<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Sports</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 31 May 2026 14:41:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 31 May 2026 14:41:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فُٹ بال کلب ٹیم پی ایس جی کی چیمپئنز لیگ فتح کے بعد پیرس میں ہنگامے، 400 سے زائد گرفتاریاں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505941/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانس کے دارالحکومت پیرس میں فٹ بال کلب ٹیم پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) کی چیمپئنز لیگ ٹورنامنٹ کا فائنل جیتنے کے بعد فتح کا جشن منانے کے دوران پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے، جس کے نتیجے میں پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی حکام کے مطابق ہفتے کو چیمپئنز لیگ فائنل کے موقع پر ملک بھر میں 22 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے جن میں سے 8 ہزار اہلکار صرف پیرس میں موجود تھے۔ گزشتہ برس بھی پی ایس جی کی کامیابی کے بعد ہونے والے ہنگاموں کے پیشِ نظر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 416 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے 283 گرفتاریاں پیرس میں ہوئیں۔ حکام نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ ان میں سے کتنے افراد کو مزید تفتیش کے لیے باقاعدہ حراست میں رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ جھڑپوں کے دوران سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور انہوں نے ایسے واقعے کو قطعی طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505809/iran-demands-us-ensure-world-cup-team-access'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر کے مطابق پی ایس جی کے حامیوں کے ایک گروپ نے پیرس کی رنگ روڈ پر بھی دھاوا بول دیا، جس سے ٹریفک کچھ وقت کے لیے معطل ہوگئی جبکہ وہاں آتش گیر شعلے (فلیئرز) بھی جلائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ہنگری کے دارالحکومت بوداپیسٹ میں پنالٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے حاصل کی گئی ڈرامائی فتح کا جشن منانے کے لیے تقریباً 20 ہزار افراد پیرس کی مشہور شانزے لیزے ایونیو پر جمع ہوئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/DevidClemm/status/2060901592258220447'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DevidClemm/status/2060901592258220447"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ممکنہ بدامنی کے خدشے کے پیش نظر میچ سے قبل متعدد دکانداروں نے اپنی دکانوں کی کھڑکیوں کو حفاظتی تختوں سے ڈھانپ دیا تھا۔ گزشتہ برس نوجوانوں نے شانزے لیزے اور دیگر سڑکوں پر واقع دکانوں کو نقصان پہنچایا تھا اور اس دوران سیکڑوں افراد گرفتار کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/3112190039d0ffb.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/3112190039d0ffb.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے ہفتے کے روز 24 فلیئرز اور تقریباً 100 آتش بازی کے سامان بھی ضبط کیے جبکہ شانزے لیزے کے قریب ایک بس اسٹاپ شیڈ کو نقصان پہنچایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق پی ایس جی کے ہوم گراؤنڈ پارک دی پرانسز اسٹیڈیم کے قریب ایک بیکری اور ایک ریستوران کو نقصان پہنچا۔ اسٹیڈیم کے اندر ہزاروں شائقین میچ دیکھ رہے تھے جبکہ تقریباً 4 ہزار سے 5 ہزار افراد باہر موجود تھے، جن میں سے بعض نے پولیس اہلکاروں پر مختلف اشیا پھینکیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/311218597ef285f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/311218597ef285f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس ترجمان نے بتایا کہ تقریباً 150 افراد نے اسٹیڈیم کے ایک دروازے سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ افراد نے کرائے کی سائیکلوں کو استعمال کرتے ہوئے رکاوٹ (بیریکیڈ) قائم کرنے کی بھی کوشش کی جسے پولیس نے ہٹا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق اسٹیڈیم کے قریب پولیس اور حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور جب پولیس پر آتش بازی کا سامان پھینکا گیا تو اہلکاروں نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرانس کے دارالحکومت پیرس میں فٹ بال کلب ٹیم پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) کی چیمپئنز لیگ ٹورنامنٹ کا فائنل جیتنے کے بعد فتح کا جشن منانے کے دوران پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے، جس کے نتیجے میں پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔</strong></p>
<p>فرانسیسی حکام کے مطابق ہفتے کو چیمپئنز لیگ فائنل کے موقع پر ملک بھر میں 22 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے جن میں سے 8 ہزار اہلکار صرف پیرس میں موجود تھے۔ گزشتہ برس بھی پی ایس جی کی کامیابی کے بعد ہونے والے ہنگاموں کے پیشِ نظر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔</p>
<p>فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 416 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے 283 گرفتاریاں پیرس میں ہوئیں۔ حکام نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ ان میں سے کتنے افراد کو مزید تفتیش کے لیے باقاعدہ حراست میں رکھا گیا ہے۔</p>
<p>وزیر داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ جھڑپوں کے دوران سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور انہوں نے ایسے واقعے کو قطعی طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505809/iran-demands-us-ensure-world-cup-team-access'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر کے مطابق پی ایس جی کے حامیوں کے ایک گروپ نے پیرس کی رنگ روڈ پر بھی دھاوا بول دیا، جس سے ٹریفک کچھ وقت کے لیے معطل ہوگئی جبکہ وہاں آتش گیر شعلے (فلیئرز) بھی جلائے گئے۔</p>
<p>ادھر ہنگری کے دارالحکومت بوداپیسٹ میں پنالٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے حاصل کی گئی ڈرامائی فتح کا جشن منانے کے لیے تقریباً 20 ہزار افراد پیرس کی مشہور شانزے لیزے ایونیو پر جمع ہوئے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/DevidClemm/status/2060901592258220447'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DevidClemm/status/2060901592258220447"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ممکنہ بدامنی کے خدشے کے پیش نظر میچ سے قبل متعدد دکانداروں نے اپنی دکانوں کی کھڑکیوں کو حفاظتی تختوں سے ڈھانپ دیا تھا۔ گزشتہ برس نوجوانوں نے شانزے لیزے اور دیگر سڑکوں پر واقع دکانوں کو نقصان پہنچایا تھا اور اس دوران سیکڑوں افراد گرفتار کیے گئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/3112190039d0ffb.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/3112190039d0ffb.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>پولیس نے ہفتے کے روز 24 فلیئرز اور تقریباً 100 آتش بازی کے سامان بھی ضبط کیے جبکہ شانزے لیزے کے قریب ایک بس اسٹاپ شیڈ کو نقصان پہنچایا گیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق پی ایس جی کے ہوم گراؤنڈ پارک دی پرانسز اسٹیڈیم کے قریب ایک بیکری اور ایک ریستوران کو نقصان پہنچا۔ اسٹیڈیم کے اندر ہزاروں شائقین میچ دیکھ رہے تھے جبکہ تقریباً 4 ہزار سے 5 ہزار افراد باہر موجود تھے، جن میں سے بعض نے پولیس اہلکاروں پر مختلف اشیا پھینکیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/311218597ef285f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/311218597ef285f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>پولیس ترجمان نے بتایا کہ تقریباً 150 افراد نے اسٹیڈیم کے ایک دروازے سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔</p>
<p>کچھ افراد نے کرائے کی سائیکلوں کو استعمال کرتے ہوئے رکاوٹ (بیریکیڈ) قائم کرنے کی بھی کوشش کی جسے پولیس نے ہٹا دیا۔</p>
<p>اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق اسٹیڈیم کے قریب پولیس اور حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور جب پولیس پر آتش بازی کا سامان پھینکا گیا تو اہلکاروں نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505941</guid>
      <pubDate>Sun, 31 May 2026 12:21:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/31121134cc1eb89.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/31121134cc1eb89.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
