<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 13:04:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 09 Jun 2026 13:04:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیمیکل سے پکے آموں کی مارکیٹ میں بھرمار، اصلی اور نقلی آم کی پہچان کے تین آسان طریقے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506254/market-flooded-with-chemically-ripened-mangoes-three-easy-ways-to-identify-real-and-artificially-ripened-mangoes</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آم کو ہر کوئی بڑے شوق سے کھاتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ جو آم آپ بڑے شوق سے کھا رہے ہیں وہ کہیں کیمیکل سے تو نہیں پکایا گیا؟ آج کل بازاروں میں کیمیکل کی مدد سے پکائے گئے آم دھڑلے سے بیچے جا رہے ہیں، ایسی صورتحال میں ایک عام خریدار کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اچھے اور قدرتی طور پر پکے ہوئے آم کی پہچان کیسے کی جائے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کے دور میں مارکیٹ میں شاید ہی کوئی ایسی چیز بچی ہو جس میں کسی نہ کسی شکل میں کیمیکل کا استعمال نہ کیا جا رہا ہو۔ پھلوں کو جلدی پکانے اور انہیں باہر سے خوبصورت اور دلکش دکھانے کے لیے اکثر کیمیکلز کا سہارا لیا جاتا ہے اور آم بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ بازار سے بہت زیادہ پیلے اور باہر سے بالکل پکے ہوئے آم خرید رہے ہیں تو یہ بالکل ضروری نہیں کہ وہ درخت پر ہی پکے ہوں۔ کئی بار آموں کو مصنوعی طریقوں اور خطرناک کیمیکلز سے پکایا جاتا ہے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506130/how-to-buy-sweet-and-juicy-mangoes-from-the-market'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506130"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آموں کو جلدی پکانے کے لیے اکثر کیلشیم کاربائیڈ جیسے خطرناک کیمیکلز یا انجکشن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کیمیکل سے پکے ہوئے آم باہر سے تو بالکل تازہ اور گہرے پیلے نظر آتے ہیں لیکن صحت کے لیے یہ کیمیکل کسی زہر سے کم نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس کیمیکل والے آموں کو طویل عرصے تک کھانے سے سر درد، چکر آنا، سانس لینے میں تکلیف، الٹیاں اور معدے کی سنگین بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اصلی اور قدرتی آم پہچاننے کے 3 طریقے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام خریدار صرف تین آسان طریقوں پر عمل کر کے صحیح اور محفوظ آم کی پہچان کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رنگ پر غور کریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلا طریقہ آم کا رنگ دیکھنا ہے۔ کیمیکل سے پکائے گئے آم کا رنگ ہر طرف سے ایک جیسا اور بہت زیادہ گہرا پیلا ہوتا ہے، جبکہ درخت پر قدرتی طور پر پکنے والے آموں کا رنگ ہر جگہ سے ایک جیسا نہیں ہوتا، ان میں تھوڑا پیلا اور تھوڑا سبز رنگ مکس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بعض قسم کے آم قدرتی طور پر بھی بالکل پیلے ہوتے ہیں، لیکن اگر دکان پر موجود ہر قسم کا آم ہی ضرورت سے زیادہ پیلا نظر آئے تو سمجھ جائیں کہ دال میں کچھ کالا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہاتھ سے دبا کر دیکھیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا طریقہ آم کو دبا کر چیک کرنا ہے۔ کیمیکل سے پکے ہوئے آم کو جب آپ چھوئیں گے تو وہ باہر سے سخت محسوس ہوگا لیکن اندر سے بالکل گلا ہوا یا نرم لگے گا۔ کیمیکل میں بار بار رکھنے کی وجہ سے آم اندر سے ضرورت سے زیادہ پگھل جاتے ہیں۔ اگر آپ ایسا آم کھا کر دیکھیں گے تو آپ کو اس کا ذائقہ بھی عام آموں کے مقابلے میں تھوڑا پھیکا یا عجیب سا لگے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506060/how-beneficial-is-soaking-mangoes-in-water-before-eating-experts-reveal-the-truth'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506060"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیاہ دھبوں یا نشانات کو چیک کریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا اور آخری طریقہ انجکشن کے نشانات تلاش کرنا ہے۔ بہت سے آموں پر کالے دھبے یا پچکے ہوئے نشانات ہوتے ہیں جنہیں ہم اکثر عام خرابی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ نشانات انجکشن کی وجہ سے بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بھی آپ آم خریدیں تو یہ ضرور دیکھیں کہ جہاں سے آم ٹہنی سے جڑا ہوتا ہے، کیا وہاں کوئی دبا ہوا یا کالا نشان تو نہیں ہے؟ کئی آموں میں یہ نشانات نچلے حصے پر بھی پائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت مند انتخاب کے لیے ایسے آم خریدیں جو قدرتی خوشبو رکھتے ہوں، رنگ میں ہلکی غیر یکسانیت ہو اور غیر معمولی چمک سے پاک ہوں۔ اگر ممکن ہو تو معتبر دکانداروں یا کسانوں سے آم خریدیں تاکہ کیمیکل کے استعمال کے خطرات کم ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رکھیں: خوبصورت نظر آنے والا ہر آم لازمی طور پر قدرتی نہیں ہوتا، اس لیے خریداری سے پہلے چند لمحے نکال کر اس کی جانچ ضرور کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آم کو ہر کوئی بڑے شوق سے کھاتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ جو آم آپ بڑے شوق سے کھا رہے ہیں وہ کہیں کیمیکل سے تو نہیں پکایا گیا؟ آج کل بازاروں میں کیمیکل کی مدد سے پکائے گئے آم دھڑلے سے بیچے جا رہے ہیں، ایسی صورتحال میں ایک عام خریدار کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اچھے اور قدرتی طور پر پکے ہوئے آم کی پہچان کیسے کی جائے؟</strong></p>
<p>آج کے دور میں مارکیٹ میں شاید ہی کوئی ایسی چیز بچی ہو جس میں کسی نہ کسی شکل میں کیمیکل کا استعمال نہ کیا جا رہا ہو۔ پھلوں کو جلدی پکانے اور انہیں باہر سے خوبصورت اور دلکش دکھانے کے لیے اکثر کیمیکلز کا سہارا لیا جاتا ہے اور آم بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔</p>
<p>اگر آپ بازار سے بہت زیادہ پیلے اور باہر سے بالکل پکے ہوئے آم خرید رہے ہیں تو یہ بالکل ضروری نہیں کہ وہ درخت پر ہی پکے ہوں۔ کئی بار آموں کو مصنوعی طریقوں اور خطرناک کیمیکلز سے پکایا جاتا ہے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506130/how-to-buy-sweet-and-juicy-mangoes-from-the-market'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506130"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آموں کو جلدی پکانے کے لیے اکثر کیلشیم کاربائیڈ جیسے خطرناک کیمیکلز یا انجکشن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کیمیکل سے پکے ہوئے آم باہر سے تو بالکل تازہ اور گہرے پیلے نظر آتے ہیں لیکن صحت کے لیے یہ کیمیکل کسی زہر سے کم نہیں ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس کیمیکل والے آموں کو طویل عرصے تک کھانے سے سر درد، چکر آنا، سانس لینے میں تکلیف، الٹیاں اور معدے کی سنگین بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔</p>
<p><strong>اصلی اور قدرتی آم پہچاننے کے 3 طریقے</strong></p>
<p>عام خریدار صرف تین آسان طریقوں پر عمل کر کے صحیح اور محفوظ آم کی پہچان کر سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>رنگ پر غور کریں</strong></p>
<p>سب سے پہلا طریقہ آم کا رنگ دیکھنا ہے۔ کیمیکل سے پکائے گئے آم کا رنگ ہر طرف سے ایک جیسا اور بہت زیادہ گہرا پیلا ہوتا ہے، جبکہ درخت پر قدرتی طور پر پکنے والے آموں کا رنگ ہر جگہ سے ایک جیسا نہیں ہوتا، ان میں تھوڑا پیلا اور تھوڑا سبز رنگ مکس ہوتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ بعض قسم کے آم قدرتی طور پر بھی بالکل پیلے ہوتے ہیں، لیکن اگر دکان پر موجود ہر قسم کا آم ہی ضرورت سے زیادہ پیلا نظر آئے تو سمجھ جائیں کہ دال میں کچھ کالا ہے۔</p>
<p><strong>ہاتھ سے دبا کر دیکھیں</strong></p>
<p>دوسرا طریقہ آم کو دبا کر چیک کرنا ہے۔ کیمیکل سے پکے ہوئے آم کو جب آپ چھوئیں گے تو وہ باہر سے سخت محسوس ہوگا لیکن اندر سے بالکل گلا ہوا یا نرم لگے گا۔ کیمیکل میں بار بار رکھنے کی وجہ سے آم اندر سے ضرورت سے زیادہ پگھل جاتے ہیں۔ اگر آپ ایسا آم کھا کر دیکھیں گے تو آپ کو اس کا ذائقہ بھی عام آموں کے مقابلے میں تھوڑا پھیکا یا عجیب سا لگے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506060/how-beneficial-is-soaking-mangoes-in-water-before-eating-experts-reveal-the-truth'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506060"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>سیاہ دھبوں یا نشانات کو چیک کریں</strong></p>
<p>تیسرا اور آخری طریقہ انجکشن کے نشانات تلاش کرنا ہے۔ بہت سے آموں پر کالے دھبے یا پچکے ہوئے نشانات ہوتے ہیں جنہیں ہم اکثر عام خرابی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ نشانات انجکشن کی وجہ سے بنتے ہیں۔</p>
<p>جب بھی آپ آم خریدیں تو یہ ضرور دیکھیں کہ جہاں سے آم ٹہنی سے جڑا ہوتا ہے، کیا وہاں کوئی دبا ہوا یا کالا نشان تو نہیں ہے؟ کئی آموں میں یہ نشانات نچلے حصے پر بھی پائے جاتے ہیں۔</p>
<p>صحت مند انتخاب کے لیے ایسے آم خریدیں جو قدرتی خوشبو رکھتے ہوں، رنگ میں ہلکی غیر یکسانیت ہو اور غیر معمولی چمک سے پاک ہوں۔ اگر ممکن ہو تو معتبر دکانداروں یا کسانوں سے آم خریدیں تاکہ کیمیکل کے استعمال کے خطرات کم ہو سکیں۔</p>
<p>یاد رکھیں: خوبصورت نظر آنے والا ہر آم لازمی طور پر قدرتی نہیں ہوتا، اس لیے خریداری سے پہلے چند لمحے نکال کر اس کی جانچ ضرور کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506254</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 10:19:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/091018159ec5673.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/091018159ec5673.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
