائر کیا ہو تو اسے خلع میں تبدیل کرنا اس کے مالی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے واضح کیا کہ بیوی کو یہ بنیادی اختیار حاصل ہونا چاہیے کہ وہ یا تو ظلم کے دعوے کو جاری رکھے یا خلع قبول کرے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ بعض حالات میں شادی عملی طور پر ختم ہو چکی ہو، پھر بھی عدالت کو فریقین کی رضامندی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ گھریلو تشدد کی تعریف صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اذیت، تذلیل، دباؤ اور جذباتی محرومی کو بھی شامل کرتی ہے۔ عدالت کے مطابق ذہنی ظلم میں نظر انداز کرنا اور شدید ذہنی تکلیف دینا بھی قابلِ غور عوامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ فیملی مقدمات میں ثبوت کا معیار’’غالب امکان‘‘ ہوتا ہے، جبکہ فوجداری مقدمات میں معیار “شک سے بالاتر” ہوتا ہے، اس لیے فیملی عدالتوں کو ہر صورت عینی شاہد یا ایف آئی آر جیسے سخت تقاضے لازم نہیں کرنے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے اس کیس کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ شادی 19 ستمبر 2016 کو ہوئی اور 8 اکتوبر 2016 کو علیحدگی کا مقدمہ دائر کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم مدت میں بھی ازدواجی تنازع شدت اختیار کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ بیوی ظلم ثابت کرنے میں ناکام رہی، لیکن شادی عملی طور پر ختم ہو چکی تھی، اس لیے معاملہ جزوی طور پر واپس فیملی کورٹ کو بھیج دیا گیا تاکہ بیوی کا حتمی مؤقف ریکارڈ کیا جا سکے اور اس کی رضامندی واضح ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ فیملی کورٹ 30 دن کے اندر کیس نمٹائے اور فیصلہ بیوی کے انتخاب کے مطابق، یعنی یا تو خلع یا ظلم کے دعوے کی بنیاد پر، قانون کے مطابق کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ آف پاکستان نے گھریلو تنازعات اور خلع سے متعلق ایک تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح، باخبر اور غیر مبہم رضامندی کے بغیر خلع دینا قانونی طور پر درست نہیں۔</strong></p>
<p>چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے اس فیصلے میں جسٹس شاہد بلال حسن نے 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریر لکھتے ہوئے قرار دیا کہ اگر بیوی نے ظلم کی بنیاد پر مقدمہ دائر کیا ہو تو اسے خلع میں تبدیل کرنا اس کے مالی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔</p>
<p>عدالت نے واضح کیا کہ بیوی کو یہ بنیادی اختیار حاصل ہونا چاہیے کہ وہ یا تو ظلم کے دعوے کو جاری رکھے یا خلع قبول کرے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ بعض حالات میں شادی عملی طور پر ختم ہو چکی ہو، پھر بھی عدالت کو فریقین کی رضامندی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ گھریلو تشدد کی تعریف صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اذیت، تذلیل، دباؤ اور جذباتی محرومی کو بھی شامل کرتی ہے۔ عدالت کے مطابق ذہنی ظلم میں نظر انداز کرنا اور شدید ذہنی تکلیف دینا بھی قابلِ غور عوامل ہیں۔</p>
<p>فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ فیملی مقدمات میں ثبوت کا معیار’’غالب امکان‘‘ ہوتا ہے، جبکہ فوجداری مقدمات میں معیار “شک سے بالاتر” ہوتا ہے، اس لیے فیملی عدالتوں کو ہر صورت عینی شاہد یا ایف آئی آر جیسے سخت تقاضے لازم نہیں کرنے چاہئیں۔</p>
<p>عدالت نے اس کیس کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ شادی 19 ستمبر 2016 کو ہوئی اور 8 اکتوبر 2016 کو علیحدگی کا مقدمہ دائر کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم مدت میں بھی ازدواجی تنازع شدت اختیار کر سکتا ہے۔</p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ بیوی ظلم ثابت کرنے میں ناکام رہی، لیکن شادی عملی طور پر ختم ہو چکی تھی، اس لیے معاملہ جزوی طور پر واپس فیملی کورٹ کو بھیج دیا گیا تاکہ بیوی کا حتمی مؤقف ریکارڈ کیا جا سکے اور اس کی رضامندی واضح ہو۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ فیملی کورٹ 30 دن کے اندر کیس نمٹائے اور فیصلہ بیوی کے انتخاب کے مطابق، یعنی یا تو خلع یا ظلم کے دعوے کی بنیاد پر، قانون کے مطابق کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505765</guid>
      <pubDate>Sun, 24 May 2026 12:32:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/2412292521e9b3f.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/2412292521e9b3f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
