<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 01:57:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 01:57:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران تکنیکی مذاکرات آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں دوبارہ شروع ہوں گے: مارکو روبیو</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506775/us-iran-technical-talks-to-resume-in-switzerland-next-week-marco-rubio</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات آئندہ ہفتے 29 یا 30 جون کو سوئٹزر لینڈ میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے، جہاں دونوں ممالک کے ماہرین مختلف تکنیکی امور پر بات چیت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توقع ہے ایران اپنے تمام وعدوں اور معاہدے کی شرائط کی پاسداری کرے گا، اگر ایران معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو کویت سٹی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کا اگلا مرحلہ تکنیکی سطح پر ہوگا، جس میں مختلف ورکنگ گروپس معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے پر کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RapidResponse47/status/2069817244876497102?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RapidResponse47/status/2069817244876497102?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ تکنیکی ورکنگ گروپ آئندہ ہفتے 29 یا 30 جون کو دوبارہ سوئٹزرلینڈ جائے گا، جہاں مذاکرات کا اگلا مرحلہ منعقد ہوگا، جس میں جوہری پروگرام، ایران پر عائد پابندیوں، ان میں ممکنہ نرمی اور دیگر تکنیکی معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔ ان کے مطابق ان مذاکرات میں امریکی محکمہ خارجہ، محکمہ توانائی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ماہرین شریک ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر آئندہ 60 روز کے اندر عمل درآمد شروع کیا جائے گا اور امریکا کو توقع ہے کہ تہران معاہدے کی تمام شرائط اور اپنے تمام وعدوں کی مکمل پاسداری کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو جلد از جلد ایران میں داخل ہونے کی اجازت دی جانی چاہیے کیوں کہ یہ ایران کی جانب سے کیا گیا ایک واضح وعدہ ہے اور اسے اس پر عمل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/4  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506768/president-trump-threatens-to-end-talks-if-toll-tax-is-imposed-on-strait-of-hormuz'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506768"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کرتا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں، جن میں پابندیوں کی بحالی بھی شامل ہو سکتی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو نے کہا کہ اگر ایران امریکا کے ساتھ ایک بہتر معاہدہ چاہتا ہے تو واشنگٹن اس کے لیے تیار ہے لیکن یہ معاہدہ اسی صورت آگے بڑھے گا جب تہران اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) اور معاہدے کی تمام شقوں کی مکمل پاسداری کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور وہاں آزاد جہازرانی امریکا کی اولین ترجیح ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس یا کسی بھی قسم کی فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیوں کہ پوری دنیا ایسے کسی اقدام کی مخالفت کرے گی جب کہ انہیں یقین ہے کہ تمام خلیجی ممالک بھی اس مؤقف کی حمایت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران مسلسل یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے سمندری خدمات کی فیس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے امریکا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ 60 روزہ مذاکراتی مدت کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس، انشورنس چارجز یا دیگر فیس عائد نہیں کی جائے گی، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ یقین دہانی مذاکراتی مدت کے بعد بھی برقرار رہے گی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506758/why-is-lebanon-so-important-to-iran'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506758"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مثبت اثرات عالمی منڈی میں بھی نظر آرہے ہیں اور اسی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بین الاقوامی بحری آمد و رفت مکمل طور پر معمول پر آ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات میں اپنے خلیجی اتحادیوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے دی گئی سیکیورٹی یقین دہانیاں محض زبانی وعدے نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہیں، اسی لیے انہیں خلیجی ممالک کی جانب سے ان یقین دہانیوں پر کسی قسم کا شک یا شبہ محسوس نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ کویت، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے دورے پر ہیں، جہاں وہ ایران سے جاری مذاکرات کے ہر مرحلے پر ان ممالک کو اعتماد میں لے رہے ہیں اور ان کی حمایت حاصل کر رہے ہیں اور اس پورے عمل میں تعاون پر ان کا شکریہ بھی ادا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ امریکا مذاکرات سے متعلق ہر اہم فیصلے پر اپنے خلیجی شراکت داروں سے مشاورت جاری رکھے گا اور ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا جو خطے میں موجود دیرینہ اتحادیوں کی سلامتی کو نقصان پہنچائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506762/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506762"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو کے مطابق خلیجی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں انتہائی واضح، کھلی اور اہم رہیں جب کہ ایران کے میزائل پروگرام سمیت خطے کے سیکیورٹی معاملات پر امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط مضبوط تعلقات قائم ہیں، ان ممالک میں امریکی فوجی موجودگی اور دفاعی اثاثے موجود ہیں، جس کی وجہ سے امریکی سیکیورٹی ضمانتیں صرف بیانات نہیں بلکہ عملی حقیقت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی سے متعلق سوال پر مارکو روبیو نے کہا کہ اسرائیل کے مطابق وہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے راکٹ اور ڈرون حملوں کے باعث موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ لبنان کی حکومت اور مسلح افواج اپنے تمام علاقوں پر زیادہ مؤثر کنٹرول حاصل کریں تاکہ حزب اللہ کا اثر و رسوخ کم ہو اور اسرائیلی فوج کی موجودگی کی ضرورت بھی ختم ہو جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506740/us-senate-joins-house-in-voting-to-halt-iran-war-rebuking-trump'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506740"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ان کے مطابق اسرائیل لبنان کی سرزمین پر کوئی دعویٰ نہیں رکھتا اور جیسے جیسے لبنانی فوج جنوبی علاقوں کا کنٹرول سنبھالے گی، اسرائیلی موجودگی بھی کم ہوتی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ایران-کا-امریکی-وزیر-خارجہ-کے-بیان-پر-رد-عمل" href="#ایران-کا-امریکی-وزیر-خارجہ-کے-بیان-پر-رد-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ایران کا امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر رد عمل&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں موجود مسلح گروہوں، حزب اللہ اور حماس کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ان دعوؤں سے دھوکا نہیں کھائے گا اور مشرق وسطیٰ میں امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکی عسکری مداخلت اور خطے میں اس کی پالیسیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IRIMFA_SPOX/status/2069818144873476375?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IRIMFA_SPOX/status/2069818144873476375?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اسرائیل امریکی حمایت کے ساتھ خطے میں مسلسل جنگیں مسلط کر رہا ہے اور اسے مکمل استثنیٰ حاصل ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل جنگ، تشدد اور دیگر سنگین کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ امریکا کی پالیسیوں نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس مؤقف کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ایران سے منسلک مسلح گروہوں کو خطے میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایک اور سفارتی ذریعے کے مطابق خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے سعودی عرب میں بھی الگ مذاکرات متوقع ہیں، تاہم ان کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی بھی امریکا کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی ایران میں جنگ بندی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے واپس نہیں ہٹے گی اور اس حوالے سے امریکا کی جانب سے بھی کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی ڈرون حملے میں کفر رمان کے قریب ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے جب کہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے دو اہلکاروں کو نشانہ بنایا جو اس کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کے لیے خطرہ تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات آئندہ ہفتے 29 یا 30 جون کو سوئٹزر لینڈ میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے، جہاں دونوں ممالک کے ماہرین مختلف تکنیکی امور پر بات چیت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توقع ہے ایران اپنے تمام وعدوں اور معاہدے کی شرائط کی پاسداری کرے گا، اگر ایران معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں۔</strong></p>
<p>بدھ کو کویت سٹی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کا اگلا مرحلہ تکنیکی سطح پر ہوگا، جس میں مختلف ورکنگ گروپس معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے پر کام کریں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RapidResponse47/status/2069817244876497102?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RapidResponse47/status/2069817244876497102?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ تکنیکی ورکنگ گروپ آئندہ ہفتے 29 یا 30 جون کو دوبارہ سوئٹزرلینڈ جائے گا، جہاں مذاکرات کا اگلا مرحلہ منعقد ہوگا، جس میں جوہری پروگرام، ایران پر عائد پابندیوں، ان میں ممکنہ نرمی اور دیگر تکنیکی معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔ ان کے مطابق ان مذاکرات میں امریکی محکمہ خارجہ، محکمہ توانائی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ماہرین شریک ہوں گے۔</p>
<p>مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر آئندہ 60 روز کے اندر عمل درآمد شروع کیا جائے گا اور امریکا کو توقع ہے کہ تہران معاہدے کی تمام شرائط اور اپنے تمام وعدوں کی مکمل پاسداری کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو جلد از جلد ایران میں داخل ہونے کی اجازت دی جانی چاہیے کیوں کہ یہ ایران کی جانب سے کیا گیا ایک واضح وعدہ ہے اور اسے اس پر عمل کرنا ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/4  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506768/president-trump-threatens-to-end-talks-if-toll-tax-is-imposed-on-strait-of-hormuz'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506768"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کرتا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں، جن میں پابندیوں کی بحالی بھی شامل ہو سکتی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔</p>
<p>مارکو روبیو نے کہا کہ اگر ایران امریکا کے ساتھ ایک بہتر معاہدہ چاہتا ہے تو واشنگٹن اس کے لیے تیار ہے لیکن یہ معاہدہ اسی صورت آگے بڑھے گا جب تہران اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) اور معاہدے کی تمام شقوں کی مکمل پاسداری کرے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور وہاں آزاد جہازرانی امریکا کی اولین ترجیح ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس یا کسی بھی قسم کی فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیوں کہ پوری دنیا ایسے کسی اقدام کی مخالفت کرے گی جب کہ انہیں یقین ہے کہ تمام خلیجی ممالک بھی اس مؤقف کی حمایت کریں گے۔</p>
<p>ایران مسلسل یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے سمندری خدمات کی فیس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
<p>اسے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے امریکا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ 60 روزہ مذاکراتی مدت کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس، انشورنس چارجز یا دیگر فیس عائد نہیں کی جائے گی، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ یقین دہانی مذاکراتی مدت کے بعد بھی برقرار رہے گی یا نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506758/why-is-lebanon-so-important-to-iran'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506758"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مثبت اثرات عالمی منڈی میں بھی نظر آرہے ہیں اور اسی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بین الاقوامی بحری آمد و رفت مکمل طور پر معمول پر آ جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات میں اپنے خلیجی اتحادیوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے دی گئی سیکیورٹی یقین دہانیاں محض زبانی وعدے نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہیں، اسی لیے انہیں خلیجی ممالک کی جانب سے ان یقین دہانیوں پر کسی قسم کا شک یا شبہ محسوس نہیں ہوا۔</p>
<p>امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ کویت، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے دورے پر ہیں، جہاں وہ ایران سے جاری مذاکرات کے ہر مرحلے پر ان ممالک کو اعتماد میں لے رہے ہیں اور ان کی حمایت حاصل کر رہے ہیں اور اس پورے عمل میں تعاون پر ان کا شکریہ بھی ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ امریکا مذاکرات سے متعلق ہر اہم فیصلے پر اپنے خلیجی شراکت داروں سے مشاورت جاری رکھے گا اور ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا جو خطے میں موجود دیرینہ اتحادیوں کی سلامتی کو نقصان پہنچائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506762/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506762"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مارکو روبیو کے مطابق خلیجی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں انتہائی واضح، کھلی اور اہم رہیں جب کہ ایران کے میزائل پروگرام سمیت خطے کے سیکیورٹی معاملات پر امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔</p>
<p>امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط مضبوط تعلقات قائم ہیں، ان ممالک میں امریکی فوجی موجودگی اور دفاعی اثاثے موجود ہیں، جس کی وجہ سے امریکی سیکیورٹی ضمانتیں صرف بیانات نہیں بلکہ عملی حقیقت ہیں۔</p>
<p>لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی سے متعلق سوال پر مارکو روبیو نے کہا کہ اسرائیل کے مطابق وہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے راکٹ اور ڈرون حملوں کے باعث موجود ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ لبنان کی حکومت اور مسلح افواج اپنے تمام علاقوں پر زیادہ مؤثر کنٹرول حاصل کریں تاکہ حزب اللہ کا اثر و رسوخ کم ہو اور اسرائیلی فوج کی موجودگی کی ضرورت بھی ختم ہو جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506740/us-senate-joins-house-in-voting-to-halt-iran-war-rebuking-trump'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506740"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ان کے مطابق اسرائیل لبنان کی سرزمین پر کوئی دعویٰ نہیں رکھتا اور جیسے جیسے لبنانی فوج جنوبی علاقوں کا کنٹرول سنبھالے گی، اسرائیلی موجودگی بھی کم ہوتی جائے گی۔</p>
<h1><a id="ایران-کا-امریکی-وزیر-خارجہ-کے-بیان-پر-رد-عمل" href="#ایران-کا-امریکی-وزیر-خارجہ-کے-بیان-پر-رد-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ایران کا امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر رد عمل</strong></h1>
<p>ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں موجود مسلح گروہوں، حزب اللہ اور حماس کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ان دعوؤں سے دھوکا نہیں کھائے گا اور مشرق وسطیٰ میں امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکی عسکری مداخلت اور خطے میں اس کی پالیسیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IRIMFA_SPOX/status/2069818144873476375?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IRIMFA_SPOX/status/2069818144873476375?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اسرائیل امریکی حمایت کے ساتھ خطے میں مسلسل جنگیں مسلط کر رہا ہے اور اسے مکمل استثنیٰ حاصل ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔</p>
<p>ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل جنگ، تشدد اور دیگر سنگین کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ امریکا کی پالیسیوں نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس مؤقف کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ایران سے منسلک مسلح گروہوں کو خطے میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ قرار دیا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب ایک اور سفارتی ذریعے کے مطابق خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے سعودی عرب میں بھی الگ مذاکرات متوقع ہیں، تاہم ان کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔</p>
<p>ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی بھی امریکا کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی ایران میں جنگ بندی اہم ہے۔</p>
<p>اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے واپس نہیں ہٹے گی اور اس حوالے سے امریکا کی جانب سے بھی کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>ادھر لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی ڈرون حملے میں کفر رمان کے قریب ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے جب کہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے دو اہلکاروں کو نشانہ بنایا جو اس کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کے لیے خطرہ تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506775</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 23:55:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/24223236a29f87d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/24223236a29f87d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
