<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 20:20:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 29 Jun 2026 20:20:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کی درخواست پر کل دوحہ میں مذاکرات ہوں گے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506917/iran-requested-doha-talks-trump-claim</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی درخواست پر دونوں ممالک کے درمیان منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات ہوں گے، جب کہ وائٹ ہاؤس نے بھی امریکی نمائندوں کی دوحہ روانگی کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کے ساتھ براہ راست مذاکرات یا تکنیکی ٹیموں کی ملاقات کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان مذاکرات کی درخواست ایران کی جانب سے کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کیا، تاہم ایران کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/2917085955cf20d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/2917085955cf20d.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے ایک اور بیان میں کہا کہ عالمی منڈی میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 69 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جو ان کے بقول ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنے کے اقدامات شروع ہونے سے پہلے کی سطح سے بھی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک اور پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ان کی مقبولیت کی شرح اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/291710307d68e3d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/291710307d68e3d.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صدرٹرمپ کے بیان کے بعد وائٹ ہاؤس نے بھی دوحہ میں مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر منگل کو ایرانی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/4qucar?update=4714388"&gt;الجزیرہ&lt;/a&gt;‘ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر بات چیت کے سلسلے میں دونوں امریکی نمائندے قطر جائیں گے، جب کہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے موقع پر تکنیکی مذاکرات بھی ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/mediators-set-up-de-escalation-channels-ahead-us-iran-talks-source-says-2026-06-29/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt;‘ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے میں دوحہ میں تکنیکی مذاکرات متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ثالثوں نے کسی بھی ممکنہ فوجی یا سیکیورٹی واقعے کی صورت میں کشیدگی کم کرنے کے لیے خصوصی رابطہ نظام بھی قائم کیا ہے تاکہ جنگ بندی برقرار رکھی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’رائٹرز‘ کے مطابق ایک سینئر ایرانی ذرائع نے بھی دوحہ میں ممکنہ ملاقات کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی صورت حال اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر توجہ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506890/iran-and-us-agree-to-halt-attacks-and-renew-talks-us-official-says'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506890"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران نے دوحہ میں امریکا کے ساتھ تکنیکی مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://en.irna.ir/news/86196089/Iran-says-no-technical-talks-with-US-planned-in-Doha-this-week"&gt;ارنا&lt;/a&gt;‘ کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ اس ہفتے کسی تکنیکی ورکنگ گروپ کے اجلاس کا شیڈول طے نہیں ہوا اور دوحہ میں ایسے مذاکرات سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس درست نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاظم غریب آبادی نے کہا کہ تکنیکی بات چیت کا پہلا دور اس وقت ہوگا جب ضروری شرائط پوری ہو جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ثالثی کرنے والے ممالک کے ذریعے مشاورت معمول کے مطابق جاری ہے اور مختلف امور پر رابطے برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے 17 جون کو 14 نکاتی عبوری &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30506584/iran-us-deal-sanctions-lift-economic-package"&gt;مفاہمتی یادداشت&lt;/a&gt; پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک نے چار ماہ سے جاری کشیدگی ختم کرنے، جنگ بندی برقرار رکھنے اور آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط شدہ دستاویز سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے تاریخی پیش رفت قرار دیا تھا۔ معاہدے میں ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی سمیت متعدد اہم شقیں شامل تھیں اور اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے دستخط کیے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506674/frozen-assets-released-oil-sales-permitted-what-happened-in-the-first-round-of-us-iran-talks'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506674"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے پہلے مرحلے کے بعد پاکستان اور قطر نے مشترکہ بیان جاری کیا تھا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے تحت بات چیت کا پہلا دور کامیابی سے مکمل ہوا، جب کہ ’لیک لوسرن سمٹ‘ کے نام سے ہونے والے اجلاس میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے حل کے لیے متعدد امور پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے تقریباً 20 فی صد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی بحری راستے سے ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث گزشتہ ہفتے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، تاہم حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد قیمتیں دوبارہ کم ہو کر تقریباً 69 سے 72 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ عبوری معاہدے کے بعد قطر میں منجمد ایران کے 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے ابتدائی 6 ارب ڈالر جاری کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ رقم دو مرحلوں میں ایران منتقل کی جائے گی، جب کہ انہوں نے مفاہمتی یادداشت کو ایرانی عوام کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506909/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506909"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایک امریکی عہدیدار نے بھی ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ دونوں ممالک نے جنگی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا ہے اور مفاہمتی یادداشت کے مختلف نکات پر تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ایران نے اتوار کو کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، جب کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت نتائج کی دھمکی بھی دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عبوری معاہدے کا مقصد کئی ماہ سے جاری فوجی کشیدگی کم کرنا اور جامع مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ تاہم جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور خطے کی سیکیورٹی سمیت متعدد اہم معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جس کے باعث دوحہ میں ممکنہ مذاکرات پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی درخواست پر دونوں ممالک کے درمیان منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات ہوں گے، جب کہ وائٹ ہاؤس نے بھی امریکی نمائندوں کی دوحہ روانگی کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کے ساتھ براہ راست مذاکرات یا تکنیکی ٹیموں کی ملاقات کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان مذاکرات کی درخواست ایران کی جانب سے کی گئی تھی۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کیا، تاہم ایران کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/2917085955cf20d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/2917085955cf20d.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ٹرمپ نے اپنے ایک اور بیان میں کہا کہ عالمی منڈی میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 69 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جو ان کے بقول ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنے کے اقدامات شروع ہونے سے پہلے کی سطح سے بھی کم ہے۔</p>
<p>انہوں نے ایک اور پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ان کی مقبولیت کی شرح اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/291710307d68e3d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/291710307d68e3d.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>صدرٹرمپ کے بیان کے بعد وائٹ ہاؤس نے بھی دوحہ میں مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر منگل کو ایرانی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔</p>
<p>’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/4qucar?update=4714388">الجزیرہ</a>‘ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر بات چیت کے سلسلے میں دونوں امریکی نمائندے قطر جائیں گے، جب کہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے موقع پر تکنیکی مذاکرات بھی ہوں گے۔</p>
<p>اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/mediators-set-up-de-escalation-channels-ahead-us-iran-talks-source-says-2026-06-29/">رائٹرز</a>‘ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے میں دوحہ میں تکنیکی مذاکرات متوقع ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ثالثوں نے کسی بھی ممکنہ فوجی یا سیکیورٹی واقعے کی صورت میں کشیدگی کم کرنے کے لیے خصوصی رابطہ نظام بھی قائم کیا ہے تاکہ جنگ بندی برقرار رکھی جا سکے۔</p>
<p>’رائٹرز‘ کے مطابق ایک سینئر ایرانی ذرائع نے بھی دوحہ میں ممکنہ ملاقات کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی صورت حال اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر توجہ دی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506890/iran-and-us-agree-to-halt-attacks-and-renew-talks-us-official-says'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506890"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب ایران نے دوحہ میں امریکا کے ساتھ تکنیکی مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://en.irna.ir/news/86196089/Iran-says-no-technical-talks-with-US-planned-in-Doha-this-week">ارنا</a>‘ کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ اس ہفتے کسی تکنیکی ورکنگ گروپ کے اجلاس کا شیڈول طے نہیں ہوا اور دوحہ میں ایسے مذاکرات سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس درست نہیں ہیں۔</p>
<p>کاظم غریب آبادی نے کہا کہ تکنیکی بات چیت کا پہلا دور اس وقت ہوگا جب ضروری شرائط پوری ہو جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ثالثی کرنے والے ممالک کے ذریعے مشاورت معمول کے مطابق جاری ہے اور مختلف امور پر رابطے برقرار ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے 17 جون کو 14 نکاتی عبوری <a href="https://www.aaj.tv/news/30506584/iran-us-deal-sanctions-lift-economic-package">مفاہمتی یادداشت</a> پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک نے چار ماہ سے جاری کشیدگی ختم کرنے، جنگ بندی برقرار رکھنے اور آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>معاہدے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط شدہ دستاویز سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے تاریخی پیش رفت قرار دیا تھا۔ معاہدے میں ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی سمیت متعدد اہم شقیں شامل تھیں اور اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے دستخط کیے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506674/frozen-assets-released-oil-sales-permitted-what-happened-in-the-first-round-of-us-iran-talks'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506674"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بعدازاں سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے پہلے مرحلے کے بعد پاکستان اور قطر نے مشترکہ بیان جاری کیا تھا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے تحت بات چیت کا پہلا دور کامیابی سے مکمل ہوا، جب کہ ’لیک لوسرن سمٹ‘ کے نام سے ہونے والے اجلاس میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے حل کے لیے متعدد امور پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>دنیا کے تقریباً 20 فی صد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی بحری راستے سے ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث گزشتہ ہفتے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، تاہم حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد قیمتیں دوبارہ کم ہو کر تقریباً 69 سے 72 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ عبوری معاہدے کے بعد قطر میں منجمد ایران کے 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے ابتدائی 6 ارب ڈالر جاری کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ رقم دو مرحلوں میں ایران منتقل کی جائے گی، جب کہ انہوں نے مفاہمتی یادداشت کو ایرانی عوام کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506909/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506909"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ادھر ایک امریکی عہدیدار نے بھی ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ دونوں ممالک نے جنگی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا ہے اور مفاہمتی یادداشت کے مختلف نکات پر تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ایران نے اتوار کو کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، جب کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت نتائج کی دھمکی بھی دی تھی۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عبوری معاہدے کا مقصد کئی ماہ سے جاری فوجی کشیدگی کم کرنا اور جامع مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ تاہم جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور خطے کی سیکیورٹی سمیت متعدد اہم معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جس کے باعث دوحہ میں ممکنہ مذاکرات پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506917</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 18:36:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/291715418c509ec.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/291715418c509ec.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
