<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 17:28:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 02 Jun 2026 17:28:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیروت پر حملے روکنے کا فیصلہ: اسرائیلی وزرا وزیرِاعظم نیتن یاہو پر چڑھ دوڑے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506035/disagreements-over-lebanon-ceasefire-israeli-minister-calls-on-netanyahu-to-say-no-to-trump</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملے روکنے کے اعلان پر اسرائیل کے اندر سیاسی تقسیم کھل کر کر سامنے آگئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اعلان کی توثیق کی بعد ان کی کابینہ کے متعصب ترین وزیر نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے لبنان پر حملے جاری رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کےسخت گیر نظریات رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں مجوزہ جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کو مسترد کریں اور فوجی کارروائیاں مزید تیز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں بن گویر نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے ایک سابق بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’آپ نے خود کہا تھا کہ ایک مضبوط وزیراعظم امریکی صدر کو جہاں ممکن ہو ’ہاں‘ اور جہاں ضروری ہو ’نہیں‘ کہتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے دوست صدر ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں ہمارے دوست صدر ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہہ کر صاف انکار کرنا چاہیے۔ اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں جنگ بندی کے بجائے حزب اللہ کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/itamarbengvir/status/2061513201011831185'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/itamarbengvir/status/2061513201011831185"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اقدامات کیے جائیں جو ضروری ہیں، حزب اللہ کو نشانہ بنایا جائے، ہمارے جنگجوؤں کے ہاتھ کھولے جائیں اور شمالی اسرائیل میں سکیورٹی بحال کی جائے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتمار بن گویر اسرائیلی کابینہ کے ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو لبنان اور غزہ میں فوجی کارروائیوں کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتے ہیں اور ماضی میں بھی جنگ بندی کی مختلف تجاویز کی مخالفت کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بن گویر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا لبنان میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے، وہیں اسرائیلی حکومت کے بعض سخت گیر وزرا اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506003/trump-lashed-out-at-netanyahu-over-escalation-in-lebanon'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506003"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی نیوز ویب سائٹ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.axios.com/2026/06/01/trump-netanyahu-israel-lebanon-call"&gt;ایگزیوس &lt;/a&gt;کے مطابق صدر ٹرمپ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملوں کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو فون کرکے شدید برہمی کا اظہار کیا اور انتہائی سخت زبان استعمال کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ماضی میں بھی اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں لیکن امریکی حکام کے مطابق حالیہ فون کال دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت ترین گفتگو تھی۔ جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے لبنان پر حملے روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے پر اسرائیل میں نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے علاوہ کابینہ کی جانب سے بھی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.i24news.tv/en/news/israel/politics/artc-a-gov-t-that-has-lost-control-of-israeli-sovereignty-politicians-lash-out-at-netanyahu-after-trump-halts-beirut-op"&gt;اسرائیلی اخبار&lt;/a&gt; کے مطابق سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی اس معاملے پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ’یروشلم، بیت شمس، لبنان یا غزہ، جگہیں بدلتی ہیں لیکن ایک ہی کہانی ہے۔ یہ ایسی حکومت ہے جس نے اسرائیلی خودمختاری پر اپنا کنٹرول کھو دیا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن اور سابق آرمی چیف گاڈی آئزنکوٹ نے بھی حکومت پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی تاریخ میں شاید ہی کوئی وزیراعظم ایسا ہوا ہو جو نامناسب مطالبے پر اس حد تک جھکا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکمران جماعت لیکود کے رکنِ پارلیمنٹ ڈین ایلوز نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیتن یاہو کے ماضی کے بیان کا حوالہ دیا کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’کوئی بین الاقوامی دباؤ اسرائیل کو اپنے دفاع سے نہیں روک سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران کے مذاکرات کاروں نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جنگ بندی کی کوششوں کو نظرانداز کرتے ہوئے لبنان پر جارحیت جاری رکھی، تو تہران براہِ راست اس جنگ میں کود پڑے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملے روکنے کے اعلان پر اسرائیل کے اندر سیاسی تقسیم کھل کر کر سامنے آگئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اعلان کی توثیق کی بعد ان کی کابینہ کے متعصب ترین وزیر نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے لبنان پر حملے جاری رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>اسرائیل کےسخت گیر نظریات رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں مجوزہ جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کو مسترد کریں اور فوجی کارروائیاں مزید تیز کریں۔</p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں بن گویر نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے ایک سابق بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’آپ نے خود کہا تھا کہ ایک مضبوط وزیراعظم امریکی صدر کو جہاں ممکن ہو ’ہاں‘ اور جہاں ضروری ہو ’نہیں‘ کہتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے دوست صدر ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہا جائے۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں ہمارے دوست صدر ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہہ کر صاف انکار کرنا چاہیے۔ اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں جنگ بندی کے بجائے حزب اللہ کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کی ضرورت ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/itamarbengvir/status/2061513201011831185'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/itamarbengvir/status/2061513201011831185"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اقدامات کیے جائیں جو ضروری ہیں، حزب اللہ کو نشانہ بنایا جائے، ہمارے جنگجوؤں کے ہاتھ کھولے جائیں اور شمالی اسرائیل میں سکیورٹی بحال کی جائے‘۔</p>
<p>اتمار بن گویر اسرائیلی کابینہ کے ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو لبنان اور غزہ میں فوجی کارروائیوں کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتے ہیں اور ماضی میں بھی جنگ بندی کی مختلف تجاویز کی مخالفت کر چکے ہیں۔</p>
<p>بن گویر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا لبنان میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے، وہیں اسرائیلی حکومت کے بعض سخت گیر وزرا اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506003/trump-lashed-out-at-netanyahu-over-escalation-in-lebanon'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506003"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی نیوز ویب سائٹ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.axios.com/2026/06/01/trump-netanyahu-israel-lebanon-call">ایگزیوس </a>کے مطابق صدر ٹرمپ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملوں کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو فون کرکے شدید برہمی کا اظہار کیا اور انتہائی سخت زبان استعمال کی۔</p>
<p>اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ماضی میں بھی اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں لیکن امریکی حکام کے مطابق حالیہ فون کال دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت ترین گفتگو تھی۔ جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے لبنان پر حملے روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔</p>
<p>اس فیصلے پر اسرائیل میں نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے علاوہ کابینہ کی جانب سے بھی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.i24news.tv/en/news/israel/politics/artc-a-gov-t-that-has-lost-control-of-israeli-sovereignty-politicians-lash-out-at-netanyahu-after-trump-halts-beirut-op">اسرائیلی اخبار</a> کے مطابق سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی اس معاملے پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ’یروشلم، بیت شمس، لبنان یا غزہ، جگہیں بدلتی ہیں لیکن ایک ہی کہانی ہے۔ یہ ایسی حکومت ہے جس نے اسرائیلی خودمختاری پر اپنا کنٹرول کھو دیا ہے‘۔</p>
<p>اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن اور سابق آرمی چیف گاڈی آئزنکوٹ نے بھی حکومت پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی تاریخ میں شاید ہی کوئی وزیراعظم ایسا ہوا ہو جو نامناسب مطالبے پر اس حد تک جھکا ہو۔</p>
<p>حکمران جماعت لیکود کے رکنِ پارلیمنٹ ڈین ایلوز نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیتن یاہو کے ماضی کے بیان کا حوالہ دیا کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’کوئی بین الاقوامی دباؤ اسرائیل کو اپنے دفاع سے نہیں روک سکتا۔</p>
<p>دوسری جانب ایران کے مذاکرات کاروں نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جنگ بندی کی کوششوں کو نظرانداز کرتے ہوئے لبنان پر جارحیت جاری رکھی، تو تہران براہِ راست اس جنگ میں کود پڑے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506035</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:58:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/021546069569b63.webp" type="image/webp" medium="image" height="1600" width="2666">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/021546069569b63.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
