<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 12:33:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 15 Jun 2026 12:33:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران امریکا معاہدہ: تہران کو اربوں ڈالرز کے منجمد فنڈز واپس ملیں گے یا نہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506465/us-iran-at-odds-over-frozen-assets-worth-billions-as-trump-announces-peace-deal</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیر کو امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو لے کر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی طرف سے متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں، جس کی وجہ سے اس معاہدے کی اصل حقیقت الجھ گئی ہے۔ سب سے بڑا جھگڑا ایران کے اُن اربوں ڈالر پر ہو رہا ہے جو امریکا نے منجمد کر رکھے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تضاد اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فخر سے یہ اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے، لیکن اس کے فوراً بعد ہی دونوں ملکوں کے حکام نے اس معاہدے کے کاغذات میں لکھی ہوئی باتوں کی الگ الگ تشریح کرنا شروع کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کا کہنا ہے کہ اسے منجمد فنڈز قسطوں میں ملیں گے جبکہ امریکی حکام اس بات کو بالکل جھوٹ قرار دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ معاہدے کی دستاویز میں ایران کے جوہری پروگرام، سمندری راستے یعنی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے تیل پر لگی امریکی پابندیوں کو ہٹانے جیسے تمام اہم معاملات شامل کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کی طرف سے اس یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد اگلے ساٹھ دنوں میں اصل اور حتمی معاہدے پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506459/us-iran-reach-preliminary-agreement-to-end-war-signing-set-for-friday'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506459"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ معاہدے کے مطابق امریکا ایران کے روکے ہوئے 25 ارب ڈالر کے اثاثے بحال کرے گا، اور ان پیسوں میں نقد رقم کی منتقلی، علاقائی ممالک کا آپسی تعاون اور بینکوں کے ذریعے قرضے کی سہولیات شامل ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ نے بھی اس معاملے پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جیسے ہی 14 نکات پر مشتمل اس یادداشتی خط پر دستخط ہوں گے، ایران کے روکے ہوئے تمام اثاثے اور فنڈز بحال کر دیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس دستاویز میں سب سے پہلی بات امریکا کی طرف سے سمندری ناکہ بندی کو ختم کرنا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو بات چیت کے دوسرے مرحلے میں شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہر نیوز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حتمی مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی امریکا ایران کو 12 ارب ڈالر کی رقم جاری کر دے گا اور امریکا اور اس کے ساتھی ممالک کو ایران کی دوبارہ تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کا منصوبہ بھی دینا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف امریکا کی جانب سے ان تمام ایرانی دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506460/iran-us-peace-deal-impact-crude-oil-prices-drop-significantly'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506460"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کے نے وائٹ ہاؤس اور امریکی حکام کے حوالے سے ایرانی میڈیا کی اِن خبروں کو بالکل غلط قرار دیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے روکے ہوئے پیسے جاری کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں وائٹ ہاؤس حکام کے حوالے سے لکھا گیا کہ ایران کے فنڈز جاری کرنے کے حوالے سے خبریں بالکل درست نہیں ہیں، یہ معاہدہ اصل میں ’کام کرو اور فائدہ پاؤ‘ کی بنیاد پر طے ہوا ہے اور جب تک ایرانی حکومت اپنے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کرتی، تب تک ان کا ایک روپیہ بھی بحال نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ساٹھ دنوں کی بات چیت شروع ہونے سے پہلے ایران کسی بھی صورت ان روکے ہوئے پیسوں کو بغیر کسی شرط کے ہاتھ نہیں لگا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور دونوں ممالک ان اختلافات کو کیسے حل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پیر کو امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو لے کر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی طرف سے متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں، جس کی وجہ سے اس معاہدے کی اصل حقیقت الجھ گئی ہے۔ سب سے بڑا جھگڑا ایران کے اُن اربوں ڈالر پر ہو رہا ہے جو امریکا نے منجمد کر رکھے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ تضاد اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فخر سے یہ اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے، لیکن اس کے فوراً بعد ہی دونوں ملکوں کے حکام نے اس معاہدے کے کاغذات میں لکھی ہوئی باتوں کی الگ الگ تشریح کرنا شروع کر دی۔</p>
<p>ایران کا کہنا ہے کہ اسے منجمد فنڈز قسطوں میں ملیں گے جبکہ امریکی حکام اس بات کو بالکل جھوٹ قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ معاہدے کی دستاویز میں ایران کے جوہری پروگرام، سمندری راستے یعنی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے تیل پر لگی امریکی پابندیوں کو ہٹانے جیسے تمام اہم معاملات شامل کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کی طرف سے اس یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد اگلے ساٹھ دنوں میں اصل اور حتمی معاہدے پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506459/us-iran-reach-preliminary-agreement-to-end-war-signing-set-for-friday'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506459"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رائٹرز کے مطابق مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ معاہدے کے مطابق امریکا ایران کے روکے ہوئے 25 ارب ڈالر کے اثاثے بحال کرے گا، اور ان پیسوں میں نقد رقم کی منتقلی، علاقائی ممالک کا آپسی تعاون اور بینکوں کے ذریعے قرضے کی سہولیات شامل ہوں گی۔</p>
<p>ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ نے بھی اس معاملے پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے۔</p>
<p>عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جیسے ہی 14 نکات پر مشتمل اس یادداشتی خط پر دستخط ہوں گے، ایران کے روکے ہوئے تمام اثاثے اور فنڈز بحال کر دیے جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس دستاویز میں سب سے پہلی بات امریکا کی طرف سے سمندری ناکہ بندی کو ختم کرنا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو بات چیت کے دوسرے مرحلے میں شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p>مہر نیوز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حتمی مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی امریکا ایران کو 12 ارب ڈالر کی رقم جاری کر دے گا اور امریکا اور اس کے ساتھی ممالک کو ایران کی دوبارہ تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کا منصوبہ بھی دینا ہوگا۔</p>
<p>دوسری طرف امریکا کی جانب سے ان تمام ایرانی دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506460/iran-us-peace-deal-impact-crude-oil-prices-drop-significantly'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506460"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کے نے وائٹ ہاؤس اور امریکی حکام کے حوالے سے ایرانی میڈیا کی اِن خبروں کو بالکل غلط قرار دیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے روکے ہوئے پیسے جاری کر رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں وائٹ ہاؤس حکام کے حوالے سے لکھا گیا کہ ایران کے فنڈز جاری کرنے کے حوالے سے خبریں بالکل درست نہیں ہیں، یہ معاہدہ اصل میں ’کام کرو اور فائدہ پاؤ‘ کی بنیاد پر طے ہوا ہے اور جب تک ایرانی حکومت اپنے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کرتی، تب تک ان کا ایک روپیہ بھی بحال نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ساٹھ دنوں کی بات چیت شروع ہونے سے پہلے ایران کسی بھی صورت ان روکے ہوئے پیسوں کو بغیر کسی شرط کے ہاتھ نہیں لگا سکتا۔</p>
<p>اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور دونوں ممالک ان اختلافات کو کیسے حل کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506465</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 09:33:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/150932227c04013.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/150932227c04013.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
