<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 14:44:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 01 Jul 2026 14:44:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بڑے مقدمے سے پہلے ہی ٹک ٹاک نے گھٹنے ٹیک دیے؛ کم عمر مدعی کے ساتھ تصفیے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506972/tiktok-socialmedia-mentalhealth-teenlawsuit-california-bytedance</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا میں سوشل میڈیا کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اثرات سے متعلق جاری قانونی مقدمات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے ایک 15 سالہ لڑکے کی جانب سے دائر مقدمہ عدالت سے باہر نمٹانے کے لیے اصولی طور پر سمجھوتہ کر لیا ہے، تاہم معاہدے کی حتمی شرائط ابھی طے ہونا باقی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/tiktok-settles-with-minor-plaintiff-ahead-second-individual-trial-over-social-2026-06-30/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt; مقدمہ فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ لڑکے نے دائر کیا تھا، جس کی شناخت قانونی تقاضوں کے تحت صرف ”آر کے سی“ کے ابتدائی حروف سے ظاہر کی گئی ہے۔ نوجوان کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرم مورگن اینڈ مورگن کے مطابق فریقین کے درمیان اصولی اتفاق ہو چکا ہے، تاہم معاہدہ ابھی مکمل طور پر حتمی نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506516'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عدالتی دستاویزات کے مطابق درخواست گزار نے تقریباً آٹھ سال کی عمر میں سوشل میڈیا استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ وہ ان پلیٹ فارمز کا عادی ہو گیا، جس کے باعث اس کی نیند متاثر ہوئی اور وہ ڈپریشن اور بے چینی جیسے مسائل کا شکار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں ابتدا میں چار بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، یعنی ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ کو فریق بنایا گیا تھا۔ یوٹیوب جون میں مقدمہ نمٹانے پر رضامند ہو گیا تھا، جبکہ میٹا اور اسنیپ چیٹ کے خلاف مقدمے کی سماعت 27 جولائی سے شروع ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/0110584253194ae.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/0110584253194ae.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ کیلیفورنیا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف دائر ان ہزاروں مقدمات میں شامل ہے، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان پلیٹ فارمز کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ بچے اور نوجوان زیادہ سے زیادہ وقت ان پر گزاریں، جس سے ان کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا کی ریاستی عدالتوں میں اس وقت ایسے 3,300 سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں، جبکہ وفاقی عدالتوں میں بھی تقریباً 2,600 مقدمات مختلف افراد، اسکولوں، مقامی حکومتوں اور ریاستی اداروں کی جانب سے دائر کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492633'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492633"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سوشل میڈیا کمپنیاں ان الزامات کو مسترد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بچوں اور کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات کر رہی ہیں اور اپنے پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل مارچ میں اسی نوعیت کے پہلے مقدمے میں جیوری نے میٹا اور گوگل کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے بالترتیب 42 لاکھ اور 18 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ جون میں عدالت نے دونوں کمپنیوں کی جانب سے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا میں سوشل میڈیا کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اثرات سے متعلق جاری قانونی مقدمات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے ایک 15 سالہ لڑکے کی جانب سے دائر مقدمہ عدالت سے باہر نمٹانے کے لیے اصولی طور پر سمجھوتہ کر لیا ہے، تاہم معاہدے کی حتمی شرائط ابھی طے ہونا باقی ہیں۔</strong></p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/tiktok-settles-with-minor-plaintiff-ahead-second-individual-trial-over-social-2026-06-30/">رائٹرز کے مطابق</a> مقدمہ فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ لڑکے نے دائر کیا تھا، جس کی شناخت قانونی تقاضوں کے تحت صرف ”آر کے سی“ کے ابتدائی حروف سے ظاہر کی گئی ہے۔ نوجوان کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرم مورگن اینڈ مورگن کے مطابق فریقین کے درمیان اصولی اتفاق ہو چکا ہے، تاہم معاہدہ ابھی مکمل طور پر حتمی نہیں ہوا۔</p>
<p>ٹک ٹاک نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506516'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عدالتی دستاویزات کے مطابق درخواست گزار نے تقریباً آٹھ سال کی عمر میں سوشل میڈیا استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ وہ ان پلیٹ فارمز کا عادی ہو گیا، جس کے باعث اس کی نیند متاثر ہوئی اور وہ ڈپریشن اور بے چینی جیسے مسائل کا شکار ہوا۔</p>
<p>مقدمے میں ابتدا میں چار بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، یعنی ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ کو فریق بنایا گیا تھا۔ یوٹیوب جون میں مقدمہ نمٹانے پر رضامند ہو گیا تھا، جبکہ میٹا اور اسنیپ چیٹ کے خلاف مقدمے کی سماعت 27 جولائی سے شروع ہونے کی توقع ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/0110584253194ae.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/0110584253194ae.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ مقدمہ کیلیفورنیا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف دائر ان ہزاروں مقدمات میں شامل ہے، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان پلیٹ فارمز کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ بچے اور نوجوان زیادہ سے زیادہ وقت ان پر گزاریں، جس سے ان کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا کی ریاستی عدالتوں میں اس وقت ایسے 3,300 سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں، جبکہ وفاقی عدالتوں میں بھی تقریباً 2,600 مقدمات مختلف افراد، اسکولوں، مقامی حکومتوں اور ریاستی اداروں کی جانب سے دائر کیے جا چکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492633'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492633"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب سوشل میڈیا کمپنیاں ان الزامات کو مسترد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بچوں اور کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات کر رہی ہیں اور اپنے پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل کام جاری ہے۔</p>
<p>اس سے قبل مارچ میں اسی نوعیت کے پہلے مقدمے میں جیوری نے میٹا اور گوگل کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے بالترتیب 42 لاکھ اور 18 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ جون میں عدالت نے دونوں کمپنیوں کی جانب سے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506972</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 11:19:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/011110438041e56.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/011110438041e56.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
