<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Jul 2026 17:44:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Jul 2026 17:44:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے چاند پر پہنچنے میں ناسا کی مدد کیسے کی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507559/how-did-pakistan-help-nasa-reach-the-moon</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کے یومِ آزادی کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر معروف پاکستانی خلائی سائنس دان ڈاکٹر طارق مصطفیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ چاند پر انسان کو اتارنے کے امریکی اپالو مشن کی تیاری میں پاکستان نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان نے بحرِ ہند کی بالائی فضا سے متعلق اہم سائنسی معلومات ناسا کو فراہم کیں، جنہوں نے اپالو پروگرام کو کامیاب بنانے میں معاونت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معروف خلائی سائنس دان ڈاکٹر طارق مصطفیٰ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا اور سوویت یونین کے درمیان خلائی دوڑ شروع ہوگئی تھی۔ سوویت یونین نے 4 اکتوبر 1957 کو دنیا کا پہلا مصنوعی سیارہ سپتنک ون خلا میں بھیجا، جبکہ 12 اپریل 1961 کو یوری گاگرین خلا کا سفر کرنے والے دنیا کے پہلے انسان بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ سوویت کامیابیوں کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے سائنس دانوں کو چیلنج دیا کہ امریکا انسان کو چاند پر پہنچانے کا ہدف حاصل کرے۔ اسی مقصد کے لیے اپالو پروگرام شروع کیا گیا، جس کا مشن انسان کو چاند پر اتار کر بحفاظت زمین پر واپس لانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر طارق مصطفیٰ کے مطابق اپالو مشن کی تیاری کے دوران امریکی سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ بحرِ ہند کے علاقے کی بالائی فضا سے متعلق معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ راکٹ کو زمین کے مدار سے نکل کر چاند کی طرف روانہ کرنے کے لیے ان معلومات کی اشد ضرورت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ناسا نے بحرِ ہند سے ملحقہ ممالک، جن میں پاکستان، بھارت، کینیا اور جنوبی افریقہ شامل تھے، کو راکٹ رینج قائم کرنے اور حاصل ہونے والا ڈیٹا شیئر کرنے کی پیشکش کی۔ ان کے مطابق اس دعوت کا سب سے پہلے جواب پاکستان نے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق مصطفیٰ نے بتایا کہ 1961 میں صدر ایوب خان کے دورۂ امریکا کے دوران ڈاکٹر عبدالسلام نے انہیں ناسا کے ایک اہم اجلاس میں شرکت کی دعوت دی، جہاں اپالو پروگرام میں پاکستان کے تعاون پر بات ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کراچی سے تحقیقی راکٹ داغ کر بحرِ ہند کی بالائی فضا سے متعلق معلومات حاصل کیں اور یہ ڈیٹا ناسا کے ساتھ شیئر کیا۔ ان راکٹوں سے خارج ہونے والے سوڈیم کی مدد سے فضائی حالات کا جائزہ لیا گیا، جس سے اپالو پروگرام کی منصوبہ بندی میں اہم مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر طارق مصطفیٰ کے مطابق یہ تجربہ مقررہ وقت پر مکمل کرنا انتہائی ضروری تھا کیونکہ مون سون کی آمد کی صورت میں پورا منصوبہ ایک سال کے لیے مؤخر ہو سکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 7 جون 1962 کی ڈیڈ لائن سے پہلے کامیابی سے تجربہ مکمل کر لیا، جبکہ اسی نوعیت کے موسمی مسائل بھارت کو درپیش آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ 1960 کی دہائی کے اختتام تک امریکا کا اپالو پروگرام مکمل طور پر تیار ہو چکا تھا اور بالآخر 20 جولائی 1969 کو امریکی خلانورد پہلی بار چاند پر اترنے میں کامیاب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر طارق مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ امریکی حکام نے اس موقع پر پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ایک ترقی پذیر ملک اتنی تیزی اور مؤثر انداز میں اس نوعیت کے سائنسی منصوبے میں اپنا کردار ادا کر سکے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کے یومِ آزادی کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر معروف پاکستانی خلائی سائنس دان ڈاکٹر طارق مصطفیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ چاند پر انسان کو اتارنے کے امریکی اپالو مشن کی تیاری میں پاکستان نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان نے بحرِ ہند کی بالائی فضا سے متعلق اہم سائنسی معلومات ناسا کو فراہم کیں، جنہوں نے اپالو پروگرام کو کامیاب بنانے میں معاونت کی۔</strong></p>
<p>معروف خلائی سائنس دان ڈاکٹر طارق مصطفیٰ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا اور سوویت یونین کے درمیان خلائی دوڑ شروع ہوگئی تھی۔ سوویت یونین نے 4 اکتوبر 1957 کو دنیا کا پہلا مصنوعی سیارہ سپتنک ون خلا میں بھیجا، جبکہ 12 اپریل 1961 کو یوری گاگرین خلا کا سفر کرنے والے دنیا کے پہلے انسان بنے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ سوویت کامیابیوں کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے سائنس دانوں کو چیلنج دیا کہ امریکا انسان کو چاند پر پہنچانے کا ہدف حاصل کرے۔ اسی مقصد کے لیے اپالو پروگرام شروع کیا گیا، جس کا مشن انسان کو چاند پر اتار کر بحفاظت زمین پر واپس لانا تھا۔</p>
<p>ڈاکٹر طارق مصطفیٰ کے مطابق اپالو مشن کی تیاری کے دوران امریکی سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ بحرِ ہند کے علاقے کی بالائی فضا سے متعلق معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ راکٹ کو زمین کے مدار سے نکل کر چاند کی طرف روانہ کرنے کے لیے ان معلومات کی اشد ضرورت تھی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ناسا نے بحرِ ہند سے ملحقہ ممالک، جن میں پاکستان، بھارت، کینیا اور جنوبی افریقہ شامل تھے، کو راکٹ رینج قائم کرنے اور حاصل ہونے والا ڈیٹا شیئر کرنے کی پیشکش کی۔ ان کے مطابق اس دعوت کا سب سے پہلے جواب پاکستان نے دیا۔</p>
<p>طارق مصطفیٰ نے بتایا کہ 1961 میں صدر ایوب خان کے دورۂ امریکا کے دوران ڈاکٹر عبدالسلام نے انہیں ناسا کے ایک اہم اجلاس میں شرکت کی دعوت دی، جہاں اپالو پروگرام میں پاکستان کے تعاون پر بات ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کراچی سے تحقیقی راکٹ داغ کر بحرِ ہند کی بالائی فضا سے متعلق معلومات حاصل کیں اور یہ ڈیٹا ناسا کے ساتھ شیئر کیا۔ ان راکٹوں سے خارج ہونے والے سوڈیم کی مدد سے فضائی حالات کا جائزہ لیا گیا، جس سے اپالو پروگرام کی منصوبہ بندی میں اہم مدد ملی۔</p>
<p>ڈاکٹر طارق مصطفیٰ کے مطابق یہ تجربہ مقررہ وقت پر مکمل کرنا انتہائی ضروری تھا کیونکہ مون سون کی آمد کی صورت میں پورا منصوبہ ایک سال کے لیے مؤخر ہو سکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 7 جون 1962 کی ڈیڈ لائن سے پہلے کامیابی سے تجربہ مکمل کر لیا، جبکہ اسی نوعیت کے موسمی مسائل بھارت کو درپیش آئے تھے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ 1960 کی دہائی کے اختتام تک امریکا کا اپالو پروگرام مکمل طور پر تیار ہو چکا تھا اور بالآخر 20 جولائی 1969 کو امریکی خلانورد پہلی بار چاند پر اترنے میں کامیاب ہوئے۔</p>
<p>ڈاکٹر طارق مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ امریکی حکام نے اس موقع پر پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ایک ترقی پذیر ملک اتنی تیزی اور مؤثر انداز میں اس نوعیت کے سائنسی منصوبے میں اپنا کردار ادا کر سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507559</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Jul 2026 15:11:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/051506241192873.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/051506241192873.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
