<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 11:12:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 30 Jun 2026 11:12:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جرمنی: بچوں کی دیکھ بھال کے مرکز پر اندھا دھند فائرنگ؛ چھ افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506927/six-killed-in-shooting-at-mother-and-child-shelter-in-stade-germany</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جرمنی کے شہر اسٹیڈ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ماؤں اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے ایک سرکاری مرکز میں فائرنگ کر کے چھ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ دردناک واقعہ ایک بچی کی تحویل کے خاندانی جھگڑے کی وجہ سے پیش آیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق، مارے جانے والے تمام افراد اس مرکز کے ملازمین تھے جن میں چار خواتین اور دو مرد شامل ہیں، جبکہ اس حملے میں کئی دوسرے لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچ افراد مرکز کے اندر ہی دم توڑ گئے تھے جبکہ چھٹے شخص نے ہسپتال جا کر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/30083545693b7df.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/30083545693b7df.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم، واقعے کے وقت دفتر میں موجود تین ماہ کی ننھی بچی اور اس کی ماں بالکل محفوظ رہیں اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص سمیت تین لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے اور اب علاقے میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبے کی وزیرِ داخلہ ڈینیئلا بہرنز نے رات گئے صحافیوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ فائرنگ خاندانی تنازع کی بنا پر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ انتہائی بے رحمی سے کیا گیا قتل کا ایک ایسا واقعہ ہے جس کے پیچھے کوئی سیاسی یا کاروباری مقصد نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/30083556a873be7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/30083556a873be7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مقامی پولیس کے مطابق فائرنگ کی پہلی اطلاع دوپہر کے وقت ملی جس کے بعد پولیس نے لوگوں کو اس علاقے میں جانے سے روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوئنے برگ کی پولیس چیف کیتھرین شول نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والا پینتالیس سالہ شخص ترک نژاد ہے جو جرمنی میں ہی پیدا ہوا اور ہینوور میں رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واقعے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس شخص کا پیر کے دن اس مرکز میں اپنی بیٹی کی تحویل کے معاملے پر بات چیت کے لیے بہت سے مقتولین کے ساتھ ایک اجلاس طے تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/300836024357b1c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/300836024357b1c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس چیف نے مزید بتایا کہ یہ شخص پہلے بھی دھمکیاں دینے کے حوالے سے پولیس کے ریکارڈ میں تھا لیکن اسے کبھی بہت زیادہ پرتشدد انسان نہیں سمجھا جاتا تھا، اور اس کے پاس اسلحے کا لائسنس بھی نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد یہ شخص ایک خاتون کے ساتھ گاڑی میں فرار ہو رہا تھا کہ پولیس نے ناکہ بندی کر کے اسے پکڑ لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/300836128c625b9.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/300836128c625b9.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک عینی شاہد نے بتایا کہ پولیس نے گاڑی کو رکنے کا کہا اور پھر اس کے ٹائر پر فائرنگ کر دی، جس کے بعد پولیس والوں نے انہیں سڑک پر لٹا کر گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کے بعد علاقے میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا اور پاس ہی موجود اسکول کے بچوں کو ان کے والدین نے اپنے گھروں کو منتقل کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جرمنی کے شہر اسٹیڈ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ماؤں اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے ایک سرکاری مرکز میں فائرنگ کر کے چھ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ دردناک واقعہ ایک بچی کی تحویل کے خاندانی جھگڑے کی وجہ سے پیش آیا۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق، مارے جانے والے تمام افراد اس مرکز کے ملازمین تھے جن میں چار خواتین اور دو مرد شامل ہیں، جبکہ اس حملے میں کئی دوسرے لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔</p>
<p>پانچ افراد مرکز کے اندر ہی دم توڑ گئے تھے جبکہ چھٹے شخص نے ہسپتال جا کر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/30083545693b7df.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/30083545693b7df.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تاہم، واقعے کے وقت دفتر میں موجود تین ماہ کی ننھی بچی اور اس کی ماں بالکل محفوظ رہیں اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔</p>
<p>پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص سمیت تین لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے اور اب علاقے میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔</p>
<p>صوبے کی وزیرِ داخلہ ڈینیئلا بہرنز نے رات گئے صحافیوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ فائرنگ خاندانی تنازع کی بنا پر کی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ انتہائی بے رحمی سے کیا گیا قتل کا ایک ایسا واقعہ ہے جس کے پیچھے کوئی سیاسی یا کاروباری مقصد نہیں تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/30083556a873be7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/30083556a873be7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مقامی پولیس کے مطابق فائرنگ کی پہلی اطلاع دوپہر کے وقت ملی جس کے بعد پولیس نے لوگوں کو اس علاقے میں جانے سے روک دیا۔</p>
<p>لوئنے برگ کی پولیس چیف کیتھرین شول نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والا پینتالیس سالہ شخص ترک نژاد ہے جو جرمنی میں ہی پیدا ہوا اور ہینوور میں رہتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے واقعے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس شخص کا پیر کے دن اس مرکز میں اپنی بیٹی کی تحویل کے معاملے پر بات چیت کے لیے بہت سے مقتولین کے ساتھ ایک اجلاس طے تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/300836024357b1c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/300836024357b1c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>پولیس چیف نے مزید بتایا کہ یہ شخص پہلے بھی دھمکیاں دینے کے حوالے سے پولیس کے ریکارڈ میں تھا لیکن اسے کبھی بہت زیادہ پرتشدد انسان نہیں سمجھا جاتا تھا، اور اس کے پاس اسلحے کا لائسنس بھی نہیں تھا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد یہ شخص ایک خاتون کے ساتھ گاڑی میں فرار ہو رہا تھا کہ پولیس نے ناکہ بندی کر کے اسے پکڑ لیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/300836128c625b9.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/300836128c625b9.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ایک عینی شاہد نے بتایا کہ پولیس نے گاڑی کو رکنے کا کہا اور پھر اس کے ٹائر پر فائرنگ کر دی، جس کے بعد پولیس والوں نے انہیں سڑک پر لٹا کر گرفتار کر لیا۔</p>
<p>اس واقعے کے بعد علاقے میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا اور پاس ہی موجود اسکول کے بچوں کو ان کے والدین نے اپنے گھروں کو منتقل کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506927</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 08:37:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/30083433be48e74.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/30083433be48e74.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
