<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 16:33:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 15 Jun 2026 16:33:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یمن کے 'اسپائیڈر مین' آتش فشاں پہاڑ سے گر کر جاں بحق</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506467/yemen-accident-adventure-spiderman-breakingnews-spidermanofyemen</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یمن میں ایک انتہائی مہم جو اور نڈر نوجوان، جنہیں ان کے خطرناک کرتبوں کی وجہ سے ’یمن کا اسپائیڈر مین‘ کہا جاتا تھا، ایک آتش فشاں کے گہرے دہانے میں گر کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ بغیر کسی حفاظتی سامان کے ایک سیدھی چٹان پر چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 سالہ القعقاع ابن عنتر جمعے کے روز یمن کے جنوبی صوبے الضالع میں واقع ’حردہ ڈیم‘ نامی آتش فشانی گڑھے کی تقریباً سیدھی اور بلند چٹانی دیوار پر چڑھ رہے تھے۔ سول ڈیفنس اتھارٹی کے مطابق وہ کسی بھی قسم کے حفاظتی سامان یا رسی کے بغیر چڑھائی کر رہے تھے کہ اچانک ان کا ہاتھ پھسل گیا اور وہ تقریباً 120 میٹر گہرے گڑھے میں جا گرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حادثے کی تقریباً 10 سیکنڈ کی ویڈیو حکام کی جانب سے بھی جاری کی گئی ہے لیکن سوشل میڈیا پر بھی اس حادثے کی سیکڑوں وڈیو وائرل ہورہی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ القعقاع ابن عنتر چٹان پر چڑھ رہے ہیں جبکہ چٹان کی دیوار پر عربی زبان میں کچھ نام سفید رنگ سے لکھے ہوئے ہیں۔ ویڈیو میں وہ ایک ہاتھ سے چٹان کو پکڑے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ دوسرا ہاتھ ہوا میں ہوتا ہے، لیکن چند لمحوں بعد ان کی گرفت چھوٹ جاتی ہے اور وہ نیچے گر جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/DailyLoud/status/2065838524067131662?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DailyLoud/status/2065838524067131662?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حادثے کے بعد امدادی کارروائی کے لیے غوطہ خوروں اور پانی میں ریسکیو کرنے والے ماہرین سمیت خصوصی ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ حکام کے مطابق دشوار گزار اور پتھریلے مقام کی وجہ سے امدادی کام کافی پیچیدہ تھا۔ تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے بعد غوطہ خوروں نے ان کی لاش پانی کی سطح سے تقریباً 30 میٹر نیچے سے برآمد کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہردہ ڈیم، جسے ہردہ دمت بھی کہا جاتا ہے، یمن کے شہر دمت کے قریب واقع ایک منفرد آتش فشانی گڑھا ہے۔ یہ علاقہ اپنی قدرتی خوبصورتی اور منفرد ساخت کی وجہ سے ایک اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔ اس گڑھے کے اندر کھڑی چٹانی دیواریں ہیں جبکہ اس کے نچلے حصے میں گرم اور گندھک سے بھرپور جھیل موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;القعقاع ابن عنتر نے سوشل میڈیا پر اپنی خطرناک مہم جوئی کی ویڈیوز کے ذریعے خاصی شہرت حاصل کی تھی۔ وہ یمن کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں بغیر حفاظتی سامان کے چڑھائیاں کرتے تھے اور ان کی ویڈیوز اکثر وائرل ہو جاتی تھیں۔ ایک ویڈیو میں انہیں صرف اپنے ہاتھوں کے سہارے چٹان کے کنارے سے لٹکتے ہوئے دیکھا گیا تھا جبکہ ان کی ٹانگیں ایک گہری ڈھلوان کی جانب جھول رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کے بعد سول ڈیفنس اتھارٹی نے مہم جوئی اور چٹانوں پر چڑھنے کے شوقین افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل کریں اور مناسب حفاظتی سامان استعمال کریں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے افسوسناک حادثات سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یمن میں ایک انتہائی مہم جو اور نڈر نوجوان، جنہیں ان کے خطرناک کرتبوں کی وجہ سے ’یمن کا اسپائیڈر مین‘ کہا جاتا تھا، ایک آتش فشاں کے گہرے دہانے میں گر کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ بغیر کسی حفاظتی سامان کے ایک سیدھی چٹان پر چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔</strong></p>
<p>30 سالہ القعقاع ابن عنتر جمعے کے روز یمن کے جنوبی صوبے الضالع میں واقع ’حردہ ڈیم‘ نامی آتش فشانی گڑھے کی تقریباً سیدھی اور بلند چٹانی دیوار پر چڑھ رہے تھے۔ سول ڈیفنس اتھارٹی کے مطابق وہ کسی بھی قسم کے حفاظتی سامان یا رسی کے بغیر چڑھائی کر رہے تھے کہ اچانک ان کا ہاتھ پھسل گیا اور وہ تقریباً 120 میٹر گہرے گڑھے میں جا گرے۔</p>
<p>اس حادثے کی تقریباً 10 سیکنڈ کی ویڈیو حکام کی جانب سے بھی جاری کی گئی ہے لیکن سوشل میڈیا پر بھی اس حادثے کی سیکڑوں وڈیو وائرل ہورہی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ القعقاع ابن عنتر چٹان پر چڑھ رہے ہیں جبکہ چٹان کی دیوار پر عربی زبان میں کچھ نام سفید رنگ سے لکھے ہوئے ہیں۔ ویڈیو میں وہ ایک ہاتھ سے چٹان کو پکڑے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ دوسرا ہاتھ ہوا میں ہوتا ہے، لیکن چند لمحوں بعد ان کی گرفت چھوٹ جاتی ہے اور وہ نیچے گر جاتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/DailyLoud/status/2065838524067131662?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DailyLoud/status/2065838524067131662?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>حادثے کے بعد امدادی کارروائی کے لیے غوطہ خوروں اور پانی میں ریسکیو کرنے والے ماہرین سمیت خصوصی ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ حکام کے مطابق دشوار گزار اور پتھریلے مقام کی وجہ سے امدادی کام کافی پیچیدہ تھا۔ تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے بعد غوطہ خوروں نے ان کی لاش پانی کی سطح سے تقریباً 30 میٹر نیچے سے برآمد کر لی۔</p>
<p>ہردہ ڈیم، جسے ہردہ دمت بھی کہا جاتا ہے، یمن کے شہر دمت کے قریب واقع ایک منفرد آتش فشانی گڑھا ہے۔ یہ علاقہ اپنی قدرتی خوبصورتی اور منفرد ساخت کی وجہ سے ایک اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔ اس گڑھے کے اندر کھڑی چٹانی دیواریں ہیں جبکہ اس کے نچلے حصے میں گرم اور گندھک سے بھرپور جھیل موجود ہے۔</p>
<p>القعقاع ابن عنتر نے سوشل میڈیا پر اپنی خطرناک مہم جوئی کی ویڈیوز کے ذریعے خاصی شہرت حاصل کی تھی۔ وہ یمن کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں بغیر حفاظتی سامان کے چڑھائیاں کرتے تھے اور ان کی ویڈیوز اکثر وائرل ہو جاتی تھیں۔ ایک ویڈیو میں انہیں صرف اپنے ہاتھوں کے سہارے چٹان کے کنارے سے لٹکتے ہوئے دیکھا گیا تھا جبکہ ان کی ٹانگیں ایک گہری ڈھلوان کی جانب جھول رہی تھیں۔</p>
<p>اس واقعے کے بعد سول ڈیفنس اتھارٹی نے مہم جوئی اور چٹانوں پر چڑھنے کے شوقین افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل کریں اور مناسب حفاظتی سامان استعمال کریں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے افسوسناک حادثات سے بچا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506467</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 11:44:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/1511520161681c8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/1511520161681c8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/15113157490a902.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/15113157490a902.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
