<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Jul 2026 21:26:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Jul 2026 21:26:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوپیک پلس نے تیل کی پیداوار میں مزید اضافے کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507578/opec-plus-approves-further-increase-in-oil-production</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اوپیک پلس نے اگست 2026 سے تیل کی پیداوار میں مزید اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ تنظیم کے مطابق یومیہ 1 لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی تیل پیدا کیا جائے گا جب کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات بتدریج بحال ہونے کے باعث عالمی منڈی میں سپلائی بہتر ہونے کی توقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/energy/opec-set-clear-another-oil-output-increase-sources-say-2026-07-05/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق اوپیک پلس نے اتوار کو ہونے والے آن لائن اجلاس کے بعد جاری بیان میں اعلان کیا کہ اگست سے رکن ممالک کی پیداوار کے ہدف میں یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافہ کیا جائے گا۔ اس سے قبل جون اور جولائی میں بھی اسی حجم کے اضافے کی منظوری دی جا چکی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/OPECSecretariat/status/2073712713046331572?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/OPECSecretariat/status/2073712713046331572?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک، جن میں روس بھی شامل ہے، پر مشتمل اوپیک پلس کے 7 بنیادی رکن ممالک اپریل سے جولائی کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 8 لاکھ بیرل یومیہ اضافی پیداوار کے اہداف مقرر کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، جس سے سعودی عرب، کویت اور عراق سمیت کئی اہم اوپیک پلس ممالک اپنی پیداواری صلاحیت کے مطابق برآمدات نہیں کر سکے، اس لیے پیداوار میں اضافہ زیادہ تر کاغذی حد تک محدود رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504091/uae-leaves-opec-oil-market-global-impact'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق مئی میں تنظیم کی مجموعی پیداوار کم ہو کر 3 کروڑ 31 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی جب کہ فروری میں یہ 4 کروڑ 27 لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون کے دوران متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کی تیل برآمدات بڑھانے کے لیے امریکی کوششوں کے بعد پیداوار میں بتدریج بہتری آنا شروع ہوئی تاہم یہ اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپلائی میں رکاوٹوں کے باوجود عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح پر آ گئی ہیں۔ جمعے کو برینٹ خام تیل تقریباً 72 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا جب کہ حالیہ کشیدگی کے دوران اس کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504109/the-uae-departure-from-opec-oil-prices-worldwide'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504109"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق چینی درآمدات میں کمی، مشرق وسطیٰ سے باہر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات میں اضافہ اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی جانب سے اسٹریٹجک ذخائر کے ریکارڈ اجرا نے بھی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت نے بھی تاجروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں تیل کی سپلائی معمول پر آ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اوپیک پلس کو تنظیمی سطح پر بھی نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ متحدہ عرب امارات اتحاد سے علیحدگی اختیار کر چکا ہے جب کہ عراق نے اپنی پیداواری کوٹہ بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504487/opec-members-meet-to-set-new-oil-quotas-following-uaes-exit'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504487"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اوپیک پلس کے 7 بنیادی ممالک، جن میں سعودی عرب، روس، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان اور عمان شامل ہیں، 2023 میں طے پانے والی یومیہ 16 لاکھ 50 ہزار بیرل پیداوار میں کٹوتی کو مرحلہ وار ختم کرتے ہوئے پیداوار بڑھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے تخمینے کے مطابق اگست میں نئے اضافے کے بعد بھی ان سات ممالک کے پاس تقریباً 3 لاکھ 79 ہزار بیرل یومیہ پیداوار مزید بحال کرنے کی گنجائش باقی رہے گی۔ اگر 2 اگست کو ہونے والے آئندہ اجلاس میں ستمبر کے لیے بھی اسی نوعیت کے اضافے کی منظوری دی گئی تو 2023 میں کی گئی پیداواری کٹوتی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اوپیک پلس نے اگست 2026 سے تیل کی پیداوار میں مزید اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ تنظیم کے مطابق یومیہ 1 لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی تیل پیدا کیا جائے گا جب کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات بتدریج بحال ہونے کے باعث عالمی منڈی میں سپلائی بہتر ہونے کی توقع ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/energy/opec-set-clear-another-oil-output-increase-sources-say-2026-07-05/">رائٹرز</a> کے مطابق اوپیک پلس نے اتوار کو ہونے والے آن لائن اجلاس کے بعد جاری بیان میں اعلان کیا کہ اگست سے رکن ممالک کی پیداوار کے ہدف میں یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافہ کیا جائے گا۔ اس سے قبل جون اور جولائی میں بھی اسی حجم کے اضافے کی منظوری دی جا چکی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/OPECSecretariat/status/2073712713046331572?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/OPECSecretariat/status/2073712713046331572?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک، جن میں روس بھی شامل ہے، پر مشتمل اوپیک پلس کے 7 بنیادی رکن ممالک اپریل سے جولائی کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 8 لاکھ بیرل یومیہ اضافی پیداوار کے اہداف مقرر کر چکے ہیں۔</p>
<p>تاہم امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، جس سے سعودی عرب، کویت اور عراق سمیت کئی اہم اوپیک پلس ممالک اپنی پیداواری صلاحیت کے مطابق برآمدات نہیں کر سکے، اس لیے پیداوار میں اضافہ زیادہ تر کاغذی حد تک محدود رہا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504091/uae-leaves-opec-oil-market-global-impact'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق مئی میں تنظیم کی مجموعی پیداوار کم ہو کر 3 کروڑ 31 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی جب کہ فروری میں یہ 4 کروڑ 27 لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ تھی۔</p>
<p>جون کے دوران متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کی تیل برآمدات بڑھانے کے لیے امریکی کوششوں کے بعد پیداوار میں بتدریج بہتری آنا شروع ہوئی تاہم یہ اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔</p>
<p>سپلائی میں رکاوٹوں کے باوجود عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح پر آ گئی ہیں۔ جمعے کو برینٹ خام تیل تقریباً 72 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا جب کہ حالیہ کشیدگی کے دوران اس کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504109/the-uae-departure-from-opec-oil-prices-worldwide'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504109"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق چینی درآمدات میں کمی، مشرق وسطیٰ سے باہر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات میں اضافہ اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی جانب سے اسٹریٹجک ذخائر کے ریکارڈ اجرا نے بھی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت نے بھی تاجروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں تیل کی سپلائی معمول پر آ جائے گی۔</p>
<p>ادھر اوپیک پلس کو تنظیمی سطح پر بھی نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ متحدہ عرب امارات اتحاد سے علیحدگی اختیار کر چکا ہے جب کہ عراق نے اپنی پیداواری کوٹہ بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504487/opec-members-meet-to-set-new-oil-quotas-following-uaes-exit'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504487"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اوپیک پلس کے 7 بنیادی ممالک، جن میں سعودی عرب، روس، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان اور عمان شامل ہیں، 2023 میں طے پانے والی یومیہ 16 لاکھ 50 ہزار بیرل پیداوار میں کٹوتی کو مرحلہ وار ختم کرتے ہوئے پیداوار بڑھا رہے ہیں۔</p>
<p>رائٹرز کے تخمینے کے مطابق اگست میں نئے اضافے کے بعد بھی ان سات ممالک کے پاس تقریباً 3 لاکھ 79 ہزار بیرل یومیہ پیداوار مزید بحال کرنے کی گنجائش باقی رہے گی۔ اگر 2 اگست کو ہونے والے آئندہ اجلاس میں ستمبر کے لیے بھی اسی نوعیت کے اضافے کی منظوری دی گئی تو 2023 میں کی گئی پیداواری کٹوتی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507578</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Jul 2026 18:30:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/051827516da1d7d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/051827516da1d7d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
