<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Crime</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 12:17:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 11 Jun 2026 12:17:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھریلو ملازمہ اسقاط حمل و ہلاکت کیس: 3 لیڈی ڈاکٹرز معطل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506327/domestic-worker-abortion-and-death-case</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زیادتی، اسقاط حمل اور ہلاکت کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سروسز اسپتال کی تین لیڈی ڈاکٹرز کو معطل کر دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی، اسقاط حمل اور ہلاکت کے کیس میں سروسز اسپتال کی تین لیڈی ڈاکٹرز کو معطل کر دیا گیا ہے۔ معطل کیے جانے والوں میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر منصورہ مرزا بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق ابتدائی الزامات اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تینوں ڈاکٹرز مبینہ طور پر کیس سے متعلق شواہد کے ضیاع میں ملوث ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے معطل ڈاکٹرز کو فوری طور پر متعلقہ حکام کو رپورٹ کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506306/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506306"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ گھریلو ملازمہ نے اپنے بیان میں مالک کے بیٹے عون اور ڈرائیور حسن پر مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ کیس میں اسقاط حمل اور بعد ازاں ملازمہ کی ہلاکت کے معاملات بھی زیرِ تفتیش ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب گوجرہ میں بھی گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایک نمبردار کے بیٹے عثمان نثار پر الزام ہے کہ اس نے گھریلو ملازمہ کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506293/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506293"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر متاثرہ لڑکی کی ویڈیو بنائی اور بعد ازاں اسے بلیک میل کرتا رہا۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>زیادتی، اسقاط حمل اور ہلاکت کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سروسز اسپتال کی تین لیڈی ڈاکٹرز کو معطل کر دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی، اسقاط حمل اور ہلاکت کے کیس میں سروسز اسپتال کی تین لیڈی ڈاکٹرز کو معطل کر دیا گیا ہے۔ معطل کیے جانے والوں میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر منصورہ مرزا بھی شامل ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق ابتدائی الزامات اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تینوں ڈاکٹرز مبینہ طور پر کیس سے متعلق شواہد کے ضیاع میں ملوث ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے معطل ڈاکٹرز کو فوری طور پر متعلقہ حکام کو رپورٹ کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506306/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506306"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>متاثرہ گھریلو ملازمہ نے اپنے بیان میں مالک کے بیٹے عون اور ڈرائیور حسن پر مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ کیس میں اسقاط حمل اور بعد ازاں ملازمہ کی ہلاکت کے معاملات بھی زیرِ تفتیش ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب گوجرہ میں بھی گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایک نمبردار کے بیٹے عثمان نثار پر الزام ہے کہ اس نے گھریلو ملازمہ کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506293/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506293"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مقدمے میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر متاثرہ لڑکی کی ویڈیو بنائی اور بعد ازاں اسے بلیک میل کرتا رہا۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506327</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 09:17:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/11091333038e058.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/11091333038e058.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
