<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 12:16:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 11 Jun 2026 12:16:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایپسٹین کیس میں بل گیٹس کی گواہی: 'ناجائز تعلقات پر مجھے بلیک میل کیا'</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506328/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی ارب پتی کاروباری شخصیت اور مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی کے سامنے بند کمرے میں ہونے والے اجلاس کے دوران بدنام زمانہ اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے اپنے تعلقات کے بارے میں گواہی دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2026/6/10/bill-gates-testifies-in-closed-door-us-house-meeting-over-epstein-ties"&gt;الجزیرہ&lt;/a&gt; کے مطابق اگرچہ بدھ کے روز ہونے والا یہ اجلاس عوام کے لیے بند تھا، تاہم بل گیٹس نے اپنے ابتدائی بیان کو آن لائن جاری کیا، جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ انہیں جیفری ایپسٹین کی کسی مجرمانہ سرگرمی کے بارے میں کبھی کوئی اشارہ نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل گیٹس نے اپنے بیان میں کہا کہ میں بہت واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے کبھی نہ تو کوئی ایسا واقعہ دیکھا اور نہ ہی مجھے کوئی ایسا اشارہ ملا کہ ایپسٹین کسی جاری مجرمانہ سرگرمی میں ملوث تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ میں کبھی اس کے جزیرے، اس کی رہائش گاہ یا فلوریڈا میں موجود اس کے گھر نہیں گیا۔ میں نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اگرچہ وہ میرے ساتھ ذاتی تعلق قائم کرنا چاہتا تھا، لیکن میری اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ ہی میں نے اس کا جواب دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499278'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499278"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز اپنے بیان میں بل گیٹس نے بتایا کہ ان کی ایپسٹین سے پہلی ملاقات 2011 میں ہوئی تھی، جب وہ اپنے فلاحی منصوبوں کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل گیٹس کے مطابق ایپسٹین کا دعویٰ تھا کہ وہ عالمی صحت کے منصوبوں کے لیے اربوں ڈالر جمع کر سکتا ہے اور ایسے افراد تک رسائی رکھتا ہے جنہیں وہ ٹیکس اور وراثتی معاملات میں خدمات فراہم کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم تھا کہ ایپسٹین ماضی میں قانونی مسائل کا سامنا کر چکا ہے، لیکن وہ اس کے جرائم کی مکمل نوعیت سے آگاہ نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیٹس کے مطابق انہوں نے 2011 میں ایپسٹین سے تین اور 2012 میں دو ملاقاتیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد کے برسوں میں دونوں کے درمیان گفتگو نسبتاً تفصیلی ہوتی گئی، تاہم بالآخر مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے اور دسمبر 2014 میں انہوں نے ایپسٹین سے تمام رابطے ختم کر دیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499207/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بل گیٹس نے کہا کہ اس وقت میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ایپسٹین اپنے وعدے کبھی پورے نہیں کرے گا۔ میں نے اسے بتایا کہ ہم مزید آگے نہیں بڑھیں گے اور پھر اس سے رابطہ اور ملاقاتیں بند کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ نہ تو کوئی خیراتی فنڈنگ کا نظام قائم کیا گیا اور نہ ہی کوئی رقم جمع کی جا سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل گیٹس نے ان ای میلز کا بھی ذکر کیا جو ایپسٹین فائلز میں منظر عام پر آئی تھیں اور جن میں ایپسٹین ان کے ازدواجی تعلقات سے باہر کے معاملات پر گفتگو کرتا دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیٹس نے الزام لگایا کہ ایپسٹین اس معلومات کو استعمال کرتے ہوئے انہیں دباؤ میں لانا چاہتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکروسافٹ کے شریک بانی کا کہنا تھا کہ ان تعلقات کا ایپسٹین کے ساتھ میری ملاقاتوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن یہ میرے خاندان کے لیے تکلیف دہ ضرور تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499168/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499168"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اب عوام جاری کی گئی فائلوں کی بنیاد پر دیکھ سکتے ہیں کہ ایپسٹین میری بے وفائیوں سے متعلق معلومات اور ان کے ساتھ متعدد جھوٹ شامل کرکے مجھ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ میں دوبارہ اس کے ساتھ رابطہ قائم کروں، لیکن وہ اس کوشش میں ناکام رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل گیٹس نے اپنے بیان کے اختتام پر اعتراف کیا کہ ابتدا میں ایپسٹین سے ملاقات کرنا ان کی سنگین غلطی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر ایپسٹین کے ساتھ گزارا گیا میرا وقت اسے کسی قسم کی ساکھ فراہم کرنے کا سبب بنا تو مجھے اس پر گہرا افسوس ہے۔ میں نے اس سے ایک اہم سبق سیکھا ہے اور اب میں اس حوالے سے کہیں زیادہ محتاط ہوں کہ محدود سطح پر بھی کن لوگوں کے ساتھ روابط رکھوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل گیٹس کی یہ گواہی امریکی ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی (ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی) کے سامنے ہونے والی ان متعدد پیشیوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ایپسٹین کے بااثر شخصیات سے روابط اور یہ جاننا ہے کہ آیا کسی طاقتور شخصیت نے اسے احتساب سے بچانے میں کردار ادا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499269/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499269"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے چیئرمین اور ریپبلکن رکن جیمز کومر نے سماعت سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ قانون ساز بل گیٹس سے ایپسٹین اور اس کی سابق ساتھی گھسلین میکسویل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوالات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیمز کومر کا کہنا تھا کہ ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایپسٹین اور میکسویل کے ساتھ ان کا تعلق کیا تھا۔ انہوں نے کیا دیکھا؟ کیا انہیں معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا وہ کسی بھی طرح اس میں شامل تھے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ کوئی بھی بل گیٹس پر کسی غلط کام کا الزام نہیں لگا رہا اور میں ان کے رضاکارانہ طور پر آنے کی قدر کرتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ایپسٹین کیس سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار پر دونوں بڑی امریکی جماعتوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، لیکن ناقدین نے اس بات پر بھی خدشات ظاہر کیے ہیں کہ کمیٹی کی ریپبلکن قیادت تحقیقات کو کس سمت لے جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل گیٹس کے ساتھ ہونے والی یہ ملاقات ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کا 15واں انٹرویو تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499262/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499262"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل سابق امریکی صدر بل کلنٹن، سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن، سابق وکٹوریاز سیکرٹ چیف ایگزیکٹو لیس ویکسنر سمیت کئی سیاسی اور کاروباری شخصیات کمیٹی کے سامنے پیش ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق اٹارنی جنرل پام بونڈی بھی گزشتہ ماہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئیں، تاہم انہوں نے حلفیہ بیان دینے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کی فہرست میں ایک نمایاں غیر موجود شخصیت صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جو 1990 اور 2000 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ایپسٹین کے ساتھ سماجی تقریبات میں شریک ہوتے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ہمیشہ اس بات کی تردید کی ہے کہ انہیں ایپسٹین کے جرائم، کم عمر افراد کو جنسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے یا مبینہ جنسی اسمگلنگ نیٹ ورک کے بارے میں کوئی علم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے دوسری مدت کے لیے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی انتظامیہ پر ایپسٹین فائلز سے نمٹنے میں بدانتظامی کے الزامات بھی لگائے گئے جبکہ بعض میڈیا رپورٹس میں ٹرمپ اور ایپسٹین کے تعلقات کے حوالے سے نئی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30495515'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30495515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ نومبر میں کانگریس نے ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ منظور کیا تھا، جس کے تحت محکمہ انصاف کو سزا یافتہ جنسی مجرم سے متعلق تمام فائلیں 30 روز کے اندر جاری کرنا تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ ڈیڈ لائن پوری نہیں ہو سکی تھی۔ بعد ازاں جنوری میں جب لاکھوں دستاویزات جاری کی گئیں تو ناقدین نے دعویٰ کیا کہ بعض ریکارڈز کو غیر قانونی طور پر حذف یا محدود کیا گیا جبکہ متاثرین کی شناختیں عوام کے سامنے آ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپسٹین پر الزام تھا کہ اس نے کئی دہائیوں پر محیط ایک جنسی اسمگلنگ نیٹ ورک قائم کیا تھا، جس کے متاثرین کی تعداد سینکڑوں میں سمجھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492717/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492717"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2008 میں ایپسٹین نے ایک متنازع پلی بارگین معاہدہ کیا تھا۔ کم عمر فرد کو جسم فروشی کے لیے راغب کرنے کے ریاستی الزامات کا اعتراف کرنے کے بدلے اسے 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم اس نے عملی طور پر صرف 13 ماہ جیل میں گزارے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 میں اپنی موت کے وقت ایپسٹین وفاقی سطح پر جنسی اسمگلنگ کے مقدمات کا سامنا کر رہا تھا۔ اسے جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پایا گیا اور اس کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی ارب پتی کاروباری شخصیت اور مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی کے سامنے بند کمرے میں ہونے والے اجلاس کے دوران بدنام زمانہ اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے اپنے تعلقات کے بارے میں گواہی دی ہے۔</strong></p>
<p>عرب نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2026/6/10/bill-gates-testifies-in-closed-door-us-house-meeting-over-epstein-ties">الجزیرہ</a> کے مطابق اگرچہ بدھ کے روز ہونے والا یہ اجلاس عوام کے لیے بند تھا، تاہم بل گیٹس نے اپنے ابتدائی بیان کو آن لائن جاری کیا، جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ انہیں جیفری ایپسٹین کی کسی مجرمانہ سرگرمی کے بارے میں کبھی کوئی اشارہ نہیں ملا۔</p>
<p>بل گیٹس نے اپنے بیان میں کہا کہ میں بہت واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے کبھی نہ تو کوئی ایسا واقعہ دیکھا اور نہ ہی مجھے کوئی ایسا اشارہ ملا کہ ایپسٹین کسی جاری مجرمانہ سرگرمی میں ملوث تھا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ میں کبھی اس کے جزیرے، اس کی رہائش گاہ یا فلوریڈا میں موجود اس کے گھر نہیں گیا۔ میں نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اگرچہ وہ میرے ساتھ ذاتی تعلق قائم کرنا چاہتا تھا، لیکن میری اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ ہی میں نے اس کا جواب دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499278'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499278"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بدھ کے روز اپنے بیان میں بل گیٹس نے بتایا کہ ان کی ایپسٹین سے پہلی ملاقات 2011 میں ہوئی تھی، جب وہ اپنے فلاحی منصوبوں کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔</p>
<p>بل گیٹس کے مطابق ایپسٹین کا دعویٰ تھا کہ وہ عالمی صحت کے منصوبوں کے لیے اربوں ڈالر جمع کر سکتا ہے اور ایسے افراد تک رسائی رکھتا ہے جنہیں وہ ٹیکس اور وراثتی معاملات میں خدمات فراہم کرتا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم تھا کہ ایپسٹین ماضی میں قانونی مسائل کا سامنا کر چکا ہے، لیکن وہ اس کے جرائم کی مکمل نوعیت سے آگاہ نہیں تھے۔</p>
<p>گیٹس کے مطابق انہوں نے 2011 میں ایپسٹین سے تین اور 2012 میں دو ملاقاتیں کیں۔</p>
<p>بعد کے برسوں میں دونوں کے درمیان گفتگو نسبتاً تفصیلی ہوتی گئی، تاہم بالآخر مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے اور دسمبر 2014 میں انہوں نے ایپسٹین سے تمام رابطے ختم کر دیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499207/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بل گیٹس نے کہا کہ اس وقت میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ایپسٹین اپنے وعدے کبھی پورے نہیں کرے گا۔ میں نے اسے بتایا کہ ہم مزید آگے نہیں بڑھیں گے اور پھر اس سے رابطہ اور ملاقاتیں بند کر دیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ نہ تو کوئی خیراتی فنڈنگ کا نظام قائم کیا گیا اور نہ ہی کوئی رقم جمع کی جا سکی۔</p>
<p>بل گیٹس نے ان ای میلز کا بھی ذکر کیا جو ایپسٹین فائلز میں منظر عام پر آئی تھیں اور جن میں ایپسٹین ان کے ازدواجی تعلقات سے باہر کے معاملات پر گفتگو کرتا دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>گیٹس نے الزام لگایا کہ ایپسٹین اس معلومات کو استعمال کرتے ہوئے انہیں دباؤ میں لانا چاہتا تھا۔</p>
<p>مائیکروسافٹ کے شریک بانی کا کہنا تھا کہ ان تعلقات کا ایپسٹین کے ساتھ میری ملاقاتوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن یہ میرے خاندان کے لیے تکلیف دہ ضرور تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499168/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499168"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے بتایا کہ اب عوام جاری کی گئی فائلوں کی بنیاد پر دیکھ سکتے ہیں کہ ایپسٹین میری بے وفائیوں سے متعلق معلومات اور ان کے ساتھ متعدد جھوٹ شامل کرکے مجھ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ میں دوبارہ اس کے ساتھ رابطہ قائم کروں، لیکن وہ اس کوشش میں ناکام رہا۔</p>
<p>بل گیٹس نے اپنے بیان کے اختتام پر اعتراف کیا کہ ابتدا میں ایپسٹین سے ملاقات کرنا ان کی سنگین غلطی تھی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر ایپسٹین کے ساتھ گزارا گیا میرا وقت اسے کسی قسم کی ساکھ فراہم کرنے کا سبب بنا تو مجھے اس پر گہرا افسوس ہے۔ میں نے اس سے ایک اہم سبق سیکھا ہے اور اب میں اس حوالے سے کہیں زیادہ محتاط ہوں کہ محدود سطح پر بھی کن لوگوں کے ساتھ روابط رکھوں۔</p>
<p>بل گیٹس کی یہ گواہی امریکی ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی (ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی) کے سامنے ہونے والی ان متعدد پیشیوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ایپسٹین کے بااثر شخصیات سے روابط اور یہ جاننا ہے کہ آیا کسی طاقتور شخصیت نے اسے احتساب سے بچانے میں کردار ادا کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499269/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499269"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کمیٹی کے چیئرمین اور ریپبلکن رکن جیمز کومر نے سماعت سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ قانون ساز بل گیٹس سے ایپسٹین اور اس کی سابق ساتھی گھسلین میکسویل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوالات کریں گے۔</p>
<p>جیمز کومر کا کہنا تھا کہ ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایپسٹین اور میکسویل کے ساتھ ان کا تعلق کیا تھا۔ انہوں نے کیا دیکھا؟ کیا انہیں معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا وہ کسی بھی طرح اس میں شامل تھے؟</p>
<p>تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ کوئی بھی بل گیٹس پر کسی غلط کام کا الزام نہیں لگا رہا اور میں ان کے رضاکارانہ طور پر آنے کی قدر کرتا ہوں۔</p>
<p>اگرچہ ایپسٹین کیس سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار پر دونوں بڑی امریکی جماعتوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، لیکن ناقدین نے اس بات پر بھی خدشات ظاہر کیے ہیں کہ کمیٹی کی ریپبلکن قیادت تحقیقات کو کس سمت لے جا رہی ہے۔</p>
<p>بل گیٹس کے ساتھ ہونے والی یہ ملاقات ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کا 15واں انٹرویو تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499262/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499262"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل سابق امریکی صدر بل کلنٹن، سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن، سابق وکٹوریاز سیکرٹ چیف ایگزیکٹو لیس ویکسنر سمیت کئی سیاسی اور کاروباری شخصیات کمیٹی کے سامنے پیش ہو چکی ہیں۔</p>
<p>سابق اٹارنی جنرل پام بونڈی بھی گزشتہ ماہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئیں، تاہم انہوں نے حلفیہ بیان دینے سے گریز کیا۔</p>
<p>کمیٹی کی فہرست میں ایک نمایاں غیر موجود شخصیت صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جو 1990 اور 2000 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ایپسٹین کے ساتھ سماجی تقریبات میں شریک ہوتے رہے تھے۔</p>
<p>ٹرمپ نے ہمیشہ اس بات کی تردید کی ہے کہ انہیں ایپسٹین کے جرائم، کم عمر افراد کو جنسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے یا مبینہ جنسی اسمگلنگ نیٹ ورک کے بارے میں کوئی علم تھا۔</p>
<p>ٹرمپ کے دوسری مدت کے لیے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی انتظامیہ پر ایپسٹین فائلز سے نمٹنے میں بدانتظامی کے الزامات بھی لگائے گئے جبکہ بعض میڈیا رپورٹس میں ٹرمپ اور ایپسٹین کے تعلقات کے حوالے سے نئی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30495515'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30495515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گزشتہ نومبر میں کانگریس نے ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ منظور کیا تھا، جس کے تحت محکمہ انصاف کو سزا یافتہ جنسی مجرم سے متعلق تمام فائلیں 30 روز کے اندر جاری کرنا تھیں۔</p>
<p>تاہم یہ ڈیڈ لائن پوری نہیں ہو سکی تھی۔ بعد ازاں جنوری میں جب لاکھوں دستاویزات جاری کی گئیں تو ناقدین نے دعویٰ کیا کہ بعض ریکارڈز کو غیر قانونی طور پر حذف یا محدود کیا گیا جبکہ متاثرین کی شناختیں عوام کے سامنے آ گئیں۔</p>
<p>ایپسٹین پر الزام تھا کہ اس نے کئی دہائیوں پر محیط ایک جنسی اسمگلنگ نیٹ ورک قائم کیا تھا، جس کے متاثرین کی تعداد سینکڑوں میں سمجھی جاتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492717/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492717"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>2008 میں ایپسٹین نے ایک متنازع پلی بارگین معاہدہ کیا تھا۔ کم عمر فرد کو جسم فروشی کے لیے راغب کرنے کے ریاستی الزامات کا اعتراف کرنے کے بدلے اسے 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم اس نے عملی طور پر صرف 13 ماہ جیل میں گزارے تھے۔</p>
<p>2019 میں اپنی موت کے وقت ایپسٹین وفاقی سطح پر جنسی اسمگلنگ کے مقدمات کا سامنا کر رہا تھا۔ اسے جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پایا گیا اور اس کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506328</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 09:25:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/110925145a0dc83.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/110925145a0dc83.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
