<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 26 May 2026 14:23:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 26 May 2026 14:23:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران امریکا جنگ کے درمیان پاکستان قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا: ترک میڈیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505831/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے ثالثی کردار کی عالمی سطح پر پذیرائی کا سلسلہ جاری ہے، اور خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی تناظر میں پاکستان خطے میں ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق پاکستان نے خاموش، منظم اور مؤثر سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا ہے جس نے اس کے علاقائی اور عالمی کردار کو نمایاں کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی آر ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بیک چینل اور خاموش سفارت کاری کے ذریعے پیچیدہ علاقائی حالات میں اپنا اثر برقرار رکھا، اور مختلف فریقین کے درمیان رابطوں کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان کا جغرافیہ، عسکری اور انٹیلیجنس ساکھ، اور مختلف عالمی طاقتوں سے روابط اسے ایک منفرد سفارتی حیثیت دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505696'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505696"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت اقتصادی راہداری، علاقائی روابط اور سفارت کاری کے ضامن کے طور پر ابھر رہی ہے۔ پاکستان کے تعلقات چین، خلیجی ریاستوں، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل فعال ہیں، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت نے پاکستان کو ایک اہم سفارتی قوت کے طور پر نمایاں کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی آر ٹی کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مشکل حالات میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کے تسلسل میں کردار ادا کیا، اور انہیں ایک حقیقت پسند اور خاموش سفارت کاری کے حامی شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی سفارت کاری کی تشہیر نہیں کی بلکہ نتائج پر توجہ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد ان کی عسکری اور سفارتی ساکھ مزید مضبوط ہوئی ہے، جبکہ پاک سعودی دفاعی معاہدے نے پاکستان کی علاقائی ساکھ کو مزید تقویت دی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505819/iran-peace-deal-pakistan-rejects-trumps-abraham-accords-demand'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505819"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پاکستان نے اپنی مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے، اور انسدادِ دہشت گردی کو علاقائی استحکام اور معاشی انضمام کے لیے بنیادی شرط قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان چونکہ کسی سخت نظریاتی صف بندی یا مستقل اتحاد کا حصہ نہیں سمجھا جاتا، اس لیے وہ ایک قابل قبول ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے اپنے معاشی چیلنجز پر قابو پانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی آر ٹی کے مطابق سفارت کاری کی اصل کامیابی تشہیر نہیں بلکہ عملی نتائج ہوتے ہیں، اور اسی بنیاد پر پاکستان کا کردار خطے کی بدلتی ہوئی سیاست میں مزید اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے ثالثی کردار کی عالمی سطح پر پذیرائی کا سلسلہ جاری ہے، اور خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی تناظر میں پاکستان خطے میں ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔</strong></p>
<p>ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق پاکستان نے خاموش، منظم اور مؤثر سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا ہے جس نے اس کے علاقائی اور عالمی کردار کو نمایاں کیا ہے۔</p>
<p>ٹی آر ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بیک چینل اور خاموش سفارت کاری کے ذریعے پیچیدہ علاقائی حالات میں اپنا اثر برقرار رکھا، اور مختلف فریقین کے درمیان رابطوں کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان کا جغرافیہ، عسکری اور انٹیلیجنس ساکھ، اور مختلف عالمی طاقتوں سے روابط اسے ایک منفرد سفارتی حیثیت دیتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505696'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505696"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت اقتصادی راہداری، علاقائی روابط اور سفارت کاری کے ضامن کے طور پر ابھر رہی ہے۔ پاکستان کے تعلقات چین، خلیجی ریاستوں، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل فعال ہیں، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت نے پاکستان کو ایک اہم سفارتی قوت کے طور پر نمایاں کیا ہے۔</p>
<p>ٹی آر ٹی کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مشکل حالات میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کے تسلسل میں کردار ادا کیا، اور انہیں ایک حقیقت پسند اور خاموش سفارت کاری کے حامی شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی سفارت کاری کی تشہیر نہیں کی بلکہ نتائج پر توجہ دی۔</p>
<p>مزید بتایا گیا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد ان کی عسکری اور سفارتی ساکھ مزید مضبوط ہوئی ہے، جبکہ پاک سعودی دفاعی معاہدے نے پاکستان کی علاقائی ساکھ کو مزید تقویت دی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505819/iran-peace-deal-pakistan-rejects-trumps-abraham-accords-demand'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505819"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی طرح پاکستان نے اپنی مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے، اور انسدادِ دہشت گردی کو علاقائی استحکام اور معاشی انضمام کے لیے بنیادی شرط قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان چونکہ کسی سخت نظریاتی صف بندی یا مستقل اتحاد کا حصہ نہیں سمجھا جاتا، اس لیے وہ ایک قابل قبول ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے اپنے معاشی چیلنجز پر قابو پانا ہوگا۔</p>
<p>ٹی آر ٹی کے مطابق سفارت کاری کی اصل کامیابی تشہیر نہیں بلکہ عملی نتائج ہوتے ہیں، اور اسی بنیاد پر پاکستان کا کردار خطے کی بدلتی ہوئی سیاست میں مزید اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505831</guid>
      <pubDate>Tue, 26 May 2026 12:19:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/261218384bace40.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/261218384bace40.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
