<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Sports</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 13:48:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 16 Jun 2026 13:48:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ: اسٹیڈیم میں ایران کا صرف 'سرکاری پرچم' لہرانے کی اجازت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506500/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے ورلڈ کپ میچز کے دوران اسٹیڈیم کے اندر صرف ایران کا موجودہ اور سرکاری قومی پرچم لہرانے کی اجازت دی ہے جبکہ سیاسی نوعیت کے کسی بھی دوسرے پرچم پر پابندی عائد رہے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ ضوابط  کے تحت فیفا نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کھیل کے میدانوں میں صرف رکن ممالک کے تسلیم شدہ سرکاری جھنڈے ہی لائے جا سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے باعث لاس اینجلس کے سوفائی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے دوران ایران کے سابق شاہی دور کا پرچم لہرانے کی ممانعت تھی، کیونکہ سیکیورٹی انتظامیہ کی جانب سے ایسے بینرز اور لباس پر سختی برتنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506476/fifaworldcup-fifa-worldcup2026-sweden-tunisia-var-footballtechnology-cricket-technology'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506476"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسٹیڈیم میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات تھے اور داخلے پر تلاشی لی جا رہی تھی۔ سیکیورٹی عملے نے کچھ ایسے شائقین کو روکا جنہوں نے پرانے جھنڈے والی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں اور متبادل لباس نہ ہونے پر انہیں شرٹس الٹی کر کے پہننے کی ہدایت کی گئی۔ تاہم، ایک بار جب شائقین اسٹیڈیم کے اندر داخل ہو گئے، تو انتظامیہ اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی اورمیچ کے دوران یہ جھنڈے بھی لہرائے گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506473/japan-cleanliness-fifa-worldcup2026-japanfans-stadiumcleanup-fifaworldcup'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506473"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایران کے سابق دور سے منسلک علامتی پرچم موجودہ سرکاری پرچم سے مختلف ہے، اس میں ’شیر اور سورج‘ کا نشان شامل ہے جو 1979ء کے انقلاب سے قبل کے دور کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ فیفا کا مؤقف ہے کہ وہ کھیل کے میدانوں کو کسی بھی قسم کے سیاسی احتجاج یا تنازعات سے دور رکھنا چاہتی ہے، اسی لیے اسٹیڈیم کے اندر صرف موجودہ ایرانی حکومت کا سرکاری پرچم ہی جائز تصور ہوگا اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو روکا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے ورلڈ کپ میچز کے دوران اسٹیڈیم کے اندر صرف ایران کا موجودہ اور سرکاری قومی پرچم لہرانے کی اجازت دی ہے جبکہ سیاسی نوعیت کے کسی بھی دوسرے پرچم پر پابندی عائد رہے گی۔</strong></p>
<p>ورلڈ کپ ضوابط  کے تحت فیفا نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کھیل کے میدانوں میں صرف رکن ممالک کے تسلیم شدہ سرکاری جھنڈے ہی لائے جا سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے باعث لاس اینجلس کے سوفائی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے دوران ایران کے سابق شاہی دور کا پرچم لہرانے کی ممانعت تھی، کیونکہ سیکیورٹی انتظامیہ کی جانب سے ایسے بینرز اور لباس پر سختی برتنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506476/fifaworldcup-fifa-worldcup2026-sweden-tunisia-var-footballtechnology-cricket-technology'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506476"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسٹیڈیم میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات تھے اور داخلے پر تلاشی لی جا رہی تھی۔ سیکیورٹی عملے نے کچھ ایسے شائقین کو روکا جنہوں نے پرانے جھنڈے والی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں اور متبادل لباس نہ ہونے پر انہیں شرٹس الٹی کر کے پہننے کی ہدایت کی گئی۔ تاہم، ایک بار جب شائقین اسٹیڈیم کے اندر داخل ہو گئے، تو انتظامیہ اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی اورمیچ کے دوران یہ جھنڈے بھی لہرائے گئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506473/japan-cleanliness-fifa-worldcup2026-japanfans-stadiumcleanup-fifaworldcup'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506473"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ ایران کے سابق دور سے منسلک علامتی پرچم موجودہ سرکاری پرچم سے مختلف ہے، اس میں ’شیر اور سورج‘ کا نشان شامل ہے جو 1979ء کے انقلاب سے قبل کے دور کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ فیفا کا مؤقف ہے کہ وہ کھیل کے میدانوں کو کسی بھی قسم کے سیاسی احتجاج یا تنازعات سے دور رکھنا چاہتی ہے، اسی لیے اسٹیڈیم کے اندر صرف موجودہ ایرانی حکومت کا سرکاری پرچم ہی جائز تصور ہوگا اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو روکا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506500</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 10:32:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/1610223564a5196.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/1610223564a5196.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
