<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 23:30:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 12 Jun 2026 23:30:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا سے معاہدے پر قیاس آرائی سے گریز کیا جائے: ایرانی وزیر خارجہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506394/iran-araghchi-mou-near-final-stage-islamabad</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے سے متعلق ایم او یو اپنی تکمیل کے پہلے کبھی اتنی قریب نہیں رہا۔ انہوں نے میڈیا سے اس کے مواد پر قیاس آرائی سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسی دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدے کے بارے میں پھیلائی جانے والی خبروں کو غلط قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں لکھا کہ جب تک امریکا سے معاہدے کی حتمی منظوری نہیں ہو جاتی، میڈیا کو اس کے ممکنہ مواد کے بارے میں قیاس آرائی سے اجتناب کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران اپنے ذمہ دارانہ اور شفاف مؤقف کے مطابق تمام تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے ساتھ شیئر کرے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/araghchi/status/2065447197139738809'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/araghchi/status/2065447197139738809"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے مبینہ طور پر معاہدے کی تفصیلات ایرانی میڈیا کو لیک کی ہیں۔ تاہم عراقچی نے اپنے بیان میں اس حوالے سے براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق کئی دعوے درست نہیں ہیں، جن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کسی بھی قسم کی نقد رقم دی جا رہی ہے یا صرف ملاقات یا دستخط کے بدلے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدہ اس انداز میں ترتیب دیا جا رہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خدشات کو ترجیح حاصل ہو۔ ان کے مطابق اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو اس کے بدلے میں معاشی فوائد حاصل ہوں گے جو نہ صرف ایران بل کہ پورے خطے کے لیے مثبت اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/JDVance/status/2065449280773541949'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/JDVance/status/2065449280773541949"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جے ڈی وینس نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ اس معاہدے میں خطے میں دیرپا امن قائم کرنے اور صورتِ حال کو بہتر بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے حالیہ میڈیا رپورٹنگ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں میں غیر معمولی اور غیر سنجیدہ دعوے سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق کچھ لوگ جو پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک تاریخی صدر قرار دے چکے تھے، اب غیر تصدیق شدہ رپورٹس کی بنیاد پر اس معاہدے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اسی طرح بعض افراد ایسے ذرائع پر بھی اعتماد کر رہے ہیں جو خود غیر مصدقہ ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506387/iranian-media-published-details-of-14-point-draft-memorandum-with-us'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506387"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایرانی میڈیا نے ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا مسودہ شائع کیا تھا ، جسے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی بیک چینل سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔ جس کا مقصد رواں سال 28 فروری سے جاری ایران-امریکا جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.mehrnews.com/news/6857718/%D8%AC%D8%B2%D8%A6%DB%8C%D8%A7%D8%AA-%D8%AC%D8%AF%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D8%B2-%D9%BE%DB%8C%D8%B4-%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%B3-%D8%AA%D9%81%D8%A7%D9%87%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%DB%B1%DB%B4-%D9%85%D8%A7%D8%AF%D9%87-%D8%A7%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D9%88-%D8%A2%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%D8%A7"&gt;مہر نیوز&lt;/a&gt;‘ کے مطابق ان نکات میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کی تعمیرِ نو جیسے اہم معاملات پر شرائط اور عمل درآمد کا طریقہ کار اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بھی واضح کر چکے ہیں کہ یہ مسودہ ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا ہے اور اسے ایران کے متعلقہ اداروں میں مزید جائزے اور منظوری کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے سے متعلق ایم او یو اپنی تکمیل کے پہلے کبھی اتنی قریب نہیں رہا۔ انہوں نے میڈیا سے اس کے مواد پر قیاس آرائی سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسی دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدے کے بارے میں پھیلائی جانے والی خبروں کو غلط قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں لکھا کہ جب تک امریکا سے معاہدے کی حتمی منظوری نہیں ہو جاتی، میڈیا کو اس کے ممکنہ مواد کے بارے میں قیاس آرائی سے اجتناب کرنا چاہیے۔</p>
<p>ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران اپنے ذمہ دارانہ اور شفاف مؤقف کے مطابق تمام تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے ساتھ شیئر کرے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/araghchi/status/2065447197139738809'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/araghchi/status/2065447197139738809"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے مبینہ طور پر معاہدے کی تفصیلات ایرانی میڈیا کو لیک کی ہیں۔ تاہم عراقچی نے اپنے بیان میں اس حوالے سے براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق کئی دعوے درست نہیں ہیں، جن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کسی بھی قسم کی نقد رقم دی جا رہی ہے یا صرف ملاقات یا دستخط کے بدلے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدہ اس انداز میں ترتیب دیا جا رہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خدشات کو ترجیح حاصل ہو۔ ان کے مطابق اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو اس کے بدلے میں معاشی فوائد حاصل ہوں گے جو نہ صرف ایران بل کہ پورے خطے کے لیے مثبت اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/JDVance/status/2065449280773541949'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/JDVance/status/2065449280773541949"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جے ڈی وینس نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ اس معاہدے میں خطے میں دیرپا امن قائم کرنے اور صورتِ حال کو بہتر بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے حالیہ میڈیا رپورٹنگ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں میں غیر معمولی اور غیر سنجیدہ دعوے سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق کچھ لوگ جو پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک تاریخی صدر قرار دے چکے تھے، اب غیر تصدیق شدہ رپورٹس کی بنیاد پر اس معاہدے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اسی طرح بعض افراد ایسے ذرائع پر بھی اعتماد کر رہے ہیں جو خود غیر مصدقہ ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506387/iranian-media-published-details-of-14-point-draft-memorandum-with-us'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506387"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ ایرانی میڈیا نے ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا مسودہ شائع کیا تھا ، جسے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی بیک چینل سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔ جس کا مقصد رواں سال 28 فروری سے جاری ایران-امریکا جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔</p>
<p>ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.mehrnews.com/news/6857718/%D8%AC%D8%B2%D8%A6%DB%8C%D8%A7%D8%AA-%D8%AC%D8%AF%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D8%B2-%D9%BE%DB%8C%D8%B4-%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%B3-%D8%AA%D9%81%D8%A7%D9%87%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%DB%B1%DB%B4-%D9%85%D8%A7%D8%AF%D9%87-%D8%A7%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D9%88-%D8%A2%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%D8%A7">مہر نیوز</a>‘ کے مطابق ان نکات میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کی تعمیرِ نو جیسے اہم معاملات پر شرائط اور عمل درآمد کا طریقہ کار اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بھی واضح کر چکے ہیں کہ یہ مسودہ ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا ہے اور اسے ایران کے متعلقہ اداروں میں مزید جائزے اور منظوری کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506394</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 21:14:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/12205336d390ed5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/12205336d390ed5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
