<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 02:06:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 02:06:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں چار سکھوں کی گرفتاری کے لیے فوج طلب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506721/4-nihang-sikhs-remain-inside-uttarakhand-gurudwara-army-deployed</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے ضلع ردرا پریاگ میں واقع ناگراسو گردوارے میں تلواروں اور نیزوں سے لیس نہنگ سکھوں اور پولیس کے درمیان چوتھے دن بھی تناؤ برقرار ہے۔ یہ پورا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب نہنگ سکھوں کے ایک گروپ نے گردوارے پر قبضہ کر لیا اور ایک سیوادار سمیت دو سکھ زائرین کو چھت پر یرغمال بنا لیا۔ بات پولیس کے بس سے باہر نکلی تو قبضہ چھڑانے کے لیے فوج کو طلب کرلیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق نہنگ سکھوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے ان چار ساتھیوں کو فوری رہا کیا جائے جنہیں 16 جون کو ضلع چمولی میں مقامی لوگوں کے ساتھ پارکنگ کے تنازع پر ہونے والی لڑائی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب مذاکرات کے بعد صورتحال کچھ بہتر ہو رہی ہے اور وہاں موجود سات نہنگ سکھوں میں سے تین گردوارے سے باہر آ چکے ہیں جبکہ دو یرغمالیوں کو بھی چھڑوا لیا گیا ہے، لیکن چار نہنگ سکھ اب بھی ہتھیاروں کے ساتھ اندر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Panther7112/status/2069237647911133360/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Panther7112/status/2069237647911133360/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق، ردرا پریاگ کے قصبے ناگراسو میں پولیس اور نیم فوجی دستے انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو فون کیا اور ان سے درخواست کی کہ اس پورے مسئلے کو لڑائی کے بجائے بات چیت اور امن سے حل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھگونت مان نے اتراکھنڈ کی حکومت کو اپنی طرف سے ہر ممکن مدد دینے کی پیشکش بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس گفتگو کے بعد اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے ان سے بات کی ہے اور انہیں یقین دلایا ہے کہ ہم بالکل انصاف سے کام لیں گے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے اعلیٰ افسر راجیو سورپ نے بتایا کہ نہنگ سکھوں کے ساتھ مسلسل بات چیت کے بعد ہفتے اور اتوار کے روز دونوں یرغمالیوں کو بحفاظت آزاد کروا لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506715/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506715"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ناگراسو گردوارے کے اس واقعے اور چمولی میں ہونے والی پرانی لڑائی کا آپس میں کوئی سیدھا تعلق نہیں ہے۔ چمولی کے واقعے کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ 16 جون کو نہنگ سکھوں کا ایک گروپ ہیم کنڈ صاحب کی زیارت کے بعد واپس جا رہا تھا کہ راستے میں گاڑی کھڑی کرنے کے معاملے پر مقامی لوگوں سے ان کی تکرار ہو گئی، جس کے بعد تلواریں چلنے سے چار مقامی لوگ اور ایک نہنگ سکھ زخمی ہو گیا تھا اور پولیس نے اسی وجہ سے چار نہنگ سکھوں کو گرفتار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہنگ سکھ دراصل سکھ مذہب کا ایک روایتی اور تاریخی جنگجو گروپ ہے جن کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ یہ لوگ اپنے گہرے نیلے رنگ کے لباس، بڑی پگڑیوں اور اپنے ساتھ ہمیشہ تلوار اور نیزہ رکھنے کی وجہ سے دور سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ بتاتی ہے کہ سکھوں کے چھٹے اور دسویں گرو کے زمانے میں سکھ برادری کی حفاظت کے لیے یہ جنگجو گروپ تیار ہوا تھا جو کسی سے نہیں ڈرتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506654/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506654"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر یہ لوگ پنجاب میں رہتے ہیں اور مذہبی تقریبات میں اپنے جنگی کرتب دکھاتے ہیں اور زائرین کی خدمت کرتے ہیں، لیکن اپنی روایتی وضع قطع اور ہتھیاروں کی وجہ سے جب بھی ان کا پولیس یا مقامی انتظامیہ سے کوئی جھگڑا ہوتا ہے تو یہ معاملہ پورے ملک کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال اتراکھنڈ حکومت نے معاملے کی غیر جانبدارانہ تفتیش کے لیے پولیس کے بڑے افسران کو ڈیوٹی پر لگا دیا ہے تاکہ ہیم کنڈ صاحب کی یاترا پر امن طریقے سے جاری رہ سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے ضلع ردرا پریاگ میں واقع ناگراسو گردوارے میں تلواروں اور نیزوں سے لیس نہنگ سکھوں اور پولیس کے درمیان چوتھے دن بھی تناؤ برقرار ہے۔ یہ پورا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب نہنگ سکھوں کے ایک گروپ نے گردوارے پر قبضہ کر لیا اور ایک سیوادار سمیت دو سکھ زائرین کو چھت پر یرغمال بنا لیا۔ بات پولیس کے بس سے باہر نکلی تو قبضہ چھڑانے کے لیے فوج کو طلب کرلیا گیا۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق نہنگ سکھوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے ان چار ساتھیوں کو فوری رہا کیا جائے جنہیں 16 جون کو ضلع چمولی میں مقامی لوگوں کے ساتھ پارکنگ کے تنازع پر ہونے والی لڑائی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم اب مذاکرات کے بعد صورتحال کچھ بہتر ہو رہی ہے اور وہاں موجود سات نہنگ سکھوں میں سے تین گردوارے سے باہر آ چکے ہیں جبکہ دو یرغمالیوں کو بھی چھڑوا لیا گیا ہے، لیکن چار نہنگ سکھ اب بھی ہتھیاروں کے ساتھ اندر موجود ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Panther7112/status/2069237647911133360/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Panther7112/status/2069237647911133360/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق، ردرا پریاگ کے قصبے ناگراسو میں پولیس اور نیم فوجی دستے انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>اس سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو فون کیا اور ان سے درخواست کی کہ اس پورے مسئلے کو لڑائی کے بجائے بات چیت اور امن سے حل کیا جائے۔</p>
<p>بھگونت مان نے اتراکھنڈ کی حکومت کو اپنی طرف سے ہر ممکن مدد دینے کی پیشکش بھی کی۔</p>
<p>اس گفتگو کے بعد اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے ان سے بات کی ہے اور انہیں یقین دلایا ہے کہ ہم بالکل انصاف سے کام لیں گے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔“</p>
<p>پولیس کے اعلیٰ افسر راجیو سورپ نے بتایا کہ نہنگ سکھوں کے ساتھ مسلسل بات چیت کے بعد ہفتے اور اتوار کے روز دونوں یرغمالیوں کو بحفاظت آزاد کروا لیا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506715/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506715"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ناگراسو گردوارے کے اس واقعے اور چمولی میں ہونے والی پرانی لڑائی کا آپس میں کوئی سیدھا تعلق نہیں ہے۔ چمولی کے واقعے کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ 16 جون کو نہنگ سکھوں کا ایک گروپ ہیم کنڈ صاحب کی زیارت کے بعد واپس جا رہا تھا کہ راستے میں گاڑی کھڑی کرنے کے معاملے پر مقامی لوگوں سے ان کی تکرار ہو گئی، جس کے بعد تلواریں چلنے سے چار مقامی لوگ اور ایک نہنگ سکھ زخمی ہو گیا تھا اور پولیس نے اسی وجہ سے چار نہنگ سکھوں کو گرفتار کیا تھا۔</p>
<p>نہنگ سکھ دراصل سکھ مذہب کا ایک روایتی اور تاریخی جنگجو گروپ ہے جن کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ یہ لوگ اپنے گہرے نیلے رنگ کے لباس، بڑی پگڑیوں اور اپنے ساتھ ہمیشہ تلوار اور نیزہ رکھنے کی وجہ سے دور سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔</p>
<p>تاریخ بتاتی ہے کہ سکھوں کے چھٹے اور دسویں گرو کے زمانے میں سکھ برادری کی حفاظت کے لیے یہ جنگجو گروپ تیار ہوا تھا جو کسی سے نہیں ڈرتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506654/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506654"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عام طور پر یہ لوگ پنجاب میں رہتے ہیں اور مذہبی تقریبات میں اپنے جنگی کرتب دکھاتے ہیں اور زائرین کی خدمت کرتے ہیں، لیکن اپنی روایتی وضع قطع اور ہتھیاروں کی وجہ سے جب بھی ان کا پولیس یا مقامی انتظامیہ سے کوئی جھگڑا ہوتا ہے تو یہ معاملہ پورے ملک کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔</p>
<p>فی الحال اتراکھنڈ حکومت نے معاملے کی غیر جانبدارانہ تفتیش کے لیے پولیس کے بڑے افسران کو ڈیوٹی پر لگا دیا ہے تاکہ ہیم کنڈ صاحب کی یاترا پر امن طریقے سے جاری رہ سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506721</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:13:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/23131128552750d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/23131128552750d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
