<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 21:45:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 12 Jun 2026 21:45:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی بجٹ: لگژری گاڑیوں، مہنگی الیکٹرک کار کی درآمد پر نئے ٹیکس عائد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506391/federal-budget-2026-27-new-taxes-on-imports-of-luxury-vehicles-and-electric-cars</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے بجٹ 27-2026 میں لگژری اور درآمدی گاڑیوں پر ٹیکسوں پر نئے اور اضافی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد محصولات میں اضافہ، غیر ضروری درآمدات میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعے کے روز قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران آٹو موبائل سیکٹر پر نئے ٹیکسز عائد کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کے مطابق دو ہزار سی سی سے تین ہزار سی سی تک کی تمام پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں بالخصوص ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے، جب کہ تین ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر پہلے سے موجود ڈیوٹی میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے اس اقدام کو آٹو موبائل انڈسٹری میں ٹیکس ڈھانچے کو متوازن بنانے اور لگژری گاڑیوں کی درآمدات کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506390/pakistan-budget-2025-salaries-pension-tax-relief'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506390"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ میں دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے دائرے میں رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر اضافی ٹیکس لاگو ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے ایوان میں بتایا کہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مکمل طور پر مراعات ختم نہیں کر رہی۔ الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور بسوں کے لیے موجودہ رعایتی نظام برقرار رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی نئی آٹو پالیسی پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت مستقبل میں آٹو موبائل سیکٹر کے لیے مزید اصلاحات متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے وائٹ اسپرٹ اور منرل تارپین آئل پر بھی 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ان دونوں اشیاء کا استعمال پیٹرول اور دیگر مصوناعات میں غیر قانونی ملاوٹ کے لیے کیا جاتا ہے، جس سے صارفین کی گاڑیوں، صنعتی مشینری اور دیگر آلات کو نقصان پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس نئی ڈیوٹی کا مقصد ملک بھر میں ایندھن کی ملاوٹ کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا اور صارفین کو بہتر معیار کا ایندھن فراہم کرنے میں مدد دینا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے بجٹ 27-2026 میں لگژری اور درآمدی گاڑیوں پر ٹیکسوں پر نئے اور اضافی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد محصولات میں اضافہ، غیر ضروری درآمدات میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعے کے روز قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران آٹو موبائل سیکٹر پر نئے ٹیکسز عائد کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ کے مطابق دو ہزار سی سی سے تین ہزار سی سی تک کی تمام پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں بالخصوص ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے، جب کہ تین ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر پہلے سے موجود ڈیوٹی میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے اس اقدام کو آٹو موبائل انڈسٹری میں ٹیکس ڈھانچے کو متوازن بنانے اور لگژری گاڑیوں کی درآمدات کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506390/pakistan-budget-2025-salaries-pension-tax-relief'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506390"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وفاقی بجٹ میں دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے دائرے میں رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر اضافی ٹیکس لاگو ہوگا۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے ایوان میں بتایا کہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مکمل طور پر مراعات ختم نہیں کر رہی۔ الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور بسوں کے لیے موجودہ رعایتی نظام برقرار رکھا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی نئی آٹو پالیسی پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت مستقبل میں آٹو موبائل سیکٹر کے لیے مزید اصلاحات متوقع ہیں۔</p>
<p>بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے وائٹ اسپرٹ اور منرل تارپین آئل پر بھی 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ان دونوں اشیاء کا استعمال پیٹرول اور دیگر مصوناعات میں غیر قانونی ملاوٹ کے لیے کیا جاتا ہے، جس سے صارفین کی گاڑیوں، صنعتی مشینری اور دیگر آلات کو نقصان پہنچتا ہے۔</p>
<p>وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس نئی ڈیوٹی کا مقصد ملک بھر میں ایندھن کی ملاوٹ کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا اور صارفین کو بہتر معیار کا ایندھن فراہم کرنے میں مدد دینا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506391</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 19:03:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/121902362c2cccf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/121902362c2cccf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
