<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 12:18:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 12:18:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقوامِ متحدہ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار سیلرز کو نکالنے کا مشن شروع کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506746/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (آئی ایم او) نے آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے مرحلہ وار انخلا کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ خطے میں بحری آمدورفت بحال کرنے کی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (IMO) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے انخلا کا عمل ایران، عمان، خطے کے دیگر ساحلی ممالک، امریکا اور عالمی بحری صنعت کے تعاون سے انجام دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے لیے ضروری حفاظتی ضمانتیں حاصل کر لی گئی ہیں اور محفوظ بحری آمدورفت کے تمام انتظامات کی مکمل جانچ پڑتال کی جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں تجارتی اور مال بردار جہاز اس اہم آبی گزرگاہ میں پھنس گئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506733/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506733"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے بعد بحری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شپنگ انٹیلی جنس ادارے کلیپر کے مطابق پیر کے روز کم از کم 36 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو جنگ شروع ہونے کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمان کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ آئی ایم او کے منصوبے کے تحت انخلا کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا تاکہ موجودہ حالات میں کسی بھی ممکنہ حادثے یا جہازوں کے تصادم کے خطرات سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق بحری راستے میں غیر معمولی دباؤ کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم اور تدریجی انداز میں بحال کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے توحید اسدی نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے سے متعلق مذاکرات میں حالیہ دنوں میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق عمان اور ایران نے مشترکہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ دونوں فریق آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے طریقہ کار پر بات چیت کر رہے ہیں، جو ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ آبی گزرگاہ مکمل طور پر کب تک بحال ہو سکے گی، جبکہ اس وقت بھی ہرمز کے دونوں اطراف سینکڑوں جہاز انتظار کی حالت میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506731/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506731"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو متحدہ عرب امارات پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹول ٹیکس یا فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کوئی بھی ملک یہاں سے گزرنے پر فیس وصول نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول خطے کے تمام ممالک اس مؤقف سے اتفاق کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اس سے قبل کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کبھی بھی جنگ سے پہلے والی صورتحال کی طرف واپس نہیں جائے گی، اگرچہ دونوں فریق اس اہم آبی راستے کو کھلا رکھنے کے لیے رابطے کے مستقل ذرائع قائم کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (آئی ایم او) نے آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے مرحلہ وار انخلا کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ خطے میں بحری آمدورفت بحال کرنے کی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔</strong></p>
<p>اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (IMO) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے انخلا کا عمل ایران، عمان، خطے کے دیگر ساحلی ممالک، امریکا اور عالمی بحری صنعت کے تعاون سے انجام دیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے لیے ضروری حفاظتی ضمانتیں حاصل کر لی گئی ہیں اور محفوظ بحری آمدورفت کے تمام انتظامات کی مکمل جانچ پڑتال کی جا چکی ہے۔</p>
<p>امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں تجارتی اور مال بردار جہاز اس اہم آبی گزرگاہ میں پھنس گئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506733/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506733"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے بعد بحری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شپنگ انٹیلی جنس ادارے کلیپر کے مطابق پیر کے روز کم از کم 36 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو جنگ شروع ہونے کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔</p>
<p>عمان کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ آئی ایم او کے منصوبے کے تحت انخلا کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا تاکہ موجودہ حالات میں کسی بھی ممکنہ حادثے یا جہازوں کے تصادم کے خطرات سے بچا جا سکے۔</p>
<p>وزارت کے مطابق بحری راستے میں غیر معمولی دباؤ کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم اور تدریجی انداز میں بحال کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے توحید اسدی نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے سے متعلق مذاکرات میں حالیہ دنوں میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق عمان اور ایران نے مشترکہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ دونوں فریق آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے طریقہ کار پر بات چیت کر رہے ہیں، جو ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔</p>
<p>تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ آبی گزرگاہ مکمل طور پر کب تک بحال ہو سکے گی، جبکہ اس وقت بھی ہرمز کے دونوں اطراف سینکڑوں جہاز انتظار کی حالت میں موجود ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506731/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506731"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو متحدہ عرب امارات پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹول ٹیکس یا فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p>مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کوئی بھی ملک یہاں سے گزرنے پر فیس وصول نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول خطے کے تمام ممالک اس مؤقف سے اتفاق کریں گے۔</p>
<p>دوسری جانب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اس سے قبل کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کبھی بھی جنگ سے پہلے والی صورتحال کی طرف واپس نہیں جائے گی، اگرچہ دونوں فریق اس اہم آبی راستے کو کھلا رکھنے کے لیے رابطے کے مستقل ذرائع قائم کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506746</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 09:28:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/240924199e13b9f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/240924199e13b9f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
