<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 18:03:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 12 Jun 2026 18:03:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیجِ فارس میں بھارتی جہازوں پر تیسرا حملہ، نئی دہلی کا واشنگٹن سے احتجاج</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506384/third-attack-on-indian-ships-in-the-persian-gulf-india-protests-to-the-us</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف تجارتی جہازوں پر حملوں کے بڑھتے واقعات کے بعد بھارت نے نئی دہلی میں امریکی ناظم الامور جیسن میکس کو دوسری بار طلب کر لیا ہے۔ 10 جون کو حملے میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے بعد جمعرات کی رات ایک اور جہاز پر حملہ ہوا، جس پر بھارتی عملہ سوار تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ٹی وی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/india/story/india-summons-us-diplomat-jason-meeks-again-after-3rd-attack-on-indian-ship-in-four-days-2925634-2026-06-12"&gt;انڈیا ٹو ڈے&lt;/a&gt; کے مطابق بھارت نے جمعے کو امریکی ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا اور خلیجی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صرف چار روز کے دوران بھارتی عملے کے حامل تین مختلف تجارتی جہاز حملوں کی زد میں آ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین واقعہ جمعرات کی رات پیش آیا، جب ’ایم وی جال ویر‘ نامی ٹینکر پر عمان کی شیناس بندرگاہ کے قریب حملہ کیا گیا۔ گنی بساؤ کے پرچم تلے چلنے والے اس جہاز کے عملے میں 20 بھارتی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/visegrad24/status/2065026623498236286'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/visegrad24/status/2065026623498236286"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی فوج نے سوشل میڈیا پر جاری &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/CENTCOM/status/2065032634908987869?s=20"&gt;بیان&lt;/a&gt; میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج عمان میں گنی بساؤ کے پرچم تلے چلنے والے آئل ٹینکر کے خلاف کارروائی کرکے اسے غیر فعال کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506356/us-disables-third-oil-tanker-gulf-of-oman'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506356"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ’ایم ٹی جال ویر’ نامی جہاز ایران سے تیل لے جانے کی کوشش کر رہا تھا جو ایران کی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق امریکی فورسز کی جانب سے متعدد ہدایات جاری کی گئی تھیں تاہم عملے کی جانب سے ان پر عمل نہ کیے جانے کے بعد ایک امریکی طیارے نے جہاز کے انجن روم پر دو میزائل داغے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج کے مطابق اس کارروائی کا مقصد جہاز کو تباہ کرنا نہیں بلکہ اسے غیر فعال بنانا تھا تاکہ وہ اپنا سفر جاری نہ رکھ سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/121530285947859.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/121530285947859.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے سے ایک روز قبل 10 جون کو ’ایم ٹی سیٹے بیلو‘ پر خلیجِ عمان میں حملہ ہوا تھا۔ اس جہاز پر 24 بھارتی ملاح موجود تھے۔ حملے کے بعد 21 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا جب کہ تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی پانیوں میں 8 جون کو بھی ایک واقعہ پیش آیا تھا جب ’ایم ٹی میری ویکس‘ نامی جہاز پر مشتبہ حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی تاہم جہاز پر سوار بھارتی عملہ محفوظ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز کے مشرقی اور مغربی پانیوں میں بھارتی پرچم بردار 13 جہازوں پر مجموعی طور پر 622 بھارتی عملہ موجود ہے جب کہ خلیجی خطے میں ہی سینکڑوں غیر ملکی پرچم بردار تجارتی جہازوں پر بھی تقریباً 18 ہزار بھارتی شہری ملازمت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ خطے میں بگڑتی ہوئی سمندری سلامتی کی صورت حال سے متاثر ہونے والے ممالک میں بھارت نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ان مسلسل واقعات کے بعد بھارتی حکومت نے آبنائے ہرمز، خلیجِ عمان اور ملحقہ سمندری علاقوں میں موجود بھارتی ملاحوں کے لیے نئی سیکیورٹی ہدایات جاری کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف تجارتی جہازوں پر حملوں کے بڑھتے واقعات کے بعد بھارت نے نئی دہلی میں امریکی ناظم الامور جیسن میکس کو دوسری بار طلب کر لیا ہے۔ 10 جون کو حملے میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے بعد جمعرات کی رات ایک اور جہاز پر حملہ ہوا، جس پر بھارتی عملہ سوار تھا۔</strong></p>
<p>بھارتی ٹی وی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/india/story/india-summons-us-diplomat-jason-meeks-again-after-3rd-attack-on-indian-ship-in-four-days-2925634-2026-06-12">انڈیا ٹو ڈے</a> کے مطابق بھارت نے جمعے کو امریکی ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا اور خلیجی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صرف چار روز کے دوران بھارتی عملے کے حامل تین مختلف تجارتی جہاز حملوں کی زد میں آ چکے ہیں۔</p>
<p>تازہ ترین واقعہ جمعرات کی رات پیش آیا، جب ’ایم وی جال ویر‘ نامی ٹینکر پر عمان کی شیناس بندرگاہ کے قریب حملہ کیا گیا۔ گنی بساؤ کے پرچم تلے چلنے والے اس جہاز کے عملے میں 20 بھارتی شامل تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/visegrad24/status/2065026623498236286'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/visegrad24/status/2065026623498236286"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب امریکی فوج نے سوشل میڈیا پر جاری <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/CENTCOM/status/2065032634908987869?s=20">بیان</a> میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج عمان میں گنی بساؤ کے پرچم تلے چلنے والے آئل ٹینکر کے خلاف کارروائی کرکے اسے غیر فعال کر دیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506356/us-disables-third-oil-tanker-gulf-of-oman'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506356"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ’ایم ٹی جال ویر’ نامی جہاز ایران سے تیل لے جانے کی کوشش کر رہا تھا جو ایران کی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق امریکی فورسز کی جانب سے متعدد ہدایات جاری کی گئی تھیں تاہم عملے کی جانب سے ان پر عمل نہ کیے جانے کے بعد ایک امریکی طیارے نے جہاز کے انجن روم پر دو میزائل داغے۔</p>
<p>امریکی فوج کے مطابق اس کارروائی کا مقصد جہاز کو تباہ کرنا نہیں بلکہ اسے غیر فعال بنانا تھا تاکہ وہ اپنا سفر جاری نہ رکھ سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/121530285947859.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/121530285947859.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس واقعے سے ایک روز قبل 10 جون کو ’ایم ٹی سیٹے بیلو‘ پر خلیجِ عمان میں حملہ ہوا تھا۔ اس جہاز پر 24 بھارتی ملاح موجود تھے۔ حملے کے بعد 21 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا جب کہ تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔</p>
<p>خلیجی پانیوں میں 8 جون کو بھی ایک واقعہ پیش آیا تھا جب ’ایم ٹی میری ویکس‘ نامی جہاز پر مشتبہ حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی تاہم جہاز پر سوار بھارتی عملہ محفوظ رہا تھا۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز کے مشرقی اور مغربی پانیوں میں بھارتی پرچم بردار 13 جہازوں پر مجموعی طور پر 622 بھارتی عملہ موجود ہے جب کہ خلیجی خطے میں ہی سینکڑوں غیر ملکی پرچم بردار تجارتی جہازوں پر بھی تقریباً 18 ہزار بھارتی شہری ملازمت کر رہے ہیں۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ خطے میں بگڑتی ہوئی سمندری سلامتی کی صورت حال سے متاثر ہونے والے ممالک میں بھارت نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ان مسلسل واقعات کے بعد بھارتی حکومت نے آبنائے ہرمز، خلیجِ عمان اور ملحقہ سمندری علاقوں میں موجود بھارتی ملاحوں کے لیے نئی سیکیورٹی ہدایات جاری کر دی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506384</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 16:39:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/12151803da94ab5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/12151803da94ab5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
