<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Sports</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 16:28:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 09 Jun 2026 16:28:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا 2026: تماشائیوں کو ہیٹ اسٹروک کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506269/fifaworldcup2026-fifa-warning-spectators-safety-extreme-heat-sports-news</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے جہاں دنیا بھر میں چرچے ہیں، وہاں ماہرینِ صحت نے اسٹیڈیم آنے والے لاکھوں شائقین کی زندگیوں کے حوالے سے ایک بڑا خطرہ الائن کر دیا ہے۔ برطانیہ کی پورٹسماؤتھ یونیورسٹی کے محققین کی ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے فٹ بال کے اس سب سے بڑے میگا ایونٹ کے حفاظتی انتظامات پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سائنسی تحقیق کے مطابق، امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے میچز کے دوران اسٹیڈیمز میں موجود لاکھوں شائقین کو شدید گرمی اور حبس کے باعث جان لیوا خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فٹ بال کی عالمی تنظیم (فیفا) نے پچ پر کھیلنے والے کھلاڑیوں کے لیے تو بہترین طبی سہولیات اور کولنگ پروٹوکولز کا انتظام کیا ہے، لیکن اسٹیڈیم میں بیٹھنے والے عام تماشائیوں کے تحفظ کو ایک طرح سے یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورٹسماؤتھ یونیورسٹی کے شعبہ سپورٹس سائنس کے مایہ ناز ماہر پروفیسر مائیک ٹپٹن کی سربراہی میں محققین نے لیبارٹری کے اندر ایک خصوصی ماحولیاتی چیمبر تیار کیا، جس میں ٹھیک ویسا ہی تپتا ہوا اور حبس زدہ ماحول تخلیق کیا گیا جیسا ورلڈ کپ کے میزبان شہروں میں متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506057'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506057"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سائنسی تحقیق کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ مڈ ایٹلانٹک اور میکسیکو کی شدید گرمی میں اوسط درجہ حرارت اور انتہائی نمی انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔ ریسرچ کے نتائج انتہائی چونکا دینے والے تھے، جن سے معلوم ہوا کہ اس ماحول میں طویل وقت گزارنا انسانی اعصاب اور اعضاء پر شدید دباؤ ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹورنامنٹ کے ایک تہائی سے زیادہ میچز، خصوصاً جو دوپہر اور سہ پہر کے وقت شیڈول ہیں، شدید ترین گرمی کی زد میں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق، شائقینِ فٹ بال کو کھلاڑیوں سے کہیں زیادہ خطرہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کھلاڑی تو 90 منٹ کھیل کر پروفیشنل میڈیکل سپورٹ، کولنگ بریکس اور ہائیڈریشن پروٹوکولز کا فائدہ اٹھا لیتے ہیں، لیکن تماشائیوں کو میچ سے کئی گھنٹے پہلے تپتی دھوپ میں لائنوں میں لگنا پڑتا ہے، سیکیورٹی کلیئرنس سے گزرنا ہوتا ہے اور وہ طویل وقت کھلے آسمان تلے گزارتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسٹیڈیم میں آنے والے شائقین کی پروفائل کھلاڑیوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ تماشائیوں میں بچے، ضعیف العمر افراد اور ایسے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جو پہلے سے دل، بلڈ پریشر یا شوگر جیسے امراض کا شکار ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ، دور دراز کے ممالک سے آنے والے شائقین فلائٹس اور طویل سفر کی وجہ سے پہلے ہی تھکن اور پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں شدید حبس کے دوران اگر جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر جائے، تو ’ہیٹ اسٹروک‘ کا خطرہ سو فیصد بڑھ جاتا ہے جو کہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2064256185507684839?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Reuters/status/2064256185507684839?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شدید تنقید اور ماہرین کے کھلے خطوط کے بعد، فیفا نے کچھ نرمی کا اعلان ضرور کیا ہے، جس کے تحت شائقین کو اسٹیڈیم کے اندر پانی کی سیل بند بوتلیں لانے کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ اسٹیڈیمز کی انتظامیہ کو پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ کوریڈورز میں پانی کا چھڑکاؤ کرنے والے پنکھے لگائیں اور تماشائیوں کے لیے سایہ دار جگہیں بنائیں۔ اگرچہ فیفا نے بہت سے اہم میچز شام کے اوقات میں رکھے ہیں، لیکن ماہرین کا اصرار ہے کہ یہ اقدامات سمندر میں قطرے کے برابر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر مائیک ٹپٹن اور ان کی ٹیم نے بین الاقوامی برادری اور فیفا پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو محض ’موسمی سختی‘ سمجھ کر رد نہ کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیڈیمز کے اندر ہنگامی بنیادوں پر ’کولنگ زونز‘ قائم کیے جائیں، مفت پینے کے پانی کی فراہمی کو لامحدود کیا جائے اور ہر اسٹینڈ میں طبی عملے کی تعداد دگنی کی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ اگر اب بھی ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے، تو دنیا کے اس سب سے بڑے جشنِ فٹ بال پر گرمی کا قہر حاوی ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے جہاں دنیا بھر میں چرچے ہیں، وہاں ماہرینِ صحت نے اسٹیڈیم آنے والے لاکھوں شائقین کی زندگیوں کے حوالے سے ایک بڑا خطرہ الائن کر دیا ہے۔ برطانیہ کی پورٹسماؤتھ یونیورسٹی کے محققین کی ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے فٹ بال کے اس سب سے بڑے میگا ایونٹ کے حفاظتی انتظامات پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔</strong></p>
<p>اس سائنسی تحقیق کے مطابق، امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے میچز کے دوران اسٹیڈیمز میں موجود لاکھوں شائقین کو شدید گرمی اور حبس کے باعث جان لیوا خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فٹ بال کی عالمی تنظیم (فیفا) نے پچ پر کھیلنے والے کھلاڑیوں کے لیے تو بہترین طبی سہولیات اور کولنگ پروٹوکولز کا انتظام کیا ہے، لیکن اسٹیڈیم میں بیٹھنے والے عام تماشائیوں کے تحفظ کو ایک طرح سے یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>پورٹسماؤتھ یونیورسٹی کے شعبہ سپورٹس سائنس کے مایہ ناز ماہر پروفیسر مائیک ٹپٹن کی سربراہی میں محققین نے لیبارٹری کے اندر ایک خصوصی ماحولیاتی چیمبر تیار کیا، جس میں ٹھیک ویسا ہی تپتا ہوا اور حبس زدہ ماحول تخلیق کیا گیا جیسا ورلڈ کپ کے میزبان شہروں میں متوقع ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506057'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506057"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سائنسی تحقیق کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ مڈ ایٹلانٹک اور میکسیکو کی شدید گرمی میں اوسط درجہ حرارت اور انتہائی نمی انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔ ریسرچ کے نتائج انتہائی چونکا دینے والے تھے، جن سے معلوم ہوا کہ اس ماحول میں طویل وقت گزارنا انسانی اعصاب اور اعضاء پر شدید دباؤ ڈالتا ہے۔</p>
<p>تحقیق میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹورنامنٹ کے ایک تہائی سے زیادہ میچز، خصوصاً جو دوپہر اور سہ پہر کے وقت شیڈول ہیں، شدید ترین گرمی کی زد میں ہوں گے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق، شائقینِ فٹ بال کو کھلاڑیوں سے کہیں زیادہ خطرہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کھلاڑی تو 90 منٹ کھیل کر پروفیشنل میڈیکل سپورٹ، کولنگ بریکس اور ہائیڈریشن پروٹوکولز کا فائدہ اٹھا لیتے ہیں، لیکن تماشائیوں کو میچ سے کئی گھنٹے پہلے تپتی دھوپ میں لائنوں میں لگنا پڑتا ہے، سیکیورٹی کلیئرنس سے گزرنا ہوتا ہے اور وہ طویل وقت کھلے آسمان تلے گزارتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسٹیڈیم میں آنے والے شائقین کی پروفائل کھلاڑیوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ تماشائیوں میں بچے، ضعیف العمر افراد اور ایسے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جو پہلے سے دل، بلڈ پریشر یا شوگر جیسے امراض کا شکار ہوتے ہیں۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ، دور دراز کے ممالک سے آنے والے شائقین فلائٹس اور طویل سفر کی وجہ سے پہلے ہی تھکن اور پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں شدید حبس کے دوران اگر جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر جائے، تو ’ہیٹ اسٹروک‘ کا خطرہ سو فیصد بڑھ جاتا ہے جو کہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2064256185507684839?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Reuters/status/2064256185507684839?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>شدید تنقید اور ماہرین کے کھلے خطوط کے بعد، فیفا نے کچھ نرمی کا اعلان ضرور کیا ہے، جس کے تحت شائقین کو اسٹیڈیم کے اندر پانی کی سیل بند بوتلیں لانے کی اجازت ہوگی۔</p>
<p>اس کے علاوہ اسٹیڈیمز کی انتظامیہ کو پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ کوریڈورز میں پانی کا چھڑکاؤ کرنے والے پنکھے لگائیں اور تماشائیوں کے لیے سایہ دار جگہیں بنائیں۔ اگرچہ فیفا نے بہت سے اہم میچز شام کے اوقات میں رکھے ہیں، لیکن ماہرین کا اصرار ہے کہ یہ اقدامات سمندر میں قطرے کے برابر ہیں۔</p>
<p>پروفیسر مائیک ٹپٹن اور ان کی ٹیم نے بین الاقوامی برادری اور فیفا پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو محض ’موسمی سختی‘ سمجھ کر رد نہ کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیڈیمز کے اندر ہنگامی بنیادوں پر ’کولنگ زونز‘ قائم کیے جائیں، مفت پینے کے پانی کی فراہمی کو لامحدود کیا جائے اور ہر اسٹینڈ میں طبی عملے کی تعداد دگنی کی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ اگر اب بھی ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے، تو دنیا کے اس سب سے بڑے جشنِ فٹ بال پر گرمی کا قہر حاوی ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506269</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 14:13:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/09140618eeef7d6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/09140618eeef7d6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
