<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 00:49:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 27 Jun 2026 00:49:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین میں 108 منزلوں پر مشتمل بلند ترین عمارت سے چھوٹا طیارہ ٹکراگیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506813/small-plane-crashes-into-108-story-tallest-building-in-china</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کے دارالحکومت بیجنگ میں واقع 108 منزلوں پر مشتمل بلند ترین عمارت سے ایک چھوٹا طیارہ ٹکرا گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ واقعے کے بعد پولیس نے عمارت کے اطراف کی سڑکیں بند کر دیں اور لوگوں کو تصاویر اور ویڈیوز بنانے سے روک دیا جب کہ چینی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/asia-pacific/beijing-steps-up-police-presence-around-citys-tallest-tower-reuters-witnesses-2026-06-26/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق جمعے کو ایک کار کے حجم کے برابر چھوٹا طیارہ بیجنگ کے مرکزی کاروباری علاقے میں واقع 108 منزلہ سی آئی ٹی آئی سی ٹاور سے ٹکرا گیا، جو سرکاری کمپنی سی آئی ٹی آئی سی گروپ کا ہیڈکوارٹر بھی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2070488991028117795?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/clashreport/status/2070488991028117795?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد عمارت کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی جب کہ متعدد سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کر دی گئیں۔ پولیس اہلکاروں نے راہگیروں کو تصاویر اور ویڈیوز بنانے سے روک دیا جب کہ بعض افراد سے پہلے سے بنائی گئی تصاویر بھی حذف کروا دیں اور انہیں علاقے سے ہٹا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق عمارت کی ایک بلند منزل پر شیشے کے 2 پینل ٹوٹ گئے تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ایک کوریئر نے بتایا کہ شام تقریباً 6 بجے اسے زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی، جس کے بعد وہ فوری طور پر موقع پر پہنچا۔ اس کے مطابق چھوٹا طیارہ عمارت سے ٹکرایا تھا۔ اس نے کہا کہ ”آواز آتش بازی سے بھی زیادہ زور دار تھی۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/thepagetody/status/2070523327635136534?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/thepagetody/status/2070523327635136534?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کوریئر کے مطابق اس نے طیارے کے عمارت میں پھنسے ہونے کی ویڈیو بھی بنائی تھی تاہم پولیس کے خوف سے بعد میں اسے حذف کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور کوریئر نے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ تصاویر دیکھنے کے بعد موقع پر پہنچا، جن میں عمارت کے قریب سڑک پر چھوٹے طیارے کا ملبہ دکھایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی پوسٹس بھی تیزی سے ہٹا دی گئیں جب کہ چینی سوشل میڈیا ایپ &lt;strong&gt;ژیاؤہونگ شو&lt;/strong&gt; پر عمارت کے نام سے کی جانے والی تلاش میں صرف ایک روز پرانی پوسٹس ہی دستیاب تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موقع پر درجنوں پولیس گاڑیاں اور فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیاں موجود تھیں۔ رائٹرز کے صحافیوں کو بھی پولیس نے وہاں سے جانے کا حکم دیا۔ جب صحافیوں نے اس کی وجہ پوچھی تو ایک پولیس اہلکار نے جواب دیا، ”ہم سب جانتے ہیں کیوں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ کی بلدیاتی حکومت نے واقعے پر رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا جب کہ خبر شائع ہونے تک چینی حکام کی جانب سے واقعے کی سرکاری تصدیق یا مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کے دارالحکومت بیجنگ میں واقع 108 منزلوں پر مشتمل بلند ترین عمارت سے ایک چھوٹا طیارہ ٹکرا گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ واقعے کے بعد پولیس نے عمارت کے اطراف کی سڑکیں بند کر دیں اور لوگوں کو تصاویر اور ویڈیوز بنانے سے روک دیا جب کہ چینی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/asia-pacific/beijing-steps-up-police-presence-around-citys-tallest-tower-reuters-witnesses-2026-06-26/">رائٹرز</a> کے مطابق جمعے کو ایک کار کے حجم کے برابر چھوٹا طیارہ بیجنگ کے مرکزی کاروباری علاقے میں واقع 108 منزلہ سی آئی ٹی آئی سی ٹاور سے ٹکرا گیا، جو سرکاری کمپنی سی آئی ٹی آئی سی گروپ کا ہیڈکوارٹر بھی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2070488991028117795?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/clashreport/status/2070488991028117795?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>واقعے کے بعد عمارت کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی جب کہ متعدد سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کر دی گئیں۔ پولیس اہلکاروں نے راہگیروں کو تصاویر اور ویڈیوز بنانے سے روک دیا جب کہ بعض افراد سے پہلے سے بنائی گئی تصاویر بھی حذف کروا دیں اور انہیں علاقے سے ہٹا دیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق عمارت کی ایک بلند منزل پر شیشے کے 2 پینل ٹوٹ گئے تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔</p>
<p>رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ایک کوریئر نے بتایا کہ شام تقریباً 6 بجے اسے زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی، جس کے بعد وہ فوری طور پر موقع پر پہنچا۔ اس کے مطابق چھوٹا طیارہ عمارت سے ٹکرایا تھا۔ اس نے کہا کہ ”آواز آتش بازی سے بھی زیادہ زور دار تھی۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/thepagetody/status/2070523327635136534?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/thepagetody/status/2070523327635136534?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>کوریئر کے مطابق اس نے طیارے کے عمارت میں پھنسے ہونے کی ویڈیو بھی بنائی تھی تاہم پولیس کے خوف سے بعد میں اسے حذف کر دیا۔</p>
<p>ایک اور کوریئر نے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ تصاویر دیکھنے کے بعد موقع پر پہنچا، جن میں عمارت کے قریب سڑک پر چھوٹے طیارے کا ملبہ دکھایا گیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی پوسٹس بھی تیزی سے ہٹا دی گئیں جب کہ چینی سوشل میڈیا ایپ <strong>ژیاؤہونگ شو</strong> پر عمارت کے نام سے کی جانے والی تلاش میں صرف ایک روز پرانی پوسٹس ہی دستیاب تھیں۔</p>
<p>موقع پر درجنوں پولیس گاڑیاں اور فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیاں موجود تھیں۔ رائٹرز کے صحافیوں کو بھی پولیس نے وہاں سے جانے کا حکم دیا۔ جب صحافیوں نے اس کی وجہ پوچھی تو ایک پولیس اہلکار نے جواب دیا، ”ہم سب جانتے ہیں کیوں۔“</p>
<p>بیجنگ کی بلدیاتی حکومت نے واقعے پر رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا جب کہ خبر شائع ہونے تک چینی حکام کی جانب سے واقعے کی سرکاری تصدیق یا مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506813</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Jun 2026 20:55:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/262055558ca6d80.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/262055558ca6d80.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
