<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 04 Jul 2026 20:40:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 04 Jul 2026 20:40:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیشلز ایوارڈ تنازع کا شکار، مودی کے غیر ملکی اعزازات پر سوالات اٹھ گئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507459/guardian-report-questions-modi-overseas-awards-seychelles</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو غیر ملکی دوروں کے دوران ملنے والے اعزازات پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سیشلز میں انہیں دیا گیا ایک نیا اعزاز ان کی آمد سے محض تین روز قبل متعارف کرایا گیا۔ رپورٹ کے بعد بھارت اور سیشلز میں اس معاملے پر سیاسی اور سفارتی بحث چھڑ گئی، جب کہ بھارتی اپوزیشن نے مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی اخبار ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/world/2026/jul/03/narendra-modi-awards-honours-overseas-trips"&gt;دی گارجین&lt;/a&gt;‘ کے مطابق گزشتہ ہفتے سیشلز کے دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ’گارڈین آف دی بلیو ہورائزن‘ کے نام سے ایک اعلیٰ اعزاز دیا گیا، جو ان کی آمد سے صرف تین روز قبل بنایا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی اس اعزاز کے پہلے اور تاحال واحد وصول کنندہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبار کے مطابق ایوارڈ کے سرٹیفکیٹ میں ’ریپبلک‘ اور ’سیشلز‘ جیسے الفاظ بھی غلط لکھے گئے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بعض آن لائن اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز نے سرٹیفکیٹ کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیشلز کی وزارت خارجہ نے بعد میں وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا سرٹیفکیٹ دراصل ایک ورکنگ ڈرافٹ تھا، جو غلطی سے جاری ہو گیا تھا، جب کہ بعد ازاں منظور شدہ اصل سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا۔ وزارت نے اس اعزاز کو مکمل طور پر مستند قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2073376389927952685'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/clashreport/status/2073376389927952685"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس معاملے پر وزیراعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس رہنما سپریا شریناتے نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں کوئی بھی ایوارڈ دے دیں، وہ دوڑے چلے آئیں گے۔ اپوزیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرٹیفکیٹ میں سیشلز کے سرکاری نام کی غلط املا حکومت کی عجلت کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز بھارت کے لیے باعثِ فخر ہے اور وزیراعظم مودی کو یہ اعزاز ان کی ماحولیاتی قیادت کے اعتراف میں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اب تک کی سب سے شرم ناک خبر ہے۔ انہوں نے لکھا کہ نریندر مودی کو دیا گیا اعزاز ان کی آمد سے محض چند روز قبل بنایا گیا، جب کہ سرٹیفکیٹ میں اے آئی کے استعمال کے آثار اور املا کی واضح غلطیاں بھی سامنے آئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/KhawajaMAsif/status/2073369785073897744'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KhawajaMAsif/status/2073369785073897744"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نوعیت کی منصوبہ بند پذیرائی یا تو سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہے یا پھر خوشامد کی بدترین مثال۔ انہوں نے مزید کہا کہ نریندر مودی کا طرزِ عمل بھارت کے لیے باعثِ شرمندگی بنتا جا رہا ہے اور ایسے واقعات عالمی سطح پر بھی سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران وزیراعظم مودی کے غیر ملکی دوروں میں نئے اعزازات ملنا ایک نمایاں رجحان بن چکا ہے۔ اخبار کے مطابق اسرائیل نے بھی مودی کے دورے سے قبل میڈل آف دی کنیسٹ متعارف کرایا، جس کے پہلے وصول کنندہ بھی مودی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں 2019 کے فلپ کوٹلر صدارتی ایوارڈ کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے پہلے وصول کنندہ نریندر مودی تھے۔ دی گارڈین کے مطابق اس ایوارڈ کو ہر سال کسی قومی رہنما کو دیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد کسی اور شخصیت کو یہ اعزاز نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakTVGlobal/status/2073380884238225545'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakTVGlobal/status/2073380884238225545"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارتی تجزیہ کار نیلانجن مکھوپادھیائے نے دی گارڈین سے گفتگو میں کہا کہ وزیراعظم مودی کو ملنے والے متعدد اعزازات کو ان کی شخصیت پر مبنی سیاست کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے بقول ایسے اعزازوں کا مقصد حامیوں میں یہ تاثر مضبوط کرنا ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ مودی کی قیادت کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’دی گارجین‘ کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ متعدد اعزازات کا مودی کے دوروں سے عین قبل متعارف کرایا جانا، بعض مواقع پر ان کے واحد وصول کنندہ ہونا، اور سرٹیفکیٹس سے متعلق سامنے آنے والی بے ضابطگیوں نے ان اعزازات کی شفافیت اور مقصد پر سوالات کو مزید تقویت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بی جے پی ان تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتی ہے کہ یہ اعزازات وزیراعظم مودی کی عالمی حیثیت، سفارتی سرگرمیوں اور بھارت کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اثر و رسوخ کا اعتراف ہیں، تاہم دی گارجین کی رپورٹ کے بعد مودی کو ملنے والے غیر ملکی اعزازات ایک مرتبہ پھر سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو غیر ملکی دوروں کے دوران ملنے والے اعزازات پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سیشلز میں انہیں دیا گیا ایک نیا اعزاز ان کی آمد سے محض تین روز قبل متعارف کرایا گیا۔ رپورٹ کے بعد بھارت اور سیشلز میں اس معاملے پر سیاسی اور سفارتی بحث چھڑ گئی، جب کہ بھارتی اپوزیشن نے مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔</strong></p>
<p>برطانوی اخبار ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/world/2026/jul/03/narendra-modi-awards-honours-overseas-trips">دی گارجین</a>‘ کے مطابق گزشتہ ہفتے سیشلز کے دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ’گارڈین آف دی بلیو ہورائزن‘ کے نام سے ایک اعلیٰ اعزاز دیا گیا، جو ان کی آمد سے صرف تین روز قبل بنایا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی اس اعزاز کے پہلے اور تاحال واحد وصول کنندہ ہیں۔</p>
<p>اخبار کے مطابق ایوارڈ کے سرٹیفکیٹ میں ’ریپبلک‘ اور ’سیشلز‘ جیسے الفاظ بھی غلط لکھے گئے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بعض آن لائن اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز نے سرٹیفکیٹ کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔</p>
<p>سیشلز کی وزارت خارجہ نے بعد میں وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا سرٹیفکیٹ دراصل ایک ورکنگ ڈرافٹ تھا، جو غلطی سے جاری ہو گیا تھا، جب کہ بعد ازاں منظور شدہ اصل سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا۔ وزارت نے اس اعزاز کو مکمل طور پر مستند قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2073376389927952685'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/clashreport/status/2073376389927952685"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس معاملے پر وزیراعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس رہنما سپریا شریناتے نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں کوئی بھی ایوارڈ دے دیں، وہ دوڑے چلے آئیں گے۔ اپوزیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرٹیفکیٹ میں سیشلز کے سرکاری نام کی غلط املا حکومت کی عجلت کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز بھارت کے لیے باعثِ فخر ہے اور وزیراعظم مودی کو یہ اعزاز ان کی ماحولیاتی قیادت کے اعتراف میں دیا گیا۔</p>
<p>اس معاملے پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اب تک کی سب سے شرم ناک خبر ہے۔ انہوں نے لکھا کہ نریندر مودی کو دیا گیا اعزاز ان کی آمد سے محض چند روز قبل بنایا گیا، جب کہ سرٹیفکیٹ میں اے آئی کے استعمال کے آثار اور املا کی واضح غلطیاں بھی سامنے آئیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/KhawajaMAsif/status/2073369785073897744'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KhawajaMAsif/status/2073369785073897744"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نوعیت کی منصوبہ بند پذیرائی یا تو سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہے یا پھر خوشامد کی بدترین مثال۔ انہوں نے مزید کہا کہ نریندر مودی کا طرزِ عمل بھارت کے لیے باعثِ شرمندگی بنتا جا رہا ہے اور ایسے واقعات عالمی سطح پر بھی سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔</p>
<p>دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران وزیراعظم مودی کے غیر ملکی دوروں میں نئے اعزازات ملنا ایک نمایاں رجحان بن چکا ہے۔ اخبار کے مطابق اسرائیل نے بھی مودی کے دورے سے قبل میڈل آف دی کنیسٹ متعارف کرایا، جس کے پہلے وصول کنندہ بھی مودی تھے۔</p>
<p>رپورٹ میں 2019 کے فلپ کوٹلر صدارتی ایوارڈ کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے پہلے وصول کنندہ نریندر مودی تھے۔ دی گارڈین کے مطابق اس ایوارڈ کو ہر سال کسی قومی رہنما کو دیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد کسی اور شخصیت کو یہ اعزاز نہیں دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakTVGlobal/status/2073380884238225545'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakTVGlobal/status/2073380884238225545"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بھارتی تجزیہ کار نیلانجن مکھوپادھیائے نے دی گارڈین سے گفتگو میں کہا کہ وزیراعظم مودی کو ملنے والے متعدد اعزازات کو ان کی شخصیت پر مبنی سیاست کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے بقول ایسے اعزازوں کا مقصد حامیوں میں یہ تاثر مضبوط کرنا ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ مودی کی قیادت کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>’دی گارجین‘ کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ متعدد اعزازات کا مودی کے دوروں سے عین قبل متعارف کرایا جانا، بعض مواقع پر ان کے واحد وصول کنندہ ہونا، اور سرٹیفکیٹس سے متعلق سامنے آنے والی بے ضابطگیوں نے ان اعزازات کی شفافیت اور مقصد پر سوالات کو مزید تقویت دی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب بی جے پی ان تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتی ہے کہ یہ اعزازات وزیراعظم مودی کی عالمی حیثیت، سفارتی سرگرمیوں اور بھارت کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اثر و رسوخ کا اعتراف ہیں، تاہم دی گارجین کی رپورٹ کے بعد مودی کو ملنے والے غیر ملکی اعزازات ایک مرتبہ پھر سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507459</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jul 2026 18:08:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/0417330939e290b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/0417330939e290b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
