<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 18:49:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 01 Jun 2026 18:49:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گلگت بلتستان انتخابات: کس کا پلڑا بھاری، کون سے عوامل نتائج پر اثر انداز ہوں گے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505992/who-will-win-the-gilgit-baltistan-elections-2026</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے چار ماہ کی تاخیر کے بعد سات جون کی تاریخ مقرر کیے جانے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے گلگت میں ڈیرے ڈال دیے ہیں.&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون ساز اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 664 امیدوار میدان میں قسمت آزما رہے ہیں، جن میں گلگت کے حلقہ دو میں سب سے زیادہ 58 جبکہ دیامر کے حلقہ چار میں سب سے کم 11 امیدواروں کے درمیان انتخابی معرکہ ہوگا.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہاں کی قانون ساز اسمبلی کی کل 33 نشستیں ہیں جن میں 24 جنرل اور نو مخصوص نشستیں شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے اعداد و شمار کے مطابق گلگت کے حلقہ ایک سے 34، حلقہ دو سے 58 اور حلقہ تین سے 32 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ نگر ایک سے 38 اور نگر دو سے 30 امیدوار سامنے آئے ہیں، جبکہ ہنزہ کے واحد حلقے سے 38 امیدوار انتخابی دنگل میں حصہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکردو کے حلقہ ایک سے 33، حلقہ دو سے 23، حلقہ تین سے 18 اور حلقہ چار سے 25 امیدوار مدمقابل ہیں۔ کھرمنگ سے 21 اور ضلع شگر سے 19 امیدواروں نے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ گانچھے ایک سے 15، گانچھے دو سے 29 اور گانچھے تین سے 15 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استور ایک سے 19 جبکہ استور دو سے 57 امیدوار میدان میں ہیں۔ دیامر کے حلقہ ایک سے 29، حلقہ دو سے 15، حلقہ تین سے 14 اور حلقہ چار سے 11 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ غذر ایک سے 20، غذر دو سے 42 اور غذر تین سے 25 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/01162304d026011.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/01162304d026011.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سال 2009 میں پہلی بار یہاں باقاعدہ انتخابات ہوئے جس میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی اور مہدی شاہ پہلے وزیراعلیٰ بنے. اس کے بعد 2015 میں مسلم لیگ ن نے حکومت بنائی اور حافظ حفیظ الرحمان وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، جبکہ 2020 کے تیسرے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے حکومت بنائی اور خالد خورشید وزیراعلیٰ بنے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، جولائی 2023 میں گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدالت نے خالد خورشید کو نااہل قرار دے دیا۔ جس کے بعد تحریک انصاف کے ناراض دھڑے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ارکان نے مل کر ایک مخلوط حکومت بنائی، جس نے حاجی گلبر خان کو نیا وزیراعلیٰ منتخب کیا۔ 24 نومبر 2025 کو اسمبلی کی پانچ سالہ مدت پوری ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد، وزیر اعظم شہباز شریف نے بطور چیئرمین گلگت بلتستان کونسل، ”گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے آرٹیکل 48-A(2)“ کے تحت اسی دن ریٹائرڈ جسٹس یار محمد کو گلگت بلتستان کا نگران وزیراعلیٰ مقرر کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے مطابق، اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد 60 دنوں کے اندر انتخابات کا انعقاد لازمی ہے۔ 12 دسمبر کو صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے لیے 24 جنوری کو پولنگ کا دن مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدارتی حکم کے بعد چیف الیکشن کمشنر راجا شہباز خان نے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات اور طویل عرصے سے تاخیر کا شکار بلدیاتی انتخابات دونوں کا شیڈول جاری کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505966/differences-in-pti-khyber-pakhtunkhwa-members-absent-from-parliamentary-meeting-whatsapp-group-messages-ali-amin-gandapur-sohail-afridi'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505966"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;18 دسمبر کو متعدد سیاسی جماعتوں کے اجلاسوں اور پارٹی سربراہان کی اکثریتی رائے کے بعد، چیف الیکشن کمشنر نے شدید موسم کی وجہ سے انتخابات ملتوی کر دیے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا تھا کہ دونوں انتخابات کے لیے پولنگ کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف الیکشن کمشنر نے میڈیا کو بتایا تھا کہ دونوں انتخابات کا شیڈول ”مئی کے آخری ہفتے یا جون کے اوائل“ کے لیے جاری کیا جائے گا، جب موسم معمول پر آ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب چونکہ انتخابات کا اعلان ہوگیا ہے اور تیاریاں بھی زور شور سے جاری ہیں تو موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ سوال عام ہے کہ اس بار کس کا پلڑا بھاری رہے گا. تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس بار بظاہر دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نظر آ رہا ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے زور و شور سے مہم شروع کی ہے اور سب سے زیادہ امیدوار بھی انہی دونوں جماعتوں نے کھڑے کیے ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی نے تمام 24 حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کر کے سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن 22 حلقوں میں اپنے امیدواروں کے ساتھ میدان میں ہے اور دو حلقوں میں اس نے دوسری جماعتوں سے اتحاد کیا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) انتخابی مہم میں دور دور تک نظر نہیں آرہی۔ یہاں تک کہ پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر گلگت پہنچے تو انہیں ساتھیوں سمیت گرفتار کرکے گلگت سے باہر یہ کہہ کر کردیا گیا کہ انہوں نے انتخابی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بار تحریک انصاف کو انتخابی نشان بھی جاری نہیں ہوا اور ان کے امیدوار آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505894/pti-leader-junaid-akbar-arrested-from-hunza-along-with-his-companions-expelled-from-the-province'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505894"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پہلی بار استحکامِ پاکستان پارٹی بھی گلگت بلتستان میں سرگرم نظر آ رہی ہے اور سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان کی سربراہی میں الیکشن میں حصہ لے رہی ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں مقابلہ نظر آ رہا ہے، جبکہ کچھ حلقوں میں شخصی ووٹ بھی اثر انداز ہوں گے، جس سے استحکام پارٹی کو فائدہ ہو سکتا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان کے انتخابات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد کی سیاست یہاں پر گہرا اثر ڈالتی ہے. تاریخ بتاتی ہے کہ گلگت بلتستان میں الیکشن پر اسلام آباد کا اثر ہوتا ہے اور جس جماعت کی اسلام آباد میں حکومت ہوتی ہے، ماضی میں اسی جماعت کو انتخابات میں کامیابی ملی ہے، گزشتہ تین انتخابات میں یہی دیکھنے کو ملا اور اس بار بھی ایسا ہی نظر آ رہا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں اس بار ن لیگ کو فائدہ پہنچتا نظر آرہا ہے کیونکہ مرکز میں اس کی حکومت ہے. تاہم، کچھ حلقوں، جیسے استور سے سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی والدہ امیدوار ہیں، جس سے ہمدردی کے ووٹ ملنے کے امکانات زیادہ ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی وابستگیوں کے علاوہ مقامی سطح پر برادری اور رشتہ داری کا نظام بھی جیت اور ہار کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. گلگت بلتستان میں انتخابات باقی ملک کی نسبت ذرا مختلف ہوتے ہیں، یہاں رشتہ داری، برادری، مذہب اور علاقائیت کو بھی ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ پارٹیوں کا ووٹ بینک بھی موجود ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان انتخابات میں آئینی حیثیت، صوبائی حقوق، نوجوانوں کے لیے روزگار، سیاحت، ماحولیاتی تبدیلی اور سی پیک جیسے منصوبے ووٹرز کے لیے اہم ترین موضوعات بنے ہوئے ہیں.&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے چار ماہ کی تاخیر کے بعد سات جون کی تاریخ مقرر کیے جانے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے گلگت میں ڈیرے ڈال دیے ہیں.</strong></p>
<p>قانون ساز اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 664 امیدوار میدان میں قسمت آزما رہے ہیں، جن میں گلگت کے حلقہ دو میں سب سے زیادہ 58 جبکہ دیامر کے حلقہ چار میں سب سے کم 11 امیدواروں کے درمیان انتخابی معرکہ ہوگا.</p>
<p>گلگت بلتستان کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہاں کی قانون ساز اسمبلی کی کل 33 نشستیں ہیں جن میں 24 جنرل اور نو مخصوص نشستیں شامل ہیں.</p>
<p>الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے اعداد و شمار کے مطابق گلگت کے حلقہ ایک سے 34، حلقہ دو سے 58 اور حلقہ تین سے 32 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ نگر ایک سے 38 اور نگر دو سے 30 امیدوار سامنے آئے ہیں، جبکہ ہنزہ کے واحد حلقے سے 38 امیدوار انتخابی دنگل میں حصہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>اسکردو کے حلقہ ایک سے 33، حلقہ دو سے 23، حلقہ تین سے 18 اور حلقہ چار سے 25 امیدوار مدمقابل ہیں۔ کھرمنگ سے 21 اور ضلع شگر سے 19 امیدواروں نے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ گانچھے ایک سے 15، گانچھے دو سے 29 اور گانچھے تین سے 15 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔</p>
<p>استور ایک سے 19 جبکہ استور دو سے 57 امیدوار میدان میں ہیں۔ دیامر کے حلقہ ایک سے 29، حلقہ دو سے 15، حلقہ تین سے 14 اور حلقہ چار سے 11 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ غذر ایک سے 20، غذر دو سے 42 اور غذر تین سے 25 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/01162304d026011.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/01162304d026011.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>سال 2009 میں پہلی بار یہاں باقاعدہ انتخابات ہوئے جس میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی اور مہدی شاہ پہلے وزیراعلیٰ بنے. اس کے بعد 2015 میں مسلم لیگ ن نے حکومت بنائی اور حافظ حفیظ الرحمان وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، جبکہ 2020 کے تیسرے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے حکومت بنائی اور خالد خورشید وزیراعلیٰ بنے.</p>
<p>تاہم، جولائی 2023 میں گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدالت نے خالد خورشید کو نااہل قرار دے دیا۔ جس کے بعد تحریک انصاف کے ناراض دھڑے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ارکان نے مل کر ایک مخلوط حکومت بنائی، جس نے حاجی گلبر خان کو نیا وزیراعلیٰ منتخب کیا۔ 24 نومبر 2025 کو اسمبلی کی پانچ سالہ مدت پوری ہوئی۔</p>
<p>اس کے بعد، وزیر اعظم شہباز شریف نے بطور چیئرمین گلگت بلتستان کونسل، ”گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے آرٹیکل 48-A(2)“ کے تحت اسی دن ریٹائرڈ جسٹس یار محمد کو گلگت بلتستان کا نگران وزیراعلیٰ مقرر کر دیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے مطابق، اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد 60 دنوں کے اندر انتخابات کا انعقاد لازمی ہے۔ 12 دسمبر کو صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے لیے 24 جنوری کو پولنگ کا دن مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>صدارتی حکم کے بعد چیف الیکشن کمشنر راجا شہباز خان نے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات اور طویل عرصے سے تاخیر کا شکار بلدیاتی انتخابات دونوں کا شیڈول جاری کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505966/differences-in-pti-khyber-pakhtunkhwa-members-absent-from-parliamentary-meeting-whatsapp-group-messages-ali-amin-gandapur-sohail-afridi'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505966"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>18 دسمبر کو متعدد سیاسی جماعتوں کے اجلاسوں اور پارٹی سربراہان کی اکثریتی رائے کے بعد، چیف الیکشن کمشنر نے شدید موسم کی وجہ سے انتخابات ملتوی کر دیے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا تھا کہ دونوں انتخابات کے لیے پولنگ کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔</p>
<p>چیف الیکشن کمشنر نے میڈیا کو بتایا تھا کہ دونوں انتخابات کا شیڈول ”مئی کے آخری ہفتے یا جون کے اوائل“ کے لیے جاری کیا جائے گا، جب موسم معمول پر آ جائے گا۔</p>
<p>اب چونکہ انتخابات کا اعلان ہوگیا ہے اور تیاریاں بھی زور شور سے جاری ہیں تو موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ سوال عام ہے کہ اس بار کس کا پلڑا بھاری رہے گا. تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس بار بظاہر دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نظر آ رہا ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے زور و شور سے مہم شروع کی ہے اور سب سے زیادہ امیدوار بھی انہی دونوں جماعتوں نے کھڑے کیے ہیں.</p>
<p>پیپلز پارٹی نے تمام 24 حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کر کے سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن 22 حلقوں میں اپنے امیدواروں کے ساتھ میدان میں ہے اور دو حلقوں میں اس نے دوسری جماعتوں سے اتحاد کیا ہے.</p>
<p>دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) انتخابی مہم میں دور دور تک نظر نہیں آرہی۔ یہاں تک کہ پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر گلگت پہنچے تو انہیں ساتھیوں سمیت گرفتار کرکے گلگت سے باہر یہ کہہ کر کردیا گیا کہ انہوں نے انتخابی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی۔</p>
<p>اس بار تحریک انصاف کو انتخابی نشان بھی جاری نہیں ہوا اور ان کے امیدوار آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505894/pti-leader-junaid-akbar-arrested-from-hunza-along-with-his-companions-expelled-from-the-province'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505894"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پہلی بار استحکامِ پاکستان پارٹی بھی گلگت بلتستان میں سرگرم نظر آ رہی ہے اور سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان کی سربراہی میں الیکشن میں حصہ لے رہی ہے.</p>
<p>بظاہر پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں مقابلہ نظر آ رہا ہے، جبکہ کچھ حلقوں میں شخصی ووٹ بھی اثر انداز ہوں گے، جس سے استحکام پارٹی کو فائدہ ہو سکتا ہے.</p>
<p>گلگت بلتستان کے انتخابات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد کی سیاست یہاں پر گہرا اثر ڈالتی ہے. تاریخ بتاتی ہے کہ گلگت بلتستان میں الیکشن پر اسلام آباد کا اثر ہوتا ہے اور جس جماعت کی اسلام آباد میں حکومت ہوتی ہے، ماضی میں اسی جماعت کو انتخابات میں کامیابی ملی ہے، گزشتہ تین انتخابات میں یہی دیکھنے کو ملا اور اس بار بھی ایسا ہی نظر آ رہا ہے.</p>
<p>یوں اس بار ن لیگ کو فائدہ پہنچتا نظر آرہا ہے کیونکہ مرکز میں اس کی حکومت ہے. تاہم، کچھ حلقوں، جیسے استور سے سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی والدہ امیدوار ہیں، جس سے ہمدردی کے ووٹ ملنے کے امکانات زیادہ ہیں.</p>
<p>سیاسی وابستگیوں کے علاوہ مقامی سطح پر برادری اور رشتہ داری کا نظام بھی جیت اور ہار کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. گلگت بلتستان میں انتخابات باقی ملک کی نسبت ذرا مختلف ہوتے ہیں، یہاں رشتہ داری، برادری، مذہب اور علاقائیت کو بھی ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ پارٹیوں کا ووٹ بینک بھی موجود ہے.</p>
<p>ان انتخابات میں آئینی حیثیت، صوبائی حقوق، نوجوانوں کے لیے روزگار، سیاحت، ماحولیاتی تبدیلی اور سی پیک جیسے منصوبے ووٹرز کے لیے اہم ترین موضوعات بنے ہوئے ہیں.</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505992</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 16:26:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سفیر الہٰی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/01160455c13a7d1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/01160455c13a7d1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
