<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 11:27:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 21 Jun 2026 11:27:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی فون کے پرزے بنانے والی بھارتی فیکٹری سے عوام کی جان خطرے میں کیوں ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506652/iphone-parts-factory-india-public-health-risk-pollution-allegations</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست تمل ناڈو میں ایپل کے سپلائر ٹاٹا الیکٹرانکس کی آئی فون پرزے بنانے والی فیکٹری کے خلاف آلودگی کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ریاستی محکمہ صحت نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ بعض کسانوں نے شکایت کی ہے کہ فیکٹری سے خارج ہونے والے مائع فضلے نے ان کی زرعی زمینوں اور پانی کے ذخائر کو متاثر کیا ہے، جبکہ کچھ افراد کو جلد سے متعلق مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوسور میں واقع ٹاٹا الیکٹرانکس پلانٹ کو 25 مئی کو تمل ناڈو آلودگی کنٹرول بورڈ کی جانب سے انتباہی نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس میں قریبی زرعی علاقوں کے زیرِ زمین پانی کو آلودہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ تاہم ٹاٹا کمپنی کا کہنا ہے کہ حالیہ پانی کے نمونوں کے تجزیے میں کسی قسم کی آلودگی ثابت نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ صحت کی جانب سے متاثرہ علاقوں سے لیے گئے پانی کے دو نمونوں میں ای کولی نامی بیکٹیریا پایا گیا، جو پانی میں فضلاتی آلودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460631'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460631"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید ٹیسٹ نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسانوں کا دعویٰ ہے کہ فیکٹری کے فضلے نے کنوؤں اور زرعی زمینوں کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث فصلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور بعض زمینیں غیر زرخیز ہوتی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی کسان گورومورتی وی کے مطابق اس پانی سے اگنے والی فصلیں کچھ عرصے بعد مرجھا کر ختم ہو جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمل ناڈو میں پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے اپریل میں لیے گئے پانی کے نمونوں میں ٹوٹل ڈیزالوڈ سالڈز کی مقدار بھی مقررہ حد سے دوگنا سے زیادہ پائی گئی، جس پر ماحولیاتی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقی ادارے کاؤنٹر پوائنٹ کے مطابق بھارت 2026 تک دنیا کے 26 فیصد آئی فونز تیار کرنے کے راستے پر گامزن ہے، جبکہ چار سال قبل یہ شرح صرف 6 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمل ناڈو بھارت کا ایک بڑا صنعتی مرکز ہے جہاں ٹاٹا کمپنی کا ایک اور آئی فون اسمبلی پلانٹ بھی موجود ہے، جبکہ سام سنگ اور ہنڈائی موٹر کی بڑی فیکٹریاں بھی اسی ریاست میں کام کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست تمل ناڈو میں ایپل کے سپلائر ٹاٹا الیکٹرانکس کی آئی فون پرزے بنانے والی فیکٹری کے خلاف آلودگی کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ریاستی محکمہ صحت نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ بعض کسانوں نے شکایت کی ہے کہ فیکٹری سے خارج ہونے والے مائع فضلے نے ان کی زرعی زمینوں اور پانی کے ذخائر کو متاثر کیا ہے، جبکہ کچھ افراد کو جلد سے متعلق مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔</p>
<p>ہوسور میں واقع ٹاٹا الیکٹرانکس پلانٹ کو 25 مئی کو تمل ناڈو آلودگی کنٹرول بورڈ کی جانب سے انتباہی نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس میں قریبی زرعی علاقوں کے زیرِ زمین پانی کو آلودہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ تاہم ٹاٹا کمپنی کا کہنا ہے کہ حالیہ پانی کے نمونوں کے تجزیے میں کسی قسم کی آلودگی ثابت نہیں ہوئی۔</p>
<p>محکمہ صحت کی جانب سے متاثرہ علاقوں سے لیے گئے پانی کے دو نمونوں میں ای کولی نامی بیکٹیریا پایا گیا، جو پانی میں فضلاتی آلودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460631'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460631"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکام کے مطابق تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید ٹیسٹ نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>کسانوں کا دعویٰ ہے کہ فیکٹری کے فضلے نے کنوؤں اور زرعی زمینوں کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث فصلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور بعض زمینیں غیر زرخیز ہوتی جا رہی ہیں۔</p>
<p>مقامی کسان گورومورتی وی کے مطابق اس پانی سے اگنے والی فصلیں کچھ عرصے بعد مرجھا کر ختم ہو جاتی ہیں۔</p>
<p>تمل ناڈو میں پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے اپریل میں لیے گئے پانی کے نمونوں میں ٹوٹل ڈیزالوڈ سالڈز کی مقدار بھی مقررہ حد سے دوگنا سے زیادہ پائی گئی، جس پر ماحولیاتی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>تحقیقی ادارے کاؤنٹر پوائنٹ کے مطابق بھارت 2026 تک دنیا کے 26 فیصد آئی فونز تیار کرنے کے راستے پر گامزن ہے، جبکہ چار سال قبل یہ شرح صرف 6 فیصد تھی۔</p>
<p>تمل ناڈو بھارت کا ایک بڑا صنعتی مرکز ہے جہاں ٹاٹا کمپنی کا ایک اور آئی فون اسمبلی پلانٹ بھی موجود ہے، جبکہ سام سنگ اور ہنڈائی موٹر کی بڑی فیکٹریاں بھی اسی ریاست میں کام کر رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506652</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 09:02:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2108580376d2a44.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2108580376d2a44.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
