<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 20:55:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 12 Jun 2026 20:55:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی بجٹ: کم سے کم ماہانہ اجرت 40 ہزار 700 مقرر، سرکاری ملازمین کی تنخواہ و پینشن میں 7 فی صد اضافہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506390/pakistan-budget-2025-salaries-pension-tax-relief</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی حکومت سرکاری اور نجی تنخواہ دار طبقے کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے، جب کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے مختلف ٹیکس ریلیف اقدامات بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے مختلف مالی اور معاشی اقدامات کا اعلان کیا۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری حکومت نے آمدنی کی چار سلیبس کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف فراہم کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ تقریر میں انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فی صد اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ اسی طرح ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فی صد اضافے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ بڑھتی مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کم سے کم ماہانہ اجرت میں 10 فی صد اضافے کی تجویز بھی پیش کی، جس کے تحت کم سے کم تنخواہ میں 3 ہزار 700 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد کم سے کم ماہانہ تنخواہ 40 ہزار 700 روپے ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات عوام کی قوتِ خرید میں بہتری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے، جب کہ ان کا مقصد کم آمدن والے طبقے کو معاشی سہارا فراہم کرنا بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ تقریر میں انہوں نے کہا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹیکس ڈھانچے میں تبدیلیاں متعارف کرا رہی ہے تاکہ متوسط آمدن رکھنے والے افراد پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506361/budget-2026-27-tax-rate-on-annual-income-reduced-salary-and-pension-increased'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506361"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کے مطابق سالانہ 22 لاکھ روپے سے 32 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد پر انکم ٹیکس کی شرح 20 فی صد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ 32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن والے تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 30 فی صد سے کم کر کے 25 فی صد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سالانہ 41 سے 56 لاکھ روپے آمدن رکھنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فی صد سے کم کرکے 29 فی صد جب کہ 56 سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فی صد سے کم کر کے 32 فی صد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کے مطابق تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس کی شرحوں میں کمی کے علاوہ حکومت نے ایک اور اہم ریلیف قدم اٹھاتے ہوئے سرچارج کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک دیرینہ عوامی مطالبہ تھا اور حکومت اس سے بخوبی آگاہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وجہ سے گزشتہ بجٹ میں اس سرچارج کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 9 فیصد کی گئی تھی، جب کہ اب اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں وزیراعظم کی حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر مالی بوجھ کم کرنے کا وعدہ پورا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ دستاویزات اور فنانس بل کے مسودے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی بھی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات، مالیاتی نظم و ضبط اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ تجاویز مرتب کی گئی ہیں، جن کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کو ضروری مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی حکومت سرکاری اور نجی تنخواہ دار طبقے کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے، جب کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے مختلف ٹیکس ریلیف اقدامات بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔</strong></p>
<p>قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے مختلف مالی اور معاشی اقدامات کا اعلان کیا۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری حکومت نے آمدنی کی چار سلیبس کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف فراہم کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>بجٹ تقریر میں انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فی صد اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ اسی طرح ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فی صد اضافے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ بڑھتی مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کم سے کم ماہانہ اجرت میں 10 فی صد اضافے کی تجویز بھی پیش کی، جس کے تحت کم سے کم تنخواہ میں 3 ہزار 700 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد کم سے کم ماہانہ تنخواہ 40 ہزار 700 روپے ہو جائے گی۔</p>
<p>حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات عوام کی قوتِ خرید میں بہتری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے، جب کہ ان کا مقصد کم آمدن والے طبقے کو معاشی سہارا فراہم کرنا بھی ہے۔</p>
<p>بجٹ تقریر میں انہوں نے کہا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹیکس ڈھانچے میں تبدیلیاں متعارف کرا رہی ہے تاکہ متوسط آمدن رکھنے والے افراد پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506361/budget-2026-27-tax-rate-on-annual-income-reduced-salary-and-pension-increased'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506361"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیر خزانہ کے مطابق سالانہ 22 لاکھ روپے سے 32 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد پر انکم ٹیکس کی شرح 20 فی صد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ 32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن والے تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 30 فی صد سے کم کر کے 25 فی صد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p>اسی طرح سالانہ 41 سے 56 لاکھ روپے آمدن رکھنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فی صد سے کم کرکے 29 فی صد جب کہ 56 سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فی صد سے کم کر کے 32 فی صد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ کے مطابق تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس کی شرحوں میں کمی کے علاوہ حکومت نے ایک اور اہم ریلیف قدم اٹھاتے ہوئے سرچارج کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک دیرینہ عوامی مطالبہ تھا اور حکومت اس سے بخوبی آگاہ تھی۔</p>
<p>اسی وجہ سے گزشتہ بجٹ میں اس سرچارج کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 9 فیصد کی گئی تھی، جب کہ اب اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں وزیراعظم کی حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر مالی بوجھ کم کرنے کا وعدہ پورا کیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ دستاویزات اور فنانس بل کے مسودے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی بھی منظوری دی۔</p>
<p>حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات، مالیاتی نظم و ضبط اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ تجاویز مرتب کی گئی ہیں، جن کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کو ضروری مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506390</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 19:22:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/121821171542e32.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/121821171542e32.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
