<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Sports</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 15:30:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 15:30:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیراگوئے کے فٹبالر کو میچ کے دوران منہ چھپانے پر سزا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506751/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیراگوئے کے مڈفیلڈر میگوئل المیرون کو فیفا ورلڈ کپ 2026 میں میچ کے دوران منہ چھپانے پر ایک میچ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المیرون کو یہ سزا اس وقت دی گئی جب انہیں ترکیہ کے کھلاڑی میرٹ مولدور کے ساتھ تنازع کے دوران اپنا منہ ہاتھ سے ڈھانپنے پر ریڈ کارڈ ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے منگل کو تصدیق کی کہ المیرون جمعرات کو ہونے والے پیراگوئے کے آخری گروپ میچ میں آسٹریلیا کے خلاف حصہ نہیں لے سکیں گے۔ فٹبال کی عالمی تنظیم کے مطابق یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ جمعہ کو پیراگوئے اور ترکی کے درمیان کھیلے گئے میچ میں پیش آیا، جہاں پیراگوئے نے ایک گول سے کامیابی حاصل کی تھی۔ میچ کے پہلے ہاف کے آخری لمحات میں المیرون اور مولدور کے درمیان بحث ہوئی، جس کے دوران المیرون نے اپنا منہ ڈھانپ لیا۔ نئے قوانین کے تحت کھلاڑیوں کو اس طرح منہ چھپانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے یہ خدشہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے الفاظ کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹبال کے قوانین بنانے والے ادارے انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ نے رواں سال اپریل میں فیصلہ کیا تھا کہ اگر کوئی کھلاڑی کسی دوسرے کھلاڑی سے بحث کے دوران اپنا منہ چھپاتا ہے تو اسے ریڈ کارڈ دیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ قانون لازمی نہیں ہے، لیکن مقابلوں کا انعقاد کرنے والی تنظیمیں، جن میں فیفا بھی شامل ہے، اسے نافذ کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241115286e68c21.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241115286e68c21.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے بھی اس قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ منہ چھپانے کا معاملہ احترام اور کھیل کے اچھے رویے سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے تو اسے بات کرتے وقت اپنا منہ نہیں ڈھانپنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قانون ایک ایسے واقعے کے بعد مزید توجہ میں آیا تھا جب چیمپئنز لیگ کے ایک میچ میں بینفیکا کے کھلاڑی گیانلوکا پریستیانی پر الزام لگا تھا کہ انہوں نے ریال میڈرڈ کے ونیسیئس جونیئر کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے اور انہیں چھپانے کی کوشش کی۔ بعد میں یورپی فٹبال حکام نے پریستیانی پر پابندی عائد کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، المیرون کو ریڈ کارڈ دکھائے جانے پر تنقید کرنے والے پیراگوئے کے صحافی جارج چیپی ویرا کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔ فیفا نے ان کی ورلڈ کپ ایکریڈیٹیشن منسوخ کر دی، جس کے باعث وہ اب اس ٹورنامنٹ کی کوریج اسٹیڈیم کے اندر یا باہر نہیں کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506624'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506624"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صحافی جارج ویرا نے پیراگوئے اور ترکی کے میچ کے دوران براہ راست نشریات میں شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے ریفری اور فیفا کے حکام پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزامات لگائے تھے کہ فیصلے سے پیراگوئے کی ٹیم کو نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں صحافی نے اپنے رویے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی قومی ٹیم کے کھلاڑی کو باہر کیے جانے پر جذباتی ہو گئے تھے اور انہوں نے ایسے الفاظ استعمال کیے جو قابل قبول نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کسی قانون یا ریفری کے فیصلے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس بنیاد پر اپنا کنٹرول کھونا درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویرا نے بتایا کہ پابندی کے بعد وہ اپنے میڈیا ادارے کے لیے ورلڈ کپ سے متعلق کسی بھی قسم کی کوریج میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ انہوں نے فیفا، اسپانسرز اور اپنے ادارے سے بھی معذرت کی اور اپنی غلطی کی ذمہ داری قبول کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کی جانب سے صحافی کے خلاف کارروائی پر تاحال کوئی تفصیلی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ فٹبال کی عالمی تنظیم کی جانب سے صحافیوں پر ایسی پابندیاں بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں، تاہم ماضی میں بھی بعض صحافیوں کو فیفا کے معاملات پر تنقید کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پیراگوئے کے مڈفیلڈر میگوئل المیرون کو فیفا ورلڈ کپ 2026 میں میچ کے دوران منہ چھپانے پر ایک میچ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>المیرون کو یہ سزا اس وقت دی گئی جب انہیں ترکیہ کے کھلاڑی میرٹ مولدور کے ساتھ تنازع کے دوران اپنا منہ ہاتھ سے ڈھانپنے پر ریڈ کارڈ ملا۔</p>
<p>فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے منگل کو تصدیق کی کہ المیرون جمعرات کو ہونے والے پیراگوئے کے آخری گروپ میچ میں آسٹریلیا کے خلاف حصہ نہیں لے سکیں گے۔ فٹبال کی عالمی تنظیم کے مطابق یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔</p>
<p>یہ واقعہ جمعہ کو پیراگوئے اور ترکی کے درمیان کھیلے گئے میچ میں پیش آیا، جہاں پیراگوئے نے ایک گول سے کامیابی حاصل کی تھی۔ میچ کے پہلے ہاف کے آخری لمحات میں المیرون اور مولدور کے درمیان بحث ہوئی، جس کے دوران المیرون نے اپنا منہ ڈھانپ لیا۔ نئے قوانین کے تحت کھلاڑیوں کو اس طرح منہ چھپانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے یہ خدشہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے الفاظ کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>فٹبال کے قوانین بنانے والے ادارے انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ نے رواں سال اپریل میں فیصلہ کیا تھا کہ اگر کوئی کھلاڑی کسی دوسرے کھلاڑی سے بحث کے دوران اپنا منہ چھپاتا ہے تو اسے ریڈ کارڈ دیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ قانون لازمی نہیں ہے، لیکن مقابلوں کا انعقاد کرنے والی تنظیمیں، جن میں فیفا بھی شامل ہے، اسے نافذ کر سکتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241115286e68c21.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241115286e68c21.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے بھی اس قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ منہ چھپانے کا معاملہ احترام اور کھیل کے اچھے رویے سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے تو اسے بات کرتے وقت اپنا منہ نہیں ڈھانپنا چاہیے۔</p>
<p>یہ قانون ایک ایسے واقعے کے بعد مزید توجہ میں آیا تھا جب چیمپئنز لیگ کے ایک میچ میں بینفیکا کے کھلاڑی گیانلوکا پریستیانی پر الزام لگا تھا کہ انہوں نے ریال میڈرڈ کے ونیسیئس جونیئر کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے اور انہیں چھپانے کی کوشش کی۔ بعد میں یورپی فٹبال حکام نے پریستیانی پر پابندی عائد کی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب، المیرون کو ریڈ کارڈ دکھائے جانے پر تنقید کرنے والے پیراگوئے کے صحافی جارج چیپی ویرا کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔ فیفا نے ان کی ورلڈ کپ ایکریڈیٹیشن منسوخ کر دی، جس کے باعث وہ اب اس ٹورنامنٹ کی کوریج اسٹیڈیم کے اندر یا باہر نہیں کر سکیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506624'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506624"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>صحافی جارج ویرا نے پیراگوئے اور ترکی کے میچ کے دوران براہ راست نشریات میں شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے ریفری اور فیفا کے حکام پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزامات لگائے تھے کہ فیصلے سے پیراگوئے کی ٹیم کو نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>بعد میں صحافی نے اپنے رویے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی قومی ٹیم کے کھلاڑی کو باہر کیے جانے پر جذباتی ہو گئے تھے اور انہوں نے ایسے الفاظ استعمال کیے جو قابل قبول نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کسی قانون یا ریفری کے فیصلے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس بنیاد پر اپنا کنٹرول کھونا درست نہیں۔</p>
<p>ویرا نے بتایا کہ پابندی کے بعد وہ اپنے میڈیا ادارے کے لیے ورلڈ کپ سے متعلق کسی بھی قسم کی کوریج میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ انہوں نے فیفا، اسپانسرز اور اپنے ادارے سے بھی معذرت کی اور اپنی غلطی کی ذمہ داری قبول کی۔</p>
<p>فیفا کی جانب سے صحافی کے خلاف کارروائی پر تاحال کوئی تفصیلی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ فٹبال کی عالمی تنظیم کی جانب سے صحافیوں پر ایسی پابندیاں بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں، تاہم ماضی میں بھی بعض صحافیوں کو فیفا کے معاملات پر تنقید کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506751</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 11:29:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/241124422edab3b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/241124422edab3b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
