<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 19:46:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 01 Jul 2026 19:46:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف ایکشن: جون میں مختلف وزارتوں کے 130 افسران گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507038/saudi-anti-corruption-authority-arrests-130-suspects-in-june</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب میں سرکاری وزارتوں کے نگران اور اینٹی کرپشن ادارے ’نزاہہ‘ نے اپنی تازہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ادارے نے جون 2026 کے دوران اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت ستانی جیسے الزامات پر مختلف محکموں کے 130 ملازمین اور افسران کو گرفتار کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نزاہہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جون کے مہینے میں انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تحقیقات کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق تفتیشی ٹیموں نے مختلف وزارتوں کے 1585 خفیہ اور اعلانیہ دورے کیے اور 383 مشتبہ سرکاری اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی۔ شواہد ملنے پر سعودی عرب کے قانونِ فوجداری کے تحت 130 افراد کو باقاعدہ حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان میں سے بعض افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق زیرِ تفتیش افراد پر اختیارات کے ناجائز استعمال، رشوت ستانی اور مالی خرد برد کے سنگین الزامات ہیں، جن کے بعد انہیں قانونی کارروائی اور ٹرائل کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نزاہہ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے ملازمین میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ دفاع، وزارتِ صحت، وزارتِ بلدیات و ہاؤسنگ اور وزارتِ اسلامی امور کے افراد شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/nazaha_gov_sa/status/2072213637125624193'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/nazaha_gov_sa/status/2072213637125624193"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سعودی عرب میں اس ادارے کی بنیاد 2011 میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزکے دور میں ’نیشنل اینٹی کرپشن کمیشن‘ کے نام سے رکھی گئی تھی۔ تاہم دسمبر 2019 میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے لا محدود اختیارات کے ساتھ اسے ’کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی‘ کا نام دیا گیا تھا جو اب عوامی سطح پر ’نزاہہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سعودی عرب کا اعلیٰ ترین اور خود مختار احتسابی اور نگران ادارہ ہے جو براہِ راست سعودی فرمانروا کو جواب دہ ہے اور اس کا بنیادی مقصد سرکاری و نجی شعبوں میں مالی شفافیت، دیانت داری اور قانون کی بالادستی قائم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نزاہہ کا دائرہ اختیار صرف عام ملازمین تک محدود نہیں بلکہ یہ وزراء، اعلیٰ شاہی عہدیداروں، شہزادوں اور مسلح افواج کے افسران کے خلاف بھی کارروائی کا مجاز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے عوام کے لیے ایک ہاٹ لائن نمبر 980 اور آن لائن پورٹل بھی قائم کر رکھا ہے، جہاں کوئی بھی شہری یا غیر ملکی مقیم، کرپشن یا رشوت ستانی کی رپورٹ درج کروا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب میں سرکاری وزارتوں کے نگران اور اینٹی کرپشن ادارے ’نزاہہ‘ نے اپنی تازہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ادارے نے جون 2026 کے دوران اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت ستانی جیسے الزامات پر مختلف محکموں کے 130 ملازمین اور افسران کو گرفتار کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>نزاہہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جون کے مہینے میں انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تحقیقات کی گئیں۔</p>
<p>بیان کے مطابق تفتیشی ٹیموں نے مختلف وزارتوں کے 1585 خفیہ اور اعلانیہ دورے کیے اور 383 مشتبہ سرکاری اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی۔ شواہد ملنے پر سعودی عرب کے قانونِ فوجداری کے تحت 130 افراد کو باقاعدہ حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان میں سے بعض افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔</p>
<p>بیان کے مطابق زیرِ تفتیش افراد پر اختیارات کے ناجائز استعمال، رشوت ستانی اور مالی خرد برد کے سنگین الزامات ہیں، جن کے بعد انہیں قانونی کارروائی اور ٹرائل کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>نزاہہ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے ملازمین میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ دفاع، وزارتِ صحت، وزارتِ بلدیات و ہاؤسنگ اور وزارتِ اسلامی امور کے افراد شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/nazaha_gov_sa/status/2072213637125624193'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/nazaha_gov_sa/status/2072213637125624193"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ سعودی عرب میں اس ادارے کی بنیاد 2011 میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزکے دور میں ’نیشنل اینٹی کرپشن کمیشن‘ کے نام سے رکھی گئی تھی۔ تاہم دسمبر 2019 میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے لا محدود اختیارات کے ساتھ اسے ’کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی‘ کا نام دیا گیا تھا جو اب عوامی سطح پر ’نزاہہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ سعودی عرب کا اعلیٰ ترین اور خود مختار احتسابی اور نگران ادارہ ہے جو براہِ راست سعودی فرمانروا کو جواب دہ ہے اور اس کا بنیادی مقصد سرکاری و نجی شعبوں میں مالی شفافیت، دیانت داری اور قانون کی بالادستی قائم کرنا ہے۔</p>
<p>نزاہہ کا دائرہ اختیار صرف عام ملازمین تک محدود نہیں بلکہ یہ وزراء، اعلیٰ شاہی عہدیداروں، شہزادوں اور مسلح افواج کے افسران کے خلاف بھی کارروائی کا مجاز ہے۔</p>
<p>ادارے نے عوام کے لیے ایک ہاٹ لائن نمبر 980 اور آن لائن پورٹل بھی قائم کر رکھا ہے، جہاں کوئی بھی شہری یا غیر ملکی مقیم، کرپشن یا رشوت ستانی کی رپورٹ درج کروا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507038</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 16:57:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/011656176116cc8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/011656176116cc8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
