<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Sports</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 00:20:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 29 Jun 2026 00:20:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیوزی لیند کے خلاف جاری میچ کے دوران انگلش کرکٹر نے اچانک ریٹائرمنٹ لے لی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506884/english-cricketer-suddenly-retires-during-the-ongoing-match-against-new-zealand</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس نے نیوزی لینڈ کے خلاف جاری تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے، ان کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ 15 سالہ بین الاقوامی کیریئر اور بطور ٹیسٹ کپتان 4 سالہ دور اختتام پذیر ہو جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین اسٹوکس نے اتوار کی صبح ٹرینٹ برج نوٹنگھم میں جاری تیسرے ٹیسٹ کے چوتھے روز کھیل شروع ہونے سے قبل اپنے ساتھی کھلاڑیوں اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/englandcricket/status/2071238453598035972?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/englandcricket/status/2071238453598035972?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق ڈریسنگ روم میں ساتھیوں سے گفتگو کے دوران بین اسٹوکس جذباتی ہو گئے اور ٹیم سے کہا کہ وہ میچ کے باقی دو روز میں اپنی تمام تر صلاحیتیں میدان میں جھونک دیں۔ ان کے اعلان پر کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف نے کھڑے ہو کر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین اسٹوکس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ریٹائرمنٹ کی وجوہات پر بعد میں بات کی جا سکتی ہے تاہم ان کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ گزشتہ ہفتے اوول ٹیسٹ میں نظم و ضبط سے متعلق معاملے کے باعث ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔ بعد ازاں تحقیقات مکمل ہونے پر انہیں کسی سنگین خلاف ورزی سے بری قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/englandcricket/status/2071255306953248925?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/englandcricket/status/2071255306953248925?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے نوٹنگھم ٹیسٹ کے چوتھے روز چائے کے وقفے سے کچھ دیر قبل اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ کا باضابطہ اعلان کیا۔ اس دوران اسٹوکس میدان میں طویل اسپیل کرانے کے بعد جب دوبارہ بولنگ کے لیے آئے تو شائقین نے بھرپور تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا جب کہ انہوں نے اپنی اگلی ہی گیند پر ایک وکٹ بھی حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کی جا رہی ہے۔ ٹیم حالیہ عرصے میں اپنی آخری 9 ٹیسٹ میچوں میں صرف 2 کامیابیاں حاصل کر سکی ہے جب کہ نیوزی لینڈ کے خلاف جاری فیصلہ کن ٹیسٹ میں بھی انگلینڈ کو میچ بچانے کے لیے چوتھی اننگز میں 300 سے زائد رنز کا ہدف درپیش ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/cricinfo/status/2071257601019617466?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/cricinfo/status/2071257601019617466?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ حالیہ برسوں میں بین اسٹوکس کی بیٹنگ کارکردگی میں کمی دیکھی گئی تاہم گزشتہ ایک سال کے دوران وہ انگلینڈ کے سب سے مؤثر بولرز میں شمار ہوتے رہے اور ان کی عدم موجودگی گزشتہ ٹیسٹ میں ٹیم نے شدت سے محسوس کی۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔ جو روٹ نے حالیہ عرصے میں عبوری طور پر قیادت کی ذمہ داری نبھائی جب کہ نائب کپتان ہیری بروک بھی ممکنہ امیدواروں میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی بی کی جانب سے جاری بیان میں بین اسٹوکس کا کوئی بیان شامل نہیں کیا گیا تاہم بورڈ کے چیئرمین رچرڈ تھامسن اور چیف ایگزیکٹو رچرڈ گولڈ نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں انگلینڈ کرکٹ کا ایک نمایاں کھلاڑی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/cricinfo/status/2071261255059591640?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/cricinfo/status/2071261255059591640?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کے لیے بین اسٹوکس کا 15 سالہ بین الاقوامی کریئر اور 4 سالہ ٹیسٹ کپتانی کا دور اختتام پذیر ہونے جارہا ہے۔ انہوں نے 2011 میں انگلینڈ کی جانب سے پہلا ٹی ٹوئنٹی کھیلا  تھا جب کہ  دسمبر 2013 میں ایڈیلیڈ میں ایشز سیریز کے دوران ان کا ٹیسٹ ڈیبیو ہوا  اور  وہ اپریل 2022 سے انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کے لیے بین اسٹوکس نے 122 ٹیسٹ میچز میں 7 ہزار 228 رنز بنائے اور 246 وکٹیں حاصل کیں۔ 114 ون ڈے انٹرنیشنل میں انہون نے 3 ہزار 463 رنز بنائے اور 74 وکٹیں حاصل کیں جب کہ 43 ٹی 20 میچز میں انہوں نے 585 رنز بنائے اور 26 وکٹیں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مائیکل-وان-کا-بین-اسٹوکس-کی-ریٹائرمنٹ-پر-ردعمل" href="#مائیکل-وان-کا-بین-اسٹوکس-کی-ریٹائرمنٹ-پر-ردعمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مائیکل وان کا بین اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ پر ردعمل&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے بین اسٹوکس کی بین الاقوامی کرکٹ سے اچانک ریٹائرمنٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اس فیصلے کے پیچھے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی اور اعتماد کا فقدان ایک اہم وجہ ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ریٹائرمنٹ کی واحد وجہ نہیں ہو سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کے پروگرام &lt;em&gt;ٹیسٹ میچ اسپیشل&lt;/em&gt; میں گفتگو کرتے ہوئے مائیکل وان نے کہا کہ انگلینڈ کے کپتان کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود انتظامیہ، کوچنگ اسٹاف اور کرکٹ بورڈ پر مکمل اعتماد رکھے لیکن ان کے خیال میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس اعتماد میں کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ یہی واحد وجہ ہے جس کی بنیاد پر بین اسٹوکس نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا تاہم حالیہ عرصے میں پیش آنے والے مختلف واقعات نے اس فیصلے پر اثر ضرور ڈالا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکل وان کے مطابق گزشتہ موسم سرما انگلینڈ کی ٹیم کے لیے مشکل ثابت ہوا جب کہ میدان کے اندر اور باہر بھی کئی واقعات پیش آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ لارڈز ٹیسٹ سے قبل ہی بین اسٹوکس مکمل طور پر اپنی بہترین فارم میں دکھائی نہیں دے رہے تھے، اس کے بعد نائٹ کلب سے متعلق واقعہ پیش آیا اور ان کے خیال میں اسی دوران ای سی بی اور اسٹوکس کے درمیان اختلافات بھی پیدا ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جب کسی کھلاڑی کے اندر موجود جذبہ اور لڑنے کی خواہش کم ہونے لگے تو اس کے پیچھے اکثر ماحول اور اعتماد کا بھی کردار ہوتا ہے۔ ان کے بقول ممکن ہے کہ 35 سالہ بین اسٹوکس نے محسوس کیا ہو کہ اب ان کے اندر انگلینڈ کی قیادت جاری رکھنے کا وہی جذبہ باقی نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکل وان نے کہا کہ وہ مستقبل میں بین اسٹوکس کی جانب سے ریٹائرمنٹ کی وجوہات جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ حالیہ ٹیسٹ میچ میں انہوں نے بالخصوص بولنگ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، پہلی اننگز میں چار وکٹیں حاصل کیں، طویل اسپیل کرایا اور بیٹنگ میں بھی بہتر نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق انگلش کرکٹر نے امید ظاہر کی کہ ای سی بی کے ساتھ اعتماد میں کمی بین اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ کی بنیادی وجہ نہ ہو، تاہم ان کے بقول حالیہ واقعات کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس نے نیوزی لینڈ کے خلاف جاری تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے، ان کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ 15 سالہ بین الاقوامی کیریئر اور بطور ٹیسٹ کپتان 4 سالہ دور اختتام پذیر ہو جائے گا۔</strong></p>
<p>بین اسٹوکس نے اتوار کی صبح ٹرینٹ برج نوٹنگھم میں جاری تیسرے ٹیسٹ کے چوتھے روز کھیل شروع ہونے سے قبل اپنے ساتھی کھلاڑیوں اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/englandcricket/status/2071238453598035972?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/englandcricket/status/2071238453598035972?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹس کے مطابق ڈریسنگ روم میں ساتھیوں سے گفتگو کے دوران بین اسٹوکس جذباتی ہو گئے اور ٹیم سے کہا کہ وہ میچ کے باقی دو روز میں اپنی تمام تر صلاحیتیں میدان میں جھونک دیں۔ ان کے اعلان پر کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف نے کھڑے ہو کر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔</p>
<p>بین اسٹوکس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ریٹائرمنٹ کی وجوہات پر بعد میں بات کی جا سکتی ہے تاہم ان کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ گزشتہ ہفتے اوول ٹیسٹ میں نظم و ضبط سے متعلق معاملے کے باعث ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔ بعد ازاں تحقیقات مکمل ہونے پر انہیں کسی سنگین خلاف ورزی سے بری قرار دیا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/englandcricket/status/2071255306953248925?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/englandcricket/status/2071255306953248925?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے نوٹنگھم ٹیسٹ کے چوتھے روز چائے کے وقفے سے کچھ دیر قبل اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ کا باضابطہ اعلان کیا۔ اس دوران اسٹوکس میدان میں طویل اسپیل کرانے کے بعد جب دوبارہ بولنگ کے لیے آئے تو شائقین نے بھرپور تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا جب کہ انہوں نے اپنی اگلی ہی گیند پر ایک وکٹ بھی حاصل کی۔</p>
<p>بین اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کی جا رہی ہے۔ ٹیم حالیہ عرصے میں اپنی آخری 9 ٹیسٹ میچوں میں صرف 2 کامیابیاں حاصل کر سکی ہے جب کہ نیوزی لینڈ کے خلاف جاری فیصلہ کن ٹیسٹ میں بھی انگلینڈ کو میچ بچانے کے لیے چوتھی اننگز میں 300 سے زائد رنز کا ہدف درپیش ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/cricinfo/status/2071257601019617466?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/cricinfo/status/2071257601019617466?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ حالیہ برسوں میں بین اسٹوکس کی بیٹنگ کارکردگی میں کمی دیکھی گئی تاہم گزشتہ ایک سال کے دوران وہ انگلینڈ کے سب سے مؤثر بولرز میں شمار ہوتے رہے اور ان کی عدم موجودگی گزشتہ ٹیسٹ میں ٹیم نے شدت سے محسوس کی۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔ جو روٹ نے حالیہ عرصے میں عبوری طور پر قیادت کی ذمہ داری نبھائی جب کہ نائب کپتان ہیری بروک بھی ممکنہ امیدواروں میں شامل ہیں۔</p>
<p>ای سی بی کی جانب سے جاری بیان میں بین اسٹوکس کا کوئی بیان شامل نہیں کیا گیا تاہم بورڈ کے چیئرمین رچرڈ تھامسن اور چیف ایگزیکٹو رچرڈ گولڈ نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں انگلینڈ کرکٹ کا ایک نمایاں کھلاڑی قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/cricinfo/status/2071261255059591640?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/cricinfo/status/2071261255059591640?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انگلینڈ کے لیے بین اسٹوکس کا 15 سالہ بین الاقوامی کریئر اور 4 سالہ ٹیسٹ کپتانی کا دور اختتام پذیر ہونے جارہا ہے۔ انہوں نے 2011 میں انگلینڈ کی جانب سے پہلا ٹی ٹوئنٹی کھیلا  تھا جب کہ  دسمبر 2013 میں ایڈیلیڈ میں ایشز سیریز کے دوران ان کا ٹیسٹ ڈیبیو ہوا  اور  وہ اپریل 2022 سے انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔</p>
<p>انگلینڈ کے لیے بین اسٹوکس نے 122 ٹیسٹ میچز میں 7 ہزار 228 رنز بنائے اور 246 وکٹیں حاصل کیں۔ 114 ون ڈے انٹرنیشنل میں انہون نے 3 ہزار 463 رنز بنائے اور 74 وکٹیں حاصل کیں جب کہ 43 ٹی 20 میچز میں انہوں نے 585 رنز بنائے اور 26 وکٹیں حاصل کیں۔</p>
<h1><a id="مائیکل-وان-کا-بین-اسٹوکس-کی-ریٹائرمنٹ-پر-ردعمل" href="#مائیکل-وان-کا-بین-اسٹوکس-کی-ریٹائرمنٹ-پر-ردعمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مائیکل وان کا بین اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ پر ردعمل</strong></h1>
<p>دوسری جانب انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے بین اسٹوکس کی بین الاقوامی کرکٹ سے اچانک ریٹائرمنٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اس فیصلے کے پیچھے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی اور اعتماد کا فقدان ایک اہم وجہ ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ریٹائرمنٹ کی واحد وجہ نہیں ہو سکتی۔</p>
<p>بی بی سی کے پروگرام <em>ٹیسٹ میچ اسپیشل</em> میں گفتگو کرتے ہوئے مائیکل وان نے کہا کہ انگلینڈ کے کپتان کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود انتظامیہ، کوچنگ اسٹاف اور کرکٹ بورڈ پر مکمل اعتماد رکھے لیکن ان کے خیال میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس اعتماد میں کمی آئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ یہی واحد وجہ ہے جس کی بنیاد پر بین اسٹوکس نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا تاہم حالیہ عرصے میں پیش آنے والے مختلف واقعات نے اس فیصلے پر اثر ضرور ڈالا ہوگا۔</p>
<p>مائیکل وان کے مطابق گزشتہ موسم سرما انگلینڈ کی ٹیم کے لیے مشکل ثابت ہوا جب کہ میدان کے اندر اور باہر بھی کئی واقعات پیش آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ لارڈز ٹیسٹ سے قبل ہی بین اسٹوکس مکمل طور پر اپنی بہترین فارم میں دکھائی نہیں دے رہے تھے، اس کے بعد نائٹ کلب سے متعلق واقعہ پیش آیا اور ان کے خیال میں اسی دوران ای سی بی اور اسٹوکس کے درمیان اختلافات بھی پیدا ہوئے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ جب کسی کھلاڑی کے اندر موجود جذبہ اور لڑنے کی خواہش کم ہونے لگے تو اس کے پیچھے اکثر ماحول اور اعتماد کا بھی کردار ہوتا ہے۔ ان کے بقول ممکن ہے کہ 35 سالہ بین اسٹوکس نے محسوس کیا ہو کہ اب ان کے اندر انگلینڈ کی قیادت جاری رکھنے کا وہی جذبہ باقی نہیں رہا۔</p>
<p>مائیکل وان نے کہا کہ وہ مستقبل میں بین اسٹوکس کی جانب سے ریٹائرمنٹ کی وجوہات جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ حالیہ ٹیسٹ میچ میں انہوں نے بالخصوص بولنگ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، پہلی اننگز میں چار وکٹیں حاصل کیں، طویل اسپیل کرایا اور بیٹنگ میں بھی بہتر نظر آئے۔</p>
<p>سابق انگلش کرکٹر نے امید ظاہر کی کہ ای سی بی کے ساتھ اعتماد میں کمی بین اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ کی بنیادی وجہ نہ ہو، تاہم ان کے بقول حالیہ واقعات کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506884</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 21:04:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/28205751447d3c8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/28205751447d3c8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
