<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 15:00:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 28 Jun 2026 15:00:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عراق میں کرپٹ سیاست دانوں کی گرفتاریاں، بغداد میدانِ جنگ بن گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506868/iraqi-forces-raid-baghdads-green-zone-amid-arrest-reports</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عراق کے دارالحکومت بغداد میں اتوار کی صبح اس وقت غیرمعمولی سیکیورٹی صورتحال پیدا ہوگئی جب فوج اور انسدادِ دہشت گردی فورس نے انتہائی حساس گرین زون میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران متعدد سیاست دانوں کو مالی بدعنوانی کے مقدمات میں گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم حکام نے تاحال کسی نام یا سرکاری بیان کی تصدیق نہیں کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.arabnews.com/node/2648845/middle-east"&gt;عرب نیوز&lt;/a&gt; کی رپورٹ کے مطابق بغداد کے انتہائی محفوظ گرین زون میں اتوار کی صبح عراقی سیکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔ ایک سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق کارروائی کا ہدف کئی سیاست دان تھے جن کے خلاف مالی بدعنوانی کے مقدمات میں عدالتی احکامات جاری کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین زون بغداد کا سب سے محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے، جہاں امریکی سفارت خانہ، دیگر سفارتی مشنز، بین الاقوامی اداروں کے دفاتر، سرکاری عمارتیں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کی رہائش گاہیں واقع ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RT_com/status/2071030771792703685?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RT_com/status/2071030771792703685?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مقامی ٹیلی گرام چینلز پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹینکوں اور دیگر بھاری فوجی گاڑیوں کے ہمراہ سیکیورٹی اہلکار گرین زون میں موجود ہیں۔ بعض ویڈیوز میں فورسز کو رہائشی کمپاؤنڈز اور گھروں کے اندر کارروائیاں کرتے بھی دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سیکیورٹی عہدیدار نے، شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ کارروائی عدالتی احکامات کی روشنی میں مالی بدعنوانی کے الزامات پر کی گئی۔ ان کے مطابق آپریشن میں انسدادِ دہشت گردی فورس اور عراقی فوج نے مشترکہ حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے گرفتار ہونے والی شخصیات کے نام یا تعداد سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کارروائیوں کا مقصد عراق کی اعلیٰ سیاسی شخصیات کو گرفتار کرنا تھا، تاہم زیرِ حراست افراد کی شناخت کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RT_com/status/2071056320409784495/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RT_com/status/2071056320409784495/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ عراق کے نئے وزیراعظم علی الزیدی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک میں کئی دہائیوں سے جاری بدعنوانی اور انتظامی بدحالی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا، اور حالیہ کارروائی کو اسی مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عراق کے دارالحکومت بغداد میں اتوار کی صبح اس وقت غیرمعمولی سیکیورٹی صورتحال پیدا ہوگئی جب فوج اور انسدادِ دہشت گردی فورس نے انتہائی حساس گرین زون میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران متعدد سیاست دانوں کو مالی بدعنوانی کے مقدمات میں گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم حکام نے تاحال کسی نام یا سرکاری بیان کی تصدیق نہیں کی۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.arabnews.com/node/2648845/middle-east">عرب نیوز</a> کی رپورٹ کے مطابق بغداد کے انتہائی محفوظ گرین زون میں اتوار کی صبح عراقی سیکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔ ایک سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق کارروائی کا ہدف کئی سیاست دان تھے جن کے خلاف مالی بدعنوانی کے مقدمات میں عدالتی احکامات جاری کیے گئے تھے۔</p>
<p>گرین زون بغداد کا سب سے محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے، جہاں امریکی سفارت خانہ، دیگر سفارتی مشنز، بین الاقوامی اداروں کے دفاتر، سرکاری عمارتیں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کی رہائش گاہیں واقع ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RT_com/status/2071030771792703685?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RT_com/status/2071030771792703685?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مقامی ٹیلی گرام چینلز پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹینکوں اور دیگر بھاری فوجی گاڑیوں کے ہمراہ سیکیورٹی اہلکار گرین زون میں موجود ہیں۔ بعض ویڈیوز میں فورسز کو رہائشی کمپاؤنڈز اور گھروں کے اندر کارروائیاں کرتے بھی دکھایا گیا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سیکیورٹی عہدیدار نے، شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ کارروائی عدالتی احکامات کی روشنی میں مالی بدعنوانی کے الزامات پر کی گئی۔ ان کے مطابق آپریشن میں انسدادِ دہشت گردی فورس اور عراقی فوج نے مشترکہ حصہ لیا۔</p>
<p>عہدیدار نے گرفتار ہونے والی شخصیات کے نام یا تعداد سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔</p>
<p>مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کارروائیوں کا مقصد عراق کی اعلیٰ سیاسی شخصیات کو گرفتار کرنا تھا، تاہم زیرِ حراست افراد کی شناخت کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RT_com/status/2071056320409784495/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RT_com/status/2071056320409784495/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ عراق کے نئے وزیراعظم علی الزیدی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک میں کئی دہائیوں سے جاری بدعنوانی اور انتظامی بدحالی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا، اور حالیہ کارروائی کو اسی مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506868</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 12:14:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2812034612b5ff6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2812034612b5ff6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
