<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 19:16:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 08 Jun 2026 19:16:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اتحادیوں پر حملہ ایران پر حملہ تصور ہوگا، بھرپور جواب دیں گے: ایران</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506245/iran-warns-attack-on-allies-will-be-considered-attack-on-iran-full-response-promised</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی مصلحتِ نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ صادق آملی لاریجانی نے کہا ہے کہ لبنان کے دفاع میں اسرائیل پر ایران کا حملہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک نظریے کے باضابطہ اعلان کی حیثیت رکھتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق آملی لاریجانی نے کہا ہے کہ یہ حملے ایک واضح پیغام ہیں کہ اگر محورِ مزاحمت کے کسی بھی حصے پر حملہ کیا گیا تو اس کا جواب جغرافیائی سرحدوں سے ماورا انداز میں دیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں خطے کی طاقت کے توازن اور علاقائی معادلات تبدیل ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ محورِ مزاحمت میں حزب اللہ سمیت دیگر گروہ شامل ہیں، اور ان میں سے کسی بھی فریق کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں ردعمل ناگزیر ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506214/uss-contradictory-and-changing-statements-are-the-biggest-obstacle-to-negotiations-iran'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506214"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ تہران نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے یا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا جاتا ہے تو اس کا سامنا ایک جامع اور باز رکھنے والے ردعمل سے ہوگا، جس کا دائرہ اس محاذ آرائی کی حمایت کرنے والے تمام فریقوں تک پھیل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آملی لاریجانی نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی دفاعی پالیسی میں ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول اب علاقائی طاقت کے تحفظ کی حکمت عملی صرف خطرات کے انتظار پر مبنی نہیں ہوگی بلکہ پیشگی اقدام اور جارحانہ قوت کے استعمال کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506206/us-iran-near-deal-failed-how-many-times'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506206"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ محورِ مزاحمت ایران کے حمایت یافتہ علاقائی اتحادیوں اور مسلح گروہوں کا ایک غیر رسمی نیٹ ورک ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکی اثر و رسوخ کی مخالفت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اتحاد میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم، یمن کے حوثی، عراق اور شام کے ایران نواز شیعہ مسلح گروہ، اور مختلف ادوار میں فلسطینی تنظیمیں بھی شامل رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق ایران نے کئی دہائیوں کے دوران ان گروہوں کو سیاسی، مالی اور عسکری حمایت فراہم کی، جس کے باعث انہیں اجتماعی طور پر محورِ مزاحمت کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی مصلحتِ نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ صادق آملی لاریجانی نے کہا ہے کہ لبنان کے دفاع میں اسرائیل پر ایران کا حملہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک نظریے کے باضابطہ اعلان کی حیثیت رکھتا ہے۔</strong></p>
<p>عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق آملی لاریجانی نے کہا ہے کہ یہ حملے ایک واضح پیغام ہیں کہ اگر محورِ مزاحمت کے کسی بھی حصے پر حملہ کیا گیا تو اس کا جواب جغرافیائی سرحدوں سے ماورا انداز میں دیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں خطے کی طاقت کے توازن اور علاقائی معادلات تبدیل ہو جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ محورِ مزاحمت میں حزب اللہ سمیت دیگر گروہ شامل ہیں، اور ان میں سے کسی بھی فریق کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں ردعمل ناگزیر ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506214/uss-contradictory-and-changing-statements-are-the-biggest-obstacle-to-negotiations-iran'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506214"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ تہران نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے یا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا جاتا ہے تو اس کا سامنا ایک جامع اور باز رکھنے والے ردعمل سے ہوگا، جس کا دائرہ اس محاذ آرائی کی حمایت کرنے والے تمام فریقوں تک پھیل سکتا ہے۔</p>
<p>آملی لاریجانی نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی دفاعی پالیسی میں ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔</p>
<p>ان کے بقول اب علاقائی طاقت کے تحفظ کی حکمت عملی صرف خطرات کے انتظار پر مبنی نہیں ہوگی بلکہ پیشگی اقدام اور جارحانہ قوت کے استعمال کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کیے جائیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506206/us-iran-near-deal-failed-how-many-times'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506206"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ محورِ مزاحمت ایران کے حمایت یافتہ علاقائی اتحادیوں اور مسلح گروہوں کا ایک غیر رسمی نیٹ ورک ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکی اثر و رسوخ کی مخالفت کرتا ہے۔</p>
<p>اس اتحاد میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم، یمن کے حوثی، عراق اور شام کے ایران نواز شیعہ مسلح گروہ، اور مختلف ادوار میں فلسطینی تنظیمیں بھی شامل رہی ہیں۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق ایران نے کئی دہائیوں کے دوران ان گروہوں کو سیاسی، مالی اور عسکری حمایت فراہم کی، جس کے باعث انہیں اجتماعی طور پر محورِ مزاحمت کہا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506245</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 15:53:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/08155156e5c68b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/08155156e5c68b0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
