<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 14:12:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 30 Jun 2026 14:12:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی حکومت کا دباؤ؟ اسلام قبول کرنے والے آیوش ملک نے دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرلیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506945/government-pressure-ayush-malik-who-had-converted-to-islam-re-embraces-hinduism</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع شاملی سے تعلق رکھنے والے آیوش ملک نے اسلام قبول کرنے کے چند برس بعد دوبارہ ہندو مذہب (سناتن دھرم) اختیار کر لیا ہے۔ اس معاملے نے علاقے میں خاصی توجہ حاصل کی تھی، جبکہ اس سے متعلق مقدمہ اب بھی زیرِ تفتیش ہے&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے کی ابتدا 2018 میں ہوئی، جب آیوش ملک کی ملاقات علاج کے دوران ایک اسپتال میں فزیو تھراپسٹ چاندنی قریشی سے ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوئے اور بعد ازاں انہوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس رپورٹ کے مطابق آیوش ملک کو 2023 میں دہلی لے جایا گیا، جہاں انہوں نے اسلام قبول کیا، اپنا نام محمد علی رکھا اور نکاح کیا گیا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران نکاح کا کوئی سرکاری سرٹیفکیٹ نہیں ملا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آیوش نے داڑھی رکھ لی تھی اور پانچ وقت کی نماز بھی ادا کرنے لگے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506832/a-13-year-old-girl-has-made-history-by-becoming-the-first-heir-crown-princess-of-a-royal-family-in-rajasthan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506832"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس دوران آیوش مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ انہوں نے اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کیا تھا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا، ”مجھے بچپن ہی سے اسلام کی طرف رغبت تھی۔ میں نے تقریباً چار سال پہلے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور اپنی پسند سے چاندنی قریشی سے شادی کی۔ ہم دونوں بالغ ہیں اور قانون کے مطابق اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق رکھتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آیوش کے والد دیوراج ملک نے پولیس میں شکایت درج کرائی کہ چاندنی قریشی اور ان کے والد اسلام قریشی نے مبینہ طور پر ان کے بیٹے کا ذہن تبدیل کیا اور ایک منصوبہ بندی کے تحت اسے اسلام قبول کروایا تاکہ خاندان کی کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد پر قبضہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والد کی شکایت کے بعد اتر پردیش پولیس نے ریاست کے غیر قانونی مذہب تبدیلی سے متعلق قانون کے تحت مقدمہ درج کیا اور چاندنی قریشی اور ان کے والد کو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا، جو تاحال جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506688/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506688"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اب اس کیس میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ آیوش ملک کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں وہ ہندو رسم و رواج کے مطابق پوجا پاٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں انہوں نے کہا، ”میں نے اسلام قبول کیا تھا اور اپنا مذہب تبدیل کیا تھا، لیکن اپنے خاندان کے دکھ اور تکلیف کو دیکھنے کے بعد میں نے اپنی آزاد مرضی سے دوبارہ سناتن دھرم اختیار کر لیا ہے۔ اب میں اپنے خاندان کے ساتھ ان کی حفاظت اور دیکھ بھال میں رہنا چاہتا ہوں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آیوش کے والد دیوراج ملک نے بھی میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ان کے بیٹے نے دوبارہ باقاعدہ طور پر سناتن دھرم اختیار کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس معاملے سے متعلق درج مقدمہ اب بھی زیرِ تفتیش ہے اور مذہب کی تبدیلی، مبینہ دباؤ یا سازش سے متعلق الزامات پر عدالت کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے تمام الزامات قانونی طور پر تاحال زیرِ سماعت ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع شاملی سے تعلق رکھنے والے آیوش ملک نے اسلام قبول کرنے کے چند برس بعد دوبارہ ہندو مذہب (سناتن دھرم) اختیار کر لیا ہے۔ اس معاملے نے علاقے میں خاصی توجہ حاصل کی تھی، جبکہ اس سے متعلق مقدمہ اب بھی زیرِ تفتیش ہے</strong>۔</p>
<p>اس معاملے کی ابتدا 2018 میں ہوئی، جب آیوش ملک کی ملاقات علاج کے دوران ایک اسپتال میں فزیو تھراپسٹ چاندنی قریشی سے ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوئے اور بعد ازاں انہوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>پولیس رپورٹ کے مطابق آیوش ملک کو 2023 میں دہلی لے جایا گیا، جہاں انہوں نے اسلام قبول کیا، اپنا نام محمد علی رکھا اور نکاح کیا گیا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران نکاح کا کوئی سرکاری سرٹیفکیٹ نہیں ملا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آیوش نے داڑھی رکھ لی تھی اور پانچ وقت کی نماز بھی ادا کرنے لگے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506832/a-13-year-old-girl-has-made-history-by-becoming-the-first-heir-crown-princess-of-a-royal-family-in-rajasthan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506832"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس دوران آیوش مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ انہوں نے اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کیا تھا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا، ”مجھے بچپن ہی سے اسلام کی طرف رغبت تھی۔ میں نے تقریباً چار سال پہلے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور اپنی پسند سے چاندنی قریشی سے شادی کی۔ ہم دونوں بالغ ہیں اور قانون کے مطابق اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق رکھتے ہیں۔“</p>
<p>دوسری جانب آیوش کے والد دیوراج ملک نے پولیس میں شکایت درج کرائی کہ چاندنی قریشی اور ان کے والد اسلام قریشی نے مبینہ طور پر ان کے بیٹے کا ذہن تبدیل کیا اور ایک منصوبہ بندی کے تحت اسے اسلام قبول کروایا تاکہ خاندان کی کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد پر قبضہ کیا جا سکے۔</p>
<p>والد کی شکایت کے بعد اتر پردیش پولیس نے ریاست کے غیر قانونی مذہب تبدیلی سے متعلق قانون کے تحت مقدمہ درج کیا اور چاندنی قریشی اور ان کے والد کو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا، جو تاحال جاری ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506688/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506688"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اب اس کیس میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ آیوش ملک کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں وہ ہندو رسم و رواج کے مطابق پوجا پاٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>ویڈیو میں انہوں نے کہا، ”میں نے اسلام قبول کیا تھا اور اپنا مذہب تبدیل کیا تھا، لیکن اپنے خاندان کے دکھ اور تکلیف کو دیکھنے کے بعد میں نے اپنی آزاد مرضی سے دوبارہ سناتن دھرم اختیار کر لیا ہے۔ اب میں اپنے خاندان کے ساتھ ان کی حفاظت اور دیکھ بھال میں رہنا چاہتا ہوں۔“</p>
<p>آیوش کے والد دیوراج ملک نے بھی میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ان کے بیٹے نے دوبارہ باقاعدہ طور پر سناتن دھرم اختیار کر لیا ہے۔</p>
<p>تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس معاملے سے متعلق درج مقدمہ اب بھی زیرِ تفتیش ہے اور مذہب کی تبدیلی، مبینہ دباؤ یا سازش سے متعلق الزامات پر عدالت کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے تمام الزامات قانونی طور پر تاحال زیرِ سماعت ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506945</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 13:16:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/30110113c5e0b6d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/30110113c5e0b6d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
