<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 14:05:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 08 Jun 2026 14:05:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں تیزی، پاکستان اور بھارت کے پاس کتنے نیوکلیئر ہتھیار موجود ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506232/india-nuclear-lead-over-pakistan-arsenal-warheads-sipri</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) نے اپنی نئی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کی موجودہ صورتحال، پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری مقابلے اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے جنگی خطرات کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sipri.org/media/press-release/2026/increasing-focus-nuclear-weapons-amid-heightened-escalation-risks-new-sipri-yearbook-out-now"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; میں رقم کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت دونوں اپنے جوہری پروگراموں کو تیزی سے وسعت دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری 2026 تک بھارت کے پاس لگ بھگ 190 اور پاکستان کے پاس 170 ایٹمی وار ہیڈز موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ دونوں ممالک کے پاس زمین، فضا اور سمندر سے ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت یعنی نیوکلیئر ٹرائڈ موجود ہے اور اس میں وسعت دی جا رہی ہے لیکن دونوں کی جنگی حکمتِ عملی میں واضح فرق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپری کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کی پالیسی پہلے حملہ نہ کرنے یعنی ’نو فرسٹ یوز‘ کی ہے اور اس کا بنیادی نشانہ چین اور پاکستان دونوں ہیں، جبکہ پاکستان کی پالیسی ضرورت پڑنے پر پہلے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی ہے اور اس کا پورا فوکس صرف بھارت پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے پاس رافیل اور میراج طیارے، اگنی سیریز کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور ایٹمی آبدوز آئی این ایس اریہانت موجود ہے، جبکہ پاکستان کے پاس ایف 16 اور جے ایف 17 طیارے اور شاہین و غوری میزائل موجود ہیں، جبکہ سمندر سے نیوکلئیر حملے کی صلاحیت کو جدید بنانے پر ابھی کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 تک دنیا بھر میں نو ممالک کے پاس مجموعی طور پر 12 ہزار 187 ایٹمی وار ہیڈز موجود تھے۔ ان میں سے 9 ہزار 745 وار ہیڈز ذخائر کا حصہ ہیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 130 زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت 4 ہزار 12 ایٹمی وار ہیڈز میزائلوں پر نصب ہیں جبکہ تقریباً 2 ہزار 150 بیلسٹک میزائل ایسے ہیں جو بالکل تیار حالت میں ہائی الرٹ پر رکھے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، دنیا کے کل ایٹمی ذخائر کا 82 فیصد حصہ صرف روس اور امریکا کے پاس ہے، جہاں روس 4 ہزار 380 اور امریکا 3 ہزار 700 ہیڈز کے ساتھ سرِفہرست ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بعد چین 620، فرانس 290، برطانیہ 225، بھارت 190، پاکستان 170، اسرائیل تقریباً 90 اور شمالی کوریا 60 وار ہیڈز کے مالک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں عالمی سطح پر رونما ہونے والی دیگر اہم تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ چین کا ایٹمی ذخیرہ سب سے تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس نے اپنے نئے میزائلوں کے نیٹ ورک میں سیکڑوں میزائل شامل کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس اور امریکا کو اپنے نئے میزائل سسٹمز کی تیاری میں تاخیر اور بھاری اخراجات کا سامنا ہے، جبکہ برطانیہ نے اپنے جوہری طیاروں کو نیٹو کے نیٹ ورک کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس کے صدر میکرون نے مارچ 2026 میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد بڑھانے کا حکم دیتے ہوئے اس حوالے سے معلومات کو عوامی سطح پر ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی کوریا بھی اپنے ایٹمی ہدف کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تمام حالات کے باعث دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کو چھپانے کا رجحان بڑھ گیا ہے اور ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2026 میں امریکا اور روس کے درمیان نیو اسٹارٹ معاہدہ ختم ہو گیا تھا اور مئی 2026 میں ہونے والی عالمی جوہری کانفرنس بھی کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئی تھی، جس سے ایٹمی پھیلاؤ کو روکنے کا نظام کمزور پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے بڑے ماہرین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپری اور فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس سے وابستہ ہانس ایم کرسٹینسن نے عالمی طاقتوں کے روئیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کے شواہد بڑھ رہے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک نہ صرف ہتھیاروں کی کمی کے اپنے مخلصانہ وعدوں کو پسِ پشت ڈال رہے ہیں اور ان سے دور ہٹ رہے ہیں بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے ایٹمی مسلز کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے آخر میں یہ انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے کہ ایٹمی کمانڈ سسٹمز میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال غیر یقینی کی ایک نئی لہر پیدا کر رہا ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو پرانے ہتھیاروں کو ناکارہ بنانے کی رفتار کے مقابلے میں نئے ہتھیار تیار کرنے کی رفتار بہت زیادہ بڑھ جائے گی، جو پوری دنیا کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) نے اپنی نئی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کی موجودہ صورتحال، پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری مقابلے اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے جنگی خطرات کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sipri.org/media/press-release/2026/increasing-focus-nuclear-weapons-amid-heightened-escalation-risks-new-sipri-yearbook-out-now">رپورٹ</a> میں رقم کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت دونوں اپنے جوہری پروگراموں کو تیزی سے وسعت دے رہے ہیں۔</p>
<p>جنوری 2026 تک بھارت کے پاس لگ بھگ 190 اور پاکستان کے پاس 170 ایٹمی وار ہیڈز موجود تھے۔</p>
<p>اگرچہ دونوں ممالک کے پاس زمین، فضا اور سمندر سے ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت یعنی نیوکلیئر ٹرائڈ موجود ہے اور اس میں وسعت دی جا رہی ہے لیکن دونوں کی جنگی حکمتِ عملی میں واضح فرق ہے۔</p>
<p>سپری کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کی پالیسی پہلے حملہ نہ کرنے یعنی ’نو فرسٹ یوز‘ کی ہے اور اس کا بنیادی نشانہ چین اور پاکستان دونوں ہیں، جبکہ پاکستان کی پالیسی ضرورت پڑنے پر پہلے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی ہے اور اس کا پورا فوکس صرف بھارت پر ہے۔</p>
<p>بھارت کے پاس رافیل اور میراج طیارے، اگنی سیریز کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور ایٹمی آبدوز آئی این ایس اریہانت موجود ہے، جبکہ پاکستان کے پاس ایف 16 اور جے ایف 17 طیارے اور شاہین و غوری میزائل موجود ہیں، جبکہ سمندر سے نیوکلئیر حملے کی صلاحیت کو جدید بنانے پر ابھی کام جاری ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 تک دنیا بھر میں نو ممالک کے پاس مجموعی طور پر 12 ہزار 187 ایٹمی وار ہیڈز موجود تھے۔ ان میں سے 9 ہزار 745 وار ہیڈز ذخائر کا حصہ ہیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 130 زیادہ ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت 4 ہزار 12 ایٹمی وار ہیڈز میزائلوں پر نصب ہیں جبکہ تقریباً 2 ہزار 150 بیلسٹک میزائل ایسے ہیں جو بالکل تیار حالت میں ہائی الرٹ پر رکھے گئے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، دنیا کے کل ایٹمی ذخائر کا 82 فیصد حصہ صرف روس اور امریکا کے پاس ہے، جہاں روس 4 ہزار 380 اور امریکا 3 ہزار 700 ہیڈز کے ساتھ سرِفہرست ہیں۔</p>
<p>ان کے بعد چین 620، فرانس 290، برطانیہ 225، بھارت 190، پاکستان 170، اسرائیل تقریباً 90 اور شمالی کوریا 60 وار ہیڈز کے مالک ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں عالمی سطح پر رونما ہونے والی دیگر اہم تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ چین کا ایٹمی ذخیرہ سب سے تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس نے اپنے نئے میزائلوں کے نیٹ ورک میں سیکڑوں میزائل شامل کیے ہیں۔</p>
<p>روس اور امریکا کو اپنے نئے میزائل سسٹمز کی تیاری میں تاخیر اور بھاری اخراجات کا سامنا ہے، جبکہ برطانیہ نے اپنے جوہری طیاروں کو نیٹو کے نیٹ ورک کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>فرانس کے صدر میکرون نے مارچ 2026 میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد بڑھانے کا حکم دیتے ہوئے اس حوالے سے معلومات کو عوامی سطح پر ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>شمالی کوریا بھی اپنے ایٹمی ہدف کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تمام حالات کے باعث دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کو چھپانے کا رجحان بڑھ گیا ہے اور ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہو گئی ہے۔</p>
<p>فروری 2026 میں امریکا اور روس کے درمیان نیو اسٹارٹ معاہدہ ختم ہو گیا تھا اور مئی 2026 میں ہونے والی عالمی جوہری کانفرنس بھی کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئی تھی، جس سے ایٹمی پھیلاؤ کو روکنے کا نظام کمزور پڑ رہا ہے۔</p>
<p>دنیا کے بڑے ماہرین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>سپری اور فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس سے وابستہ ہانس ایم کرسٹینسن نے عالمی طاقتوں کے روئیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کے شواہد بڑھ رہے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک نہ صرف ہتھیاروں کی کمی کے اپنے مخلصانہ وعدوں کو پسِ پشت ڈال رہے ہیں اور ان سے دور ہٹ رہے ہیں بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے ایٹمی مسلز کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے آخر میں یہ انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے کہ ایٹمی کمانڈ سسٹمز میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال غیر یقینی کی ایک نئی لہر پیدا کر رہا ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو پرانے ہتھیاروں کو ناکارہ بنانے کی رفتار کے مقابلے میں نئے ہتھیار تیار کرنے کی رفتار بہت زیادہ بڑھ جائے گی، جو پوری دنیا کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506232</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 11:31:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0811293074fc53e.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0811293074fc53e.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
