<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 16:17:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 12 Jun 2026 16:17:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلڈ پریشر نارمل ہونے پر دوا خود بخود بند کرنا کتنا خطرناک؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506377/how-dangerous-is-it-to-stop-blood-pressure-medication-on-your-own-once-it-becomes-normal</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہائی بلڈ پریشر یا ہائپر ٹینشن ایک ایسا خاموش مرض ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ اکثر مریضوں کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا ہائی بلڈ پریشر کی دوائیں زندگی بھر لینی پڑتی ہیں یا وقت کے ساتھ انہیں بند بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا انحصار مریض کی حالت، بیماری کی شدت اور طرزِ زندگی میں بہتری پر ہوتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائی بلڈ پریشر اکثر ایک طویل مدتی مسئلہ ہوتا ہے جس کی وجہ بڑھتی عمر، خاندانی تاریخ، زیادہ وزن، غیر صحت بخش خوراک، ذہنی تناؤ اور ورزش نہ کرنا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے لوگوں کے لیے یہ دوائیں خون کے دباؤ کو قابو میں رکھنے اور دل کے دورے، فالج اور گردوں کی بیماریوں جیسی خطرناک پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے بے حد ضروری ہوتی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر مریض کو یہ دوا زندگی بھر ہی کھانی پڑے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503616/heart-health-blood-pressure-check-frequency'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503616"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگر اس مرض کی علامات کو ابتدائی دنوں میں ہی پکڑ لیا جائے اور مریض اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لائے تو اس صورتحال کو بدلا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق، روزمرہ کی زندگی میں چند اہم تبدیلیاں کر کے بلڈ پریشر کی دوا کی ضرورت کو کم یا بالکل ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان تبدیلیوں میں وزن کم کرنا، روزانہ باقاعدگی سے ورزش کرنا، کھانے میں نمک کی مقدار کو کم کرنا، ذہنی تناؤ پر قابو پانا، سگریٹ نوشی اور شراب نوشی سے مکمل پرہیز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی شخص ان اچھے معمولات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے، تو اس کا بلڈ پریشر بغیر دوا کے بھی قابو میں رہ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر مریض کا معائنہ کرنے کے بعد دوا کی خوراک کم کر سکتا ہے یا آہستہ آہستہ اسے بند کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، تاہم اس دوران مریض کی صحت پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی دنیا میں ایک سب سے بڑی غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ جیسے ہی بلڈ پریشر چیک کرنے پر ریڈنگ نارمل آتی ہے، لوگ خود ہی اپنی دوا بند کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹرز اس عادت کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر صرف اس لیے نارمل ہوتا ہے کیونکہ دوا اپنا کام کر رہی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30468536'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30468536"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بہت سے لوگ بلڈ پریشر خطرناک حد تک تیز ہونے پر بھی بظاہر بالکل ٹھیک محسوس کر رہے ہوتے ہیں، اس لیے دوا کو بدلنے یا روکنے کا فیصلہ صرف اور صرف ڈاکٹر کی مشاورت سے ہی کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موضوع پر اضافی معلومات دیتے ہوئے ماہرینِ صحت بتاتے ہیں کہ بلڈ پریشر کی دوا اچانک چھوڑنے سے جسم میں ایک دم ہنگامی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جسے میڈیکل کی زبان میں ری باؤنڈ ہائپر ٹینشن کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حالت میں بلڈ پریشردوبارہ بہت تیزی سے اوپر جا سکتا ہے اور اکثر اس کی کوئی ظاہری علامات بھی سامنے نہیں آتیں، جو دماغ کی شریان پھٹنے یا اچانک ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے مریضوں کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس بات کی فکر چھوڑیں کہ دوا عارضی ہے یا مستقل، بلکہ ان کا پورا دھیان اس بات پر ہونا چاہیے کہ ان کا بلڈ پریشر طویل عرصے تک قابو میں رہے۔ محض ایک یا دو بار بلڈ پریشر کی ریڈنگ درست آنے پر دوا چھوڑنے کا فیصلہ کرنے کے بجائے ڈاکٹر کی نگرانی میں باقاعدگی سے معائنہ کروانا ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہائی بلڈ پریشر یا ہائپر ٹینشن ایک ایسا خاموش مرض ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ اکثر مریضوں کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا ہائی بلڈ پریشر کی دوائیں زندگی بھر لینی پڑتی ہیں یا وقت کے ساتھ انہیں بند بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا انحصار مریض کی حالت، بیماری کی شدت اور طرزِ زندگی میں بہتری پر ہوتا ہے۔</strong></p>
<p>ہائی بلڈ پریشر اکثر ایک طویل مدتی مسئلہ ہوتا ہے جس کی وجہ بڑھتی عمر، خاندانی تاریخ، زیادہ وزن، غیر صحت بخش خوراک، ذہنی تناؤ اور ورزش نہ کرنا ہو سکتی ہے۔</p>
<p>بہت سے لوگوں کے لیے یہ دوائیں خون کے دباؤ کو قابو میں رکھنے اور دل کے دورے، فالج اور گردوں کی بیماریوں جیسی خطرناک پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے بے حد ضروری ہوتی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر مریض کو یہ دوا زندگی بھر ہی کھانی پڑے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503616/heart-health-blood-pressure-check-frequency'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503616"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>اگر اس مرض کی علامات کو ابتدائی دنوں میں ہی پکڑ لیا جائے اور مریض اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لائے تو اس صورتحال کو بدلا جا سکتا ہے۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق، روزمرہ کی زندگی میں چند اہم تبدیلیاں کر کے بلڈ پریشر کی دوا کی ضرورت کو کم یا بالکل ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان تبدیلیوں میں وزن کم کرنا، روزانہ باقاعدگی سے ورزش کرنا، کھانے میں نمک کی مقدار کو کم کرنا، ذہنی تناؤ پر قابو پانا، سگریٹ نوشی اور شراب نوشی سے مکمل پرہیز شامل ہیں۔</p>
<p>اگر کوئی شخص ان اچھے معمولات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے، تو اس کا بلڈ پریشر بغیر دوا کے بھی قابو میں رہ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر مریض کا معائنہ کرنے کے بعد دوا کی خوراک کم کر سکتا ہے یا آہستہ آہستہ اسے بند کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، تاہم اس دوران مریض کی صحت پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔</p>
<p>طبی دنیا میں ایک سب سے بڑی غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ جیسے ہی بلڈ پریشر چیک کرنے پر ریڈنگ نارمل آتی ہے، لوگ خود ہی اپنی دوا بند کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹرز اس عادت کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر صرف اس لیے نارمل ہوتا ہے کیونکہ دوا اپنا کام کر رہی ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30468536'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30468536"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>بہت سے لوگ بلڈ پریشر خطرناک حد تک تیز ہونے پر بھی بظاہر بالکل ٹھیک محسوس کر رہے ہوتے ہیں، اس لیے دوا کو بدلنے یا روکنے کا فیصلہ صرف اور صرف ڈاکٹر کی مشاورت سے ہی کرنا چاہیے۔</p>
<p>اس موضوع پر اضافی معلومات دیتے ہوئے ماہرینِ صحت بتاتے ہیں کہ بلڈ پریشر کی دوا اچانک چھوڑنے سے جسم میں ایک دم ہنگامی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جسے میڈیکل کی زبان میں ری باؤنڈ ہائپر ٹینشن کہا جاتا ہے۔</p>
<p>اس حالت میں بلڈ پریشردوبارہ بہت تیزی سے اوپر جا سکتا ہے اور اکثر اس کی کوئی ظاہری علامات بھی سامنے نہیں آتیں، جو دماغ کی شریان پھٹنے یا اچانک ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
<p>اس لیے مریضوں کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس بات کی فکر چھوڑیں کہ دوا عارضی ہے یا مستقل، بلکہ ان کا پورا دھیان اس بات پر ہونا چاہیے کہ ان کا بلڈ پریشر طویل عرصے تک قابو میں رہے۔ محض ایک یا دو بار بلڈ پریشر کی ریڈنگ درست آنے پر دوا چھوڑنے کا فیصلہ کرنے کے بجائے ڈاکٹر کی نگرانی میں باقاعدگی سے معائنہ کروانا ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506377</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 13:19:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/1212420393777ba.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/1212420393777ba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
