<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 19:35:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 02 Jul 2026 19:35:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پلیسنٹا اسمگلنگ کیس: انسانی نال سے چہرہ نکھارنے والے انجکشنز بنائے جانے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507187/human-placenta-trafficking-case-investigation-revealed-anti-aging-injections-made-from-it</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں ہیومن پلیسنٹا کیس کی تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انسانی پلیسنٹا مبینہ طور پر کم عمر دکھنے کے لیے لگائے جانے والے اینٹی ایجنگ انجیکشنز کی تیاری میں استعمال ہوتا تھا جب کہ حکام نے ویتنام جانےوالی100 کلو کی کھیپ کی ایکسپورٹ بھی ناکام بنا دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے ہیومن پلیسنٹا اسمگلنگ کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انسانی پلیسنٹا سے تیار کیے گئے اینٹی ایجنگ انجیکشنز یا شاٹس کی قیمت پاکستانی مارکیٹ میں تقریباً 7 لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینٹی ایجنگ انجیکشنز عام طور پر جلد کی رنگت نکھارنے اور بڑھتی عمر کے اثرات، جیسے کہ جھریوں اور لٹکتی ہوئی جلد کو کم کرنے یا چھپانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاہم ان میں بھیڑ یا ہرن کے پلیسنٹا کے اجزاء شامل ہوتے ہیں جو لیبارٹری پراسیسنگ اور طبی اداروں کی منظوری کے بعد مارکیٹ میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پلیسنٹا، جسے عام زبان میں ’نال‘ یا ’آنول نال‘ بھی کہا جاتا ہے، حمل کے دوران ماں کے رحم میں بننے والا ایک عارضی عضو ہے۔ یہ زچگی تک ماں اور بچے کے درمیان لائف لائن کا کردار ادا کرتا ہے۔ طبی قوانین کے مطابق اسے انفیکشیئس میڈیکل ویسٹ (طبی فضلہ) مانا جاتا ہے اور اسے مخصوص طریقوں سے تلف کیا جانا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے قانون کے مطابق کسی بھی انسانی عضو یا ٹشو کی تجارتی خرید وفروخت، اسمگلنگ یا اسے بیوٹی پروڈکٹس کے لیے پروسیس کرنا سنگین جرم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے دوران ایف آئی اے نے لاہور، پشاور اور راولپنڈی میں اس گھناؤنے کاروبار میں مبینہ ایجنٹس کی نشاندہی کر لی ہے جب کہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے ممکنہ کردار کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے ذرائع کے مطابق 100 کلو گرام کی ایک کھیپ کو بھی روک لیا گیا ہے جو ویتنام روانہ کی جارہی تھی۔ دوسری جانب اس کیس میں کسٹمز اہلکاروں کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے کے پہلو کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506852/pakistan-first-major-human-placenta-smuggling-case-what-is-it-and-how-is-it-used'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506852"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 24 جون کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) نے انسانی اعضاء کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت سے متعلق اطلاعات ملنے پر اسلام آباد میں ایک نجی رہائش گاہ پر مشترکہ چھاپہ مارا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تفتیش میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ ملزمان مختلف اسپتالوں سے انسانی پلیسنٹا خریدتے، اسے بھیڑ کا پلیسنٹا ظاہر کرتے اور پھر مبینہ طور پر بیرونِ ملک اسمگل کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں ہیومن پلیسنٹا کیس کی تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انسانی پلیسنٹا مبینہ طور پر کم عمر دکھنے کے لیے لگائے جانے والے اینٹی ایجنگ انجیکشنز کی تیاری میں استعمال ہوتا تھا جب کہ حکام نے ویتنام جانےوالی100 کلو کی کھیپ کی ایکسپورٹ بھی ناکام بنا دی ہے۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے ہیومن پلیسنٹا اسمگلنگ کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انسانی پلیسنٹا سے تیار کیے گئے اینٹی ایجنگ انجیکشنز یا شاٹس کی قیمت پاکستانی مارکیٹ میں تقریباً 7 لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔</p>
<p>اینٹی ایجنگ انجیکشنز عام طور پر جلد کی رنگت نکھارنے اور بڑھتی عمر کے اثرات، جیسے کہ جھریوں اور لٹکتی ہوئی جلد کو کم کرنے یا چھپانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاہم ان میں بھیڑ یا ہرن کے پلیسنٹا کے اجزاء شامل ہوتے ہیں جو لیبارٹری پراسیسنگ اور طبی اداروں کی منظوری کے بعد مارکیٹ میں آتے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ پلیسنٹا، جسے عام زبان میں ’نال‘ یا ’آنول نال‘ بھی کہا جاتا ہے، حمل کے دوران ماں کے رحم میں بننے والا ایک عارضی عضو ہے۔ یہ زچگی تک ماں اور بچے کے درمیان لائف لائن کا کردار ادا کرتا ہے۔ طبی قوانین کے مطابق اسے انفیکشیئس میڈیکل ویسٹ (طبی فضلہ) مانا جاتا ہے اور اسے مخصوص طریقوں سے تلف کیا جانا ضروری ہے۔</p>
<p>پاکستان کے قانون کے مطابق کسی بھی انسانی عضو یا ٹشو کی تجارتی خرید وفروخت، اسمگلنگ یا اسے بیوٹی پروڈکٹس کے لیے پروسیس کرنا سنگین جرم ہے۔</p>
<p>تحقیقات کے دوران ایف آئی اے نے لاہور، پشاور اور راولپنڈی میں اس گھناؤنے کاروبار میں مبینہ ایجنٹس کی نشاندہی کر لی ہے جب کہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے ممکنہ کردار کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>ایف آئی اے ذرائع کے مطابق 100 کلو گرام کی ایک کھیپ کو بھی روک لیا گیا ہے جو ویتنام روانہ کی جارہی تھی۔ دوسری جانب اس کیس میں کسٹمز اہلکاروں کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے کے پہلو کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506852/pakistan-first-major-human-placenta-smuggling-case-what-is-it-and-how-is-it-used'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506852"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ 24 جون کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) نے انسانی اعضاء کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت سے متعلق اطلاعات ملنے پر اسلام آباد میں ایک نجی رہائش گاہ پر مشترکہ چھاپہ مارا تھا۔</p>
<p>ابتدائی تفتیش میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ ملزمان مختلف اسپتالوں سے انسانی پلیسنٹا خریدتے، اسے بھیڑ کا پلیسنٹا ظاہر کرتے اور پھر مبینہ طور پر بیرونِ ملک اسمگل کرتے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507187</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 18:35:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فہد بشیر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/02163940a1167d8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/02163940a1167d8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
